لبرلز

برادر اعجاز اعوان کا خیال ہے کہ حکومت اور شر پسندوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر عام طور پر "لبرلز" کہلانے والے لوگ خوش نہیں ہے اور وہ حکومت کو اکسا کر خون خرابہ چاہتے ہیں جیسا کہ ان کے لیڈر عمران خان کچھ عرصہ قبل کہہ چکے کہ لبرلز خون چاہتے ہیں ،
                           ----------
ان کی پوسٹ پر کیا گیا میرا ایک کمنٹ اسی حوالے سے !!

"" لبرل ازم اور ملائیت کے درمیان غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرتی ایک انتہائی غیر منطقی تحریر ،
آپ کہتے ہیں "لبرلز نے حکومت کو ہر ممکن تشدد پر اکسانے کی کوشش کی" حالانکہ جب کوئی گروہ ببانگ دہل کھلے عام اعلی عدالتوں کے ججوں کے قتل کے فتوے جاری کرے ، چیف آف آرمی سٹاف کے خلاف کفر کا فتویٰ دے کر فوج کو بغاوت پر اکسائے ، حاضر وزیر اعظم کو کتی کا بچہ کہہ کر مخاطب کرے تو حکومت و ریاست میں ذرا سی بھی ہمت ہو تو مزید تین دن ان فسادیوں کو سڑکوں پر کھلے عام دندںانے کی اجازت ہی کیسے مل جائے ، کسی کا اکسانا تو بہت بعد کی بات ہے ، آپ کو لگتا ہے کہ لوگ تماشا دیکھنے کے شوقین تھے اور انہیں مایوسی ہوئی ، لوگ تماشا دیکھنے کے شوقین نہیں تھے حضور لوگ عقل رکھتے ہیں پچھلی وارداتوں کو یادداشت میں دہرالیتے آپ تو ایسی بات نہ کرتے ، یہ عفریت آج خیر خیریت سے گھر گیا ہے لیکن ان بلند حوصلوں کے ساتھ کہ اگلی دفعہ فتویٰ نہ دے گا بلکہ اہنی پسند کے خلاف آنے والے کسی بھی فیصلے پر اعلی عدالتوں کی دیواریں پھلانگ کر براہ راست ججوں کو ہی راہی ملک عدم بھیجنے کا حوصلہ ساتھ لے کر گیا ہے ، یہ جنونی گروہ آئندہ گلی گلی اپنی عدالتیں لگا کر ساتھ ہی پھانسی گھاٹ چوک میں نصب کرنے کا حوصلہ ساتھ لے کر گیا ہے ، یہاں آپ کی یہ بات کہ انجام اچھا تو سب اچھا سے یوں لگتا ہے کہ بہت محدود دائرے میں دیکھتے ہیں آپ ، اس حساب سے تو ہمیں ہمارا لبرل ازم مبارک جو مستقبل کے اندیشوں کے پیش نظر انہیں سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے ،
کیا اس تمام تر بدمعاشی اور فتاوی کے بعد بھی  ان سے ریاستی معاہدہ کر کے انہیں فاتح کی طرح  گھر بھیجنے والی ریاست جب کہے گی کہ " کسی کو ریاست کی رٹ چیلنج  کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی " تو سچ بتائیں خود آپ کو ہنسی نہ آ جائے گی ۔

محض اپنے لئیے جینا ہو تو کیا اشو ہے پھر بہت سارا جی لئیے ، مسئلہ تو آنے والی نسلوں کا ہے کیا انہیں بھی ایسی ہی مصلحت کوشی کے ساتھ جینا سکھا کر جائیں ۔  کیا ہی شاندار تبصرہ تھا کسی صاحب کا کہ "مجھے یہ ڈر نہیں کہ کل کو میری اولاد مشعال کی جگہ کھڑی ہوسکتی ہے ڈر یہ ہے کہ میری اولاد مشعال کو مارنے والوں  کے ساتھ نہ کھڑی ہو" 

ان تین دنوں میں ایسے ایسے لوگوں کو ان ملوانوں کی حمایت میں سر بکف دیکھا ہے کہ دماغ جھنجھنا جاتا ہے کہ کیسے کیسے پڑھے لکھے کہلانے والے لوگ اس زہر کا شکار ہورہے ہیں ، اور ستم یہ کہ یہ زہر ہماری اگلی نسلوں کو بھی چاٹ جائے گا ""

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری