راشد شاذ
اقوام سابقہ کے وہ موحدین جنھیں قرآن مجید اہل ایمان کے لیے ماڈل کے طور پر پیش کرتا ہے ان میں اصحاب کہف والرقیم کا تذکرہ والہانہ جلالت و عظمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ہر زمانے میں جب اصحاب توحید نے (الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا) کی ریت قائم کی ہے، تائید غیبی ان کی پشت پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اللہ نے نہ صرف یہ کہ اصحاب کہف کی ہر طرح سے حفاظت فرمائی، ان کے ایمان کو اپنے تائید غیبی سے تقویت بخشا بلکہ رہتی دنیا تک اہل ایمان کے لیے اسے ایک درخشاں مثال بنا دیا۔ اس قصے کا لب لباب یہ ہے کہ خدا کی توجہ اور اس کی نصرت کے وہ تمام افراد و گروہ سزاوار ہیں جنھوں نے بلاخوف لومتہ لائم، اس کی نصرت کے سہارے، توحید خالص کا دامن تھام لیا۔
بجائے اس کے کہ اہل ایمان اصحاب کہف کے اس واقعہ میں اپنے ایمان کی تازگی اور اس میں اضافے کا سامان کرتے وہ اس تاریخی سوال میں الجھ کر رہ گئے کہ جن لوگوں کو خدا نے اپنی تائیدِ خاص سے نوازا وہ کون لوگ تھے؟کس زمانے میں پائے جاتے تھے؟ اور یہ کہ ان کا تعلق کس رسول کی امت سے تھا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ان سوالات پر طولانی بحثوں کا سلسلہ چل نکلا۔ کسی نے کہا کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا، کسی نے کہا پانچ اور چھٹا ان کا کتا، کسی نے کہا سات اور آٹھواں ان کا کتا۔ اصحاب کہف میں اس قدر دلچسپی دکھانے والے علماء و مفکرین اصحاب کہف کے اسوہ سے روشنی حاصل کرنے کے بجائے ان ہی اختلافی بحثوں میں الجھ کر رہ گئے۔ اصحاب کہف کی مختلف تعداد کی بنیاد پر اہل ایمان کے درمیان مختلف فرقے وجود میں آ گئے۔ بعض روایتوں کے مطابق عیسائیوں کا ایک فرقہ، جو یعقوبیوں کے نام سے موسوم تھا، وہ اصحاب کہف کی تعداد کو تین بتاتا تھا جبکہ نستوری فرقہ ان اصحاب کی تعداد پانچ اور چھٹا ان کے کتے کو قرار دیتا تھا۔ قرآن نے ان قیاس آرائیوں کو (رجما بالغیب) قرار دے کر یہ بات صاف کر دی ہے کہ اس قسم کی گفتگو غایت وحی سے تعلق نہیں رکھتی اس لیے اس مسئلہ پر کسی قولِ فیصل کی ضرورت نہیں۔
حیرت ہوتی ہے کہ قرآن کی اس تنبیہ کے باوجود ہمارے علماء و مفسرین نے اس قیاسی گپ میں اتنی دلچسپی لی کہ اپنے تخیل کی بنیاد پر ان اصحاب کہف کے نام تک معلوم کر ڈالے اور ان ناموں کے لکھنے اور انہیں ورقِ تعویذ میں محفوظ کرنے کو دافع بلیات قرار دے ڈالا۔ اصحاب کہف والرقیم کے راستے پر چلنے کا تو مسلمانوں میں حوصلہ نہ ہو سکا ہاں بدقسمتی سے یہ ضرور ہوا کہ سلفاً عن خلف اصحاب کہف اور ان کے کتے کے حوالے سے مسلمانوں کے اہل خیر آفات و بلیات سے حفاظت کا سامان کرتے رہے۔ سیوطی نے اپنی کتاب الرحمۃ فی الطب والحکمۃ میں لکھا ہے کہ خبیث روحوں اور جنات سے نجات کے لیے ان ناموں کو مجرب اور مؤثر پایا گیا ہے۔ تذکرۃ الرشید (سوانح رشید احمد گنگوہی) میں بھی اس خیال کی توثیق کی گئی ہے کہ اصحاب کہف اور ان کے کتے کا نام مشکل گھڑیوں میں اہل ایمان کے ڈوبتے بیڑے کو پار لگا سکتا ہے۔ سیوطی کے مطابق اصحاب کہف کے نام یوں ہیں: تملینی، کمسلمنیا، مرطوس، ہبیونس، ساربنوس، اکفشدطنوس اور دونواس۔ کتے کا نام قطمیر یا قطمور ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں