احمد۔رضا نعت

عثمان قاضی نے کیا ہی بیش قیمت دفینہ دریافت کرڈالا ہے۔

ابھی اس وقت تک بھی میری پسندیدہ ترین نعت ایک ہی ہے جو امام احمد رضا خان بریلوی نے کہی ہے۔ اس نعت کی بحر تو خیر اپنی جگہ، مگر اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چار زبانوں عربی فارسی ہندی اور اردو میں ہے۔ اس سے بھی زیادہ خاص بات یہ ہے کہ ہر شعر ہی چار زبانوں میں ہے۔ پھر چاروں زبانوں میں برتے گئے آدھے آدھے مصرعے اپنے مفہوم میں باہم اس قدر مربوط ہیں کہ عقل دھنگ رہ جائے۔
یہ بات اپنی جگہ کہ چار زبانوں کا ایسا شہکار امام بریلوی کا خاصہ رہا، مگر نعت میں کیے گئے نئی زمینوں اور بحروں کا تجربہ بھی حیران کن ہے۔ یہ واحد کلام ہے جو امام احمد رضا خاں بریلوی نے فرمائش پہ تخلیق کیا ہے، ورنہ مزاج یہ تھا کہ وہی کلام کہنے سے دریغ کرتے جس کی فرمائش کردی جاتی۔ مطلع اورشعر ثانی 

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا
منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیا پار لگا جانا

جو شعر میرا پسندیدہ ہے

انا فی عطش وسخاک اتم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن دھارے رم جھم رم جھم ، دو بوند ادھر بھی گرا جانا

مجھے پتہ ہے نعت آپ سن لیں گے اور پیچھے ایک ہی مصرعہ گونجتا رہ جائے گا، جو آپ گنگنا تے رہیں گے

’’منجدھار میں ہوں  بگڑی ہے ہوا، موری نیّا پار لگا جانا‘‘

عمر بھر یہ نعت سعید ہاشمی سے سنتے رہے اور حیرت سے سر پیٹتے رہے، خیال یہ آتا کہ شاید سعید ہاشمی اسی ایک نعت کو برتنے کے لیے پیدا کیے گئے تھے، اب جب عثمان قاضی نے پٹاری میں ہاتھ ڈال کے نکالا تو پتہ چلا کہ یہ تو ملکہ ترنم نور جہاں نے پڑھی ہے۔ یعنی اب اس نعت کی ایک جو مزید خاص بات ہوئی وہ یہ کہ نورجہاں کی پڑھی ہوئی نعت ہے۔ اس افسوس کے ساتھ شئیر کررہا ہوں کہ اب تک مجھ سے یہ سنی جانی چاہیئے تھی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری