علوم کی تقسیم قاری حنیف
Qari Hanif Dar
December 1, 2013 at 12:12 AM
اللہ پاک نے جب انسان کو پیدا فرمانے کا اعلان فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ مالک کیا ھم سے عبادت میں کوئی کوتاھی ھو گئ جو نئی تخلیق کی ضرورت پڑی ؟،ھم صبح شام آپکی تسبیح و تحمید کر تو رھے ھیں، ارشاد باری تعالی ھوا کہ میں وہ جانتا ھوں جو تم نہیں جانے،، انسان جب بن گیا تو وقت آیا کہ فرشتوں کو ان کے سوال کا عملی جواب بھی دیا جائے کہ نئی مخلوق میں کچھ ایسے فنکشن ھیں جو سابقہ مخلوقات میں نہیں تھے، تخلیق کا یہ نیا شاہکار اپنے اندر پوری کائنات رکھتا تھا،، زمین پر خلیفہ چاھئے تو اُسے زمین پر قابو پانے والا اور قبضہ جمانے والی صلاحیتوں سے مالا مال ھو نا چاھئے تھا، علم الاسماء کی کلاس لگی اور فزکس کیمسٹری سب کو ھی پڑھائی گئ مگر،فرشتوں کے تو وہ سر سے ھی گزر گئ اللہ پاک نے فرشتوں سے سوال کیا کہ جوچیزیں اور نام آپ کو پڑھائے گئے تھے ذرا سنا دیجئے، فرشتوں نے سبحان اللہ و بحمدہ سنایا اور کہا کہ ھمیں تو سوائے اس کے جو آپ نے پہلے پڑھایا تھا اور کچھ یاد نہیں- اس پر خالق نے آدم علیہ السلام کی طرف متوجہ ھو کر فرمایا اے آدم ذرا سنا دے ان چیزوں کے نام اور ان کے خواص ان فرشتوں کو، اور آدم علیہ السلام نے سارے فارمولے اور ساری ویلینسیاں سنا دیں،، بَیس اور ایسڈ بھی بتا دیا،، اب اللہ پاک نے فخریہ انداز میں فرشتوں سے خطاب فرمایا کہ میں نے تم سے کہا تھا ناں کہ جو میں جانتا ھوں وہ تم نہیں جانتے؟ حضرات جو علم اللہ پاک نے سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو سکھایا تھا وہ وھی مظلوم علم ھے جسے آج کل علماء یہودی علم،کافر علم، دنیاوی علم کہتے اورطرح طرح سے اس کی اھانت اور مخالفت کرتے ھیں،، حالانکہ یہ اس دوسرے علم سے پہلے سکھایا گیا جس پر ھمارے علماء برا ناز کرتے ھیں اور اسے مقدس علم کہتے ھیں،، اور اسی علم الاسماء کی وجہ سے آدم علیہ السلام نے فرشتوں پراپنی فوقیت ثابت کی تھی ، فرشتوں اور آدم علیہ السلام کے درمیان مقابلہ دعائے قنوت سنانے یا چھ کلمے سنانے کا نہیں ھوا تھا،نہ غسل اور وضو کے فرض پوچھے گئے تھے اور نہ نماز کے ارکان و شرائط !
علم کی دوسری قسم وہ تھی،جسے حلال وحرام کا علم کہتے ھیں جسے شریعت کہتے ھیں،، اور یہ مقابلہ اب آدم علیہ السلام اور شیطان کے درمیان تھا،، اور ستم ظریفی دیکھئے کہ سائنسدان آدم علیہ السلام شریعت کے پرچے میں چاروں شانے چت ھو گئے،، گویا جس علم میں آدم جیت گئے وہ ھو گیا منحوس ( ھمارے علماء کے نزدیک) اور جس میں ھار گئے آج تک اس کا نتیجہ بدلنے کی سعی کر رھے ھیں ھم لوگ ! اللہ پاک نے واضح کر دیا کہ آدم آپ سائنس کے زور پر علم الاسماء کے زور پر زمین پر قبضہ تو کر سکتے ھو،مگر اس زمین کو عدل و اںصاف سے چلانے کے لئے ایک اور علم کی ضرورت ھے،جسے علم الہدی کہتے ھیں اور ڈاؤن لؤڈ کرنا پڑے گا آپ کو( عربی میں ڈاؤن لوڈ کے خانے میں تنزیل لکھا ھوتا ھے) اب اس شیطان کے مقابلے کے لئے ھر زمانے میں آپ کو ھدایات بھیجی جاتی رھیں گی اور اگر آپ ان اپ ڈیٹس کو انسٹالٹ کرتے رھے تو تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں لا خوفٓ علیھم ولا ھم یحزنون !
ان دونوں علوم کو ابن خلدون نے کچھ یوں تقسیم کیا ھے کہ " علم کی دو قسمیں ھیں جو دونوں مل کر ھی العلم کہلاتی ھیں،،ان میں سے ایک قسم لولا لنگڑا علم ھو گا، العلم نہیں ھوگا،جس طرح انسان جسم اور روح کے مجموعے کا نام ھے،ان میں سے ایک بھی رخصت ھو جائے تو لامحالہ دوسرا اپنی اھمیت کھو دیتا ھے، العلمُ علمان،علم الابدان و علمُ الادیان،، العلم دو علم ھیں دی نالج آف فزیکل سائنسیز اینڈ دی نالج آف نارمیٹو سائنسیز !! دونوں علوم اللہ کے تعلیم کردہ اور مقدس ھیں ایک انسان کے اندر رکھ دیا ھے،جو اس پہ محنت کرتا ھے ،بلاتفریق دین و ملت وہ اس میں مہارت حاصل کرتا ھے،کیونکہ وہ چاھے کسی مذھب سے تعلق رکھتا ھو وہ بیٹا آدم علیہ السلام کا ھی ھے اور اس مٹی کا حصہ ھے جس میں علم الاسماء ودیعت کیا گیا تھا،،اس علم کے نتائج کو اچھائی اور برائی دونوں کے لئے برابر استعمال کیا جا سکتا ھے،جس طرح اللہ کی تخلیق کردہ دیکھنے، سننے ،بولنے اور سوچنے،پلاننگ کرنے اور عمل کرنے کی صلاحیتوں کو منفی یا مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ھے،اگر اللہ ان صلاحیتوں کو پیدا کر کے ان کے منفی استعمال کا الزام اپنے سر نہیں لیتا،اسی طرح سائنسی ایجادات کے منفی استعمال کی بنیاد پر سائنسی علوم کے تقدس کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جن لائٹوں سے روم کے جؤا خانے اور کسینو دمک رھے ھیں ،اسی کمپنی کی لائٹوں سے مکی حرم اور مدنی حرم جگ مگ کر رھے ھیں،، جس ساؤنڈ سسٹم سے جاز اور ڈسکو چل رھے ھیں اسی ساؤںڈ سسٹم سے حرمین کی نمازیں اور تراویح کی روح پرور صدائیں ساری دنیا سنتی ھے !
جب بھی کوئی تقسیم جنم لیتی ھے چاھے وہ ملکوں مین ھو یا گھروں میں ھو یا علمی اصطلاحات میں ھو وہ ضرور اپنے سائڈ افیکٹس دکھاتی ھے، علم کی تقسیم کا منظر آپ دیکھ چکے،مگر اس کی بنیاد کس نے ڈالی وہ پہلا مجرم کون تھا ؟ کیونکہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ان دونوں علوم کو دینی علوم ھی کہتے ھیں،، نبی کریمؐ نے جب مکے کے قیدیوں سے یہ معاھدہ کیا کہ ان میں سے پڑھے لکھے قیدی اگر ھمارے دس آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو ان سے فدیہ نہیں لیا جائے گا تو وہ کونسا علم تھا؟ جامعہ بنوریہ والا تو خود حضورؐ کے پاس تھا،، کیا مکے کے مشرکوں نے مسلمان طالبِ علموں کو حدیث کی قسمیں اور اصطلاحات سکھانی تھی یا بغدادی قاعدہ پڑھانا تھا؟؟؟ وہ کون سا علم تھا جس سے مدینے والوں کے سینے منور کرنے کے لئے نبیؐ معاھدہ کر کے اپنی موجودگی کے باوجود کافروں سے وہ علم اپنی امت کو سکھانا چاھتے تھے؟؟ وہ علم جو نبی سکھانے کا معاھدہ کریں ناپاک کیسے ھو گیا ؟ اگر مکے کا مشرک پڑھائے تو نبیؐ کو قبول،مگر مسٹر جارج پڑھائے تو مفتی ایکس وائی زیڈ کو نامنظور ؟ الغرض اللہ کو بھی علم الاسماء پر کوئی اعتراض نہیں اور نبیؐ پاک نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ اگر علم الاسماء کافر بھی پڑھائے تو نبیؐ کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ انعام میں کافر کو کفر کے باوجود بری بھی کیا جاتا ھے،( سر نہیں اتار جاتا ) یہ کام سب سے پہلے کس نے کیا اور کس کس مرحلے سے گزرا اس پر ان شاء اللہ کل کچھ عرض کروں گا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں