مچھلی
روہو
میٹھے پانی کی مچھلی کی ایک قسم جو زیادہ لمبی نہیں ہوتی مگر ذائقہ کے اعتبار سے تمام مچھلیوں میں سرِفہرست جانی جاتی ہے۔ روہو کا منہ چھوٹا اور اس کے جسم پر چھلکے (سِنّے) ہوتے ہیں۔جن مچھلیوں کو غذائی طور پر حلال تسلیم کیا گیا ہے اُن میں روہو سرِفہرست ہے اور مچھلیوں کی دیگر تمام اقسام میں نہایت ذائقہ دار مچھلی تسلیم کی جاتی ہے۔1845ء میں ہندوستان میں چھپنے والی کتاب "مجمع الفنون" ) میں روہو کو تمام کھانے والی مچھلیوں سے بہتر مچھلی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس مچھلی کے جسم میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ایک ایک بڑا سا کانٹا موجود ہوتا ہے جو کھانے کے دوران باآسانی نکال لیا جاتا ہے اور دوسری مچھلیوں کی طرح اس میں چھوٹے چھوٹے اور باریک کانٹے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے بھی روہو کو پسند کیا جاتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ روہو مچھلی بادشاہوں کی خوراک میں بھی شامل ہوا کرتی تھی اور اپنے ذائقہ اور خوشبو کی وجہ سے ہر دلعزیز تھی، چنانچہ بادشاہوں کے زمانے میں بھی میٹھے پانی کے تالاب بناکر اُن میں روہو کی افزائش نسل کی جاتی تھی آج بھی پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر روہو اور اُس کی ذیلی اقسام مرگل، کتلا یا روہتا کی باقاعدہ افزائش کی جاتی ہے۔ (بحوالہ : "سمکیات" 1975ء ،صفحہ نمبر 74)۔ برّاعظم یورپ ، جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر ان روہتوں (روہو مچھلی) کی افزائش نسل تجارتی مقاصد کے لئے کی جاتی ہے۔ رہو مچھلی اپنے مخروطی جسم اور اُس پر پائے جانے والے زرد، سبز، نیلگوں مائل،سُرخ، گلابی یا سفید سَفتوں (چھلکوں) کی وجہ سے باآسانی پہچان لی جاتی ہے اور اس مچھلی کو نہ صرف غذائی طور پسند کیا جاتا ہے بلکہ صنعتی اعتبار سے بھی اس کی ہڈّیاں‘ کانٹے اور بچ جانے والے گوشت سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جاتا ہے۔ شکاری حضرات جب میٹھے پانیوں میں روہو کا شکار کرنا چاہتے ہیں تو وہ چارہ کے طور پر مینڈک کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ مینڈک پانی کی تہہ میں نہیں بیٹھتا اور وہ اچھلتا رہتا ہے اورروہو کے لئے مینڈک ایک پسندیدہ شکار ہے لہذا وہ باآسانی چارہ نگل لیتی ہے۔
رہو تمام ایشائی ممالک میں عام پائی جاتی ہے ذائقے کے لحاظ سے بہت پسند کی جاتی ہے اس کی خوراک بھی آبی کیڑے اور نباتات ہے
اس کا شکار بھی بہت پرلطف ہے یہ کانٹے میں پھنسنے کے بعد بہت مزاحمت کرتی ہے لمبی لمبی دوڑیں لگا کر شکاری کو پریشان کرتی ہے اس کی ایک عادت اس کو دوسری مچھلیوں سے ممتاز کرتی ہے یہ بعض اوقات پانی کی سطح پر اچھل کر دم ڈوری پر مار کر منہ سے کانٹا نکال دیتی ہے اس کا شکار بہت مہارت کا کام ہے اس کا زیادہ سے زیادہ وزن کا ریکارڈ 45 کلو اور انٹرنیشنل گیم فشنگ ایسوسی ایشن کے مطابق 27 کلو ہے
روہو مچھلی 1۔ کلو 2۔گھی500 ۔ گرام3۔ دہی ۔ 500 ۔گرام 4۔لیموں 3۔ عدد 5۔ بیسن آدھا کپ 6 سرکہ 1۔کپ
قتلوں پر لگانے کا مصالحہ
1۔اجوائن
2۔سونف
3 چھوٹی سرخ مرچ
4 زیرہ سفید
5 کالی مرچ
6 ھلدی
جملہ ایک ایک چمچ
7 مرچوں کا بیج 10 گرام
8 سبز مرچ 5 عدد
ادرک 2 چمچ
پیاز ایک عدد چھوٹا
نوٹ) ۔ )
مصالحہ جات اچھی طرح پیس لیں۔ 1
2. نمبر 8 تا دس انتہائی باریک پیسٹ بنا لیں
ترکیب و تیاری
روہو مچھلی کے قتلے تھوڑی سرکے میں رکھ کر اخبار کے کاغذ سے خشک کر لیں ۔ پھر لیموں کاٹ کر نچوڑ لیں۔ مصالحہ 1 تا6 مچھلی کے قتلوں پر چھڑکر ہاتھ سے مسل دیں ۔ پھر مصالحہ 8 تا 10 لگا دیں۔ اس کے بعد بیسن اور مرچوں کا بیج لگا دیں۔ اب اس کو چار گھنٹے تک فریزر یا فریج کے برف والے خانے میں چار گھنٹے رکھیں۔
اب صاف ستھری کڑاہی اور سوراخ والی کڑچھی لیں ۔ گھی جو نرم آگ پر اچھی طرح گرم کریں۔ چار قتلے ایک وقت میں اکٹھے تلیں۔ اور برؤن ہونے پر نکالتے جائیں اور چھانی پر اخبار رکھ کر اوپر ڈالتے جائیں۔
دہی میں ایک ایک چمچ زیرہ سفید کاغذ ڈال کر مکس کریں اور رائتہ بنائیں۔ تلے ہوئے قتلے رائتہ اور روٹی کے ساتھی کھائیں یا ویسے کھا لیں مزیدار ہو گی۔
Courtesy
اردو انسائیکلوپیڈیا
انتخاب
Sanaullah Khan Ahsan
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں