تذکرہ غوثیہ


يہ تبصرہ تذکرہ غوثیہ نامی کتاب کے اوپر ہے اسے حضرت غوث علی شاہ صاحب کی ذات پر نہ سمجھا جائے۔

حضرت غوث علی شاہ قلندر کے ملفوظات کو پڑہنے کے لیے بہت سے لوگوں کی فرمائش تھی۔ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ برصغیر میں وحدت الوجود کی روایت کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ ایک صاحب نے تو جوش میں یہ تک کہہ دیا کہ یہ کتاب فصوص الحکم کی شرح ہے۔

حسب فرمائش اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔ یہ اک واقعاتی کتاب ہے۔ بس قصے کہانیاں ہیں جن میں سے آدھے غوث علی شاہ صاحب کے ساتھ پیش آٓے اور باقی وہ نقل کرتے ہیں۔ ان قصے کہانیوں کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ بس غوث علی شاہ صاحب جس قصے سے جو بات نکالنا چاہتے ہیں نکال لیتے ہیں اور بعض اوقات ایک قصے سے دو نتیجے بھی نکالتے ہیں جو ایک دوسرے کے متضاد ہوتے ہیں۔ 

کتاب میں کوئی بھی بات حوالے کے ساتھ نہیں۔ اگرچہ کہیں کہیں قرآن کی آیات اور احادیث نبویہ صلي اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن نہ ہونے کے برابر۔ کتاب میں توحید کا ایک باب بھی قائم کیا گیا ہے جس میں اہل توحید کے مقالات بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ مقالات اتنے ہی متنوع اور مختلف ہیں جتنی اہل توحید کی اقسام ہیں۔ یعنی آپ یہ پورا باب پڑھ لینے کے بعد بھی سمجھ نہیں سکتے کہ حضرت کس توحید کی بات کرتے ہیں۔ شاید انہوں نے اپںا نقطہ نظر نہیں دیا بس قاری پر چھوڑ دیا کہ وہ خود اپنی توحید سمجھ لے۔

ایک باب تصوف کی چند اصطلاحات پر بھی مبنی ہے۔ میرے خیال میں یہی اس کتاب کا سب سے بہترین باب ہے جہاں کم از کم آپ نے قاری کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ان اصطلاحات کی حقیقت بیان کی ہے۔ 

اگر مجموعی طور پر کتاب کو دیکھا جائے تو اس میں باتیں اور واقعات متضاد ہیں۔ کبھی اہل اللہ اور اللہ کے رسولوں کی رفعت اور عظمت کا بیان ہے تو کہیں ابلیس و شیطان کی مدح سرائی کی گئی ہے۔ بعض اوقات کو انبیائے کرام کو بھی اصل حقائق سے لا بلد بتایا گیا ہے۔ کچھ مقامات پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان ہی اللہ کا سب سے بڑا عاشق ہے۔ 

میری ذاتی رائے میں یہ کتاب نہ اصلاح کی کتاب ہے اور نہ حقائق کی۔ یہ قصے اور کہانیوں اور ان سے دلیل لینے والوں کی مرغوب کتاب ہے۔ اس کتاب میں آپ کو ہر طرح کا قصہ ملے گا۔ چاہے تو شیطان کی تعریف کریں۔ چاہے رحمن کی۔ چاہے رسولوں کو دوش ٹھہرائیں چاہے خدا کو۔ کبھی بندہ محتاج ہے اور کبھی بندہ ہی سب کچھ ہے۔ 

اچھا یہ بات بھی عجیب ہے کہ خود غوث علی شاہ اس کتاب میں اپنے بارے میں متضاد باتیں کرتے ہیں۔ جب ایک بزرگ نے ان سے پوچھا کہ آپ ہمہ اوست کیوں نہیں کہتے تو کہتے ہیں جو کہتے ہیں وہ قالی اور خالی ہیں۔ اور جو حالی ہیں وہ نہیں کہتے۔ اور دوسرا میں طالب ہوں اگر ہمہ اوست کہوں گا تو کس کی طلب رکھوں گا۔ لیکن دوسری طرف بعض واقعات اور عبارت سے بعینہ ہمہ اوست کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ سب الزام اللہ تعالی پر دھرتے۔ ایک جگہ تو یہ تک لکھ دیا کہ شیطان نے ساری کائنات کو گمراہ کیا تو شیطان کو کس نے گمراہ کیا۔ آگے طنزیہ لہجے میں لکھتے ہیں جب اپنے پر بات آئی تو چپ ہو گیا۔

بہت سے بزرگوں کے بارے میں خاموش رہے لیکن حضرت سلطان باہو کی ایک بات پر انہیں یہ تک کہہ دیا کہ تمہارے باہو صاحب کو تو توحید کی بو تک نہیں پہنچی۔ کیونکہ شاید وہ اس توحید کے قائل نہیں جس کے یہ قائل ہیں۔ 

الغرض کتاب کیا ہے ایک قصہ دان ہے جس میں سے ہر کوئی اپنی سمجھ اور استعداد کے مطابق اپنی بات نکال سکتا ہے چاہے وہ توحید وجودی والوں میں سے ہو (یہاں توحید وجودی سے مراد ایک خاص نقطہ نظر ہے نہ کہ وہ توحید وجودی جو شیخ اکبر بتاتے ہیں) یا توحید شہودی والوں میں سے۔ 

میرے خیال میں صرف ان لوگوں کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے جو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ برصغیر میں تصوف کی روایت کیسے پنپی ہے۔ اس کتاب کو عقیدہ بنانا ٹھیک نہیں۔ 

ابرار احمد شاہی
ابن العربی فاونڈیشن۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم