تباہی کا ذمہ دار کون

تباہی کا ذمہ دار کون ؟

پروپیگنڈے نےاسکا ذمہ دار مسلمانوں کوٹہرایا ہے۔حالانکہ تباہی سےسب سےزیادہ متاثر فریق بھی یہی ہے۔
مسلمانوں کےبعدسب سےزیادہ نقصان امریکہ نے اٹھایاہے۔
برطانیہ،روس،چین اورہندوستان وغیرہ بھی اس پوزیش میں نہیں کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
پھر حقیقت میں دہشتگرد کون ہے؟
اسکےلیئےہمیں دیکھنا ہوگا کہ کون ہے کہ جس نےکم سےکم نقصان اٹھا کر سوفیصد فائدہ اٹھایاہے؟

یہ یہودی ہیں جو اقلیت میں ہیں اور ہمیشہ سےانہیں اکثریت پر حکمرانی کا شوق ہے۔
آج پوری دنیا انہی کی سازش کا شکار ہوکرجہنم بن رہی ہے۔
انہوں نے اکثریت کو ہمیشہ متصادم رکھا ہےتاکہ انکی حکمرانی برقرار رہ سکے۔
آج اگر دنیا عظیم سانحہ کا شکار ہوکرغیر محفوظ ہوجائےیا آبی ومعدنی وسائل ناقابل استعمال ہوجائیں تو سب سےبڑا نقصان اکثریت کو ہی ہوگا۔
جبکہ یہودیوں کا نقصان میں حصہ انکی آبادی کے تناسب سےنہایت کم ہوگا۔
دنیا کو غیر محفوظ کرنے میں ہی انکی بقا ہے۔
یہ دنیا کےتمام وسائل کو قبضے میں لیکر آگ تو لگاسکتےہیں۔لیکن اکثریت کےاستعمال کے قابل ہرگز نہیں چھوڑینگے۔

انکا کنٹرول ہمیشہ بالواسطہ ہوتا ہے﴿انکے کچھ شعوری آلئہ کارہیں اورکچھ لاشعوری﴾
یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ امریکہ و یورپی ممالک،نام نہاداسلامی فوجیں،القاعدہ،طالبان اور داعش عرصےسےجاری بےمقصدجنگ کی بھٹی سےنکلیں۔
جنگ کاکوئی فریق اگرصحیح معنوں میں کامیاب ہوگیاتو انکابنابنایاعظیم کھیل بگڑ سکتاہے۔
اسلیئےجنگ کوبھڑکانےکا کوئی نہ کوئی سانحہ آئےروز کسی فریق کے ہاتھوں برپا کروادیتےہیں۔

اس جنگ کوہم کیانام دےسکتے ہیں؟
یہ دہشتگردی کےخلاف نہیں۔۔دہشت وخوف پھیلانےکی جنگ ہے۔
تہذیبی تصادم نہیں۔۔یہودی بالادستی کی جنگ ہے۔
صلیبی جنگ نہیں بلکہ عیسائیوں کو جھانسادےکر بری طرح دلدل میں پھنسادیاگیا ہے۔
غذائی ومعدنی وسائل پرقبضےکی نہیں بلکہ انکوحاصل کرکےتباہ کرنےکی جنگ ہے۔
کفرواسلام کی جنگ نہیں بلکہ کفر کی جانب سےعالم اسلام پرمسلط کی گئی یکطرفہ جنگ ہے۔
ابھی ہم اس جنگ کو کوئی خاص نام نہیں دے سکتے۔یہ آئندہ ہونیوالی تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ہے۔
یکطرفہ ہونےکےباوجود یہ جنگ انتہائی تباہ کن ہے توسوچنے کی بات یہ ہےکہ
جب دوسرا فریق پورے شعور کے ساتھ اپناکردار اداکرنے پرمجبور ہوگا تو صورتحال کتنی تباہ کن ہوگی؟

کیا کوئی انسانیت کو خطرے سے دوچار کرنے والی اس جنگ کوروک سکتا ہے؟
مسلم،عیسائی اورہندو دانشوراپنی اپنی قوم کو پیش آنےوالی عظیم تباہی سےنجات دلاسکتے ہیں؟
ہمارےخیال میں جو آگ لگا دی گئی ہے اسکو روکنا اب کسی کے بس میں نہیں۔
جو کوشش کرےگا اسکو راستےسےہٹاکراسی کےنام پریہ آگ اوربھڑکادی جائےگی۔
پھربھی اسکا منطقی انجام لازمی ہے۔
اکثریت جب اپناسب کچھ کھوکر نتائج پرغورکرےگی توفساد کےذمہ دارعناصر کو چن چن کر صفحئہ ہستی سےمٹادےگی۔
یاپھر ایسی قیادت کا انتظارکرنا ہوگاجو موجودہ صورتحال میں مئوثرلائحہ عمل ترتیب دے کر دنیاکوتباہی کے عظیم خطرےسےبچاسکے۔
یوں بھی آج مسلمان ،عیسائی اور خود یہودی بھی اپنے نجات دہندہ کےمنتظر ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم