بچوں کو پڑھے
اپنے بچوں کو پڑھنا سکھیں !
ہم جب سولہ سال کے ہوئے تو ابا جی نے اٹھارویں ترمیم کے ساتھ ہم کو ۱۸ سال کا بنا لیا تاریخ پیدائش 1962 سے 1960 کر کے ٹائم ٹریول کا کامیاب تجربہ کیا اور بھرتی کے لئے انگریز مینجر مسٹر PangBourn کے سامنے پیش کر دیا ،، گورے نے اعتراض کیا کہ یہ ابھی بچہ ہے ،، والد صاحب نے ایک سیفٹی اور ڈھیر سارے بلیڈ لے کر وارننگ دی کہ ایک مہینے میں داڑھی مونچھ نکالنی ھے ورنہ بھرتی بند ھو گئ تو پھر دو سال بعد کھُلے گی ،، ہم نے بھی مسواک کی بجائے سیفٹی جیب میں رکھ لی اور جس طرح شوافع ہر اقامت کے وقت انگلی جتنی مسواک منہ میں پھیر کر جیب میں رکھ کر پھر تکبیرِ تحریمہ کہتے ہیں ،ہم بھی اسی طرح جہاں موقع ملتا سیفٹی پھر کر داڑھی کو شرم دلاتے کہ ’’ آواز دے کہاں ہے، دنیا میری جواں ہے ‘‘
مہینے ڈیڑھ مہینے بعد ہلکی ہلکی رویدگی سی نظر آنا شروع ہوئی مگر یہ ناکافی تھی ، فوٹو گرافر کے مشورے پر سرمے سے مونچھیں گاڑھی کیں اور فوٹو بنوا لئے ـ خیر اللہ اللہ کر کے انگریز مان گیا شاید والد صاحب پر اسے ترس آ گیا تھا جن کو پیدا کرنے کے بعد جوان کرنے کی مشقت سے بھی گزرنا پڑ رہا تھا ـ ہم ۳۵ کلومیٹر دور سے حکومتی بس پر آتے اس زمانے میں ٹاٹا بسیں تھیں انڈیا کی ، پہلے ان کو دھکا دے کر اسٹارٹ کرانا پڑتا ،، جب اسٹارٹ ہو جاتی تو پتہ چلتا ہیڈ لائٹس کام نہیں کر رہیں ، اب دوسری اسٹارٹ کراؤ ،، پھر جدید بسیں آ گئیں اور ہماری جان چھوٹی ،،
پچھلے اسٹاپ سے بس آتی تو اس میں ایک عمانی سوار ہوتا شکل جس کی مراد علی شاہ سے بہت زیادہ مشابہ تھی ، مگر وہ داڑھی مونچھ چٹ تھا ، بےاندازہ نیل لگائے ہوئے سفید کپڑے اور غترہ یعنی پرنا اس نے رکھا ھوتا جو کہ نیلو نیل ہوتا ـ ہم نے ابھی پینڈو سے ہی تھے لہذا مخنث نہیں دیکھے تھے ، پھرعمانی کو ہم کیسے پہچانتے ، وہ پیچھے سے ہمارے لئے شیشے والی سیٹ رکھ کر آتا کسی کو بیٹھنے نہ دیتا، جونہی ہم بس میں والد صاحب کے ساتھ سوار ہوتے وہ جھٹ سے کھڑے ہو کر ہمیں بیٹھنے کی پیشکش کرتا، ہم سمجھے چونکہ ہم مسجد میں کبھی کبھار نماز پڑھا دیتے ہیں تو یہ ہمارا مقتدی ہو گا ،لہذا بیٹھ گئے ،، شدید سردی کا موسم تھا ہم نماز کام پر جا کر پڑھتے تھے اور وضو گھر سے کر کے اس لئے نہیں جاتے تھے کہ رستے میں سونا بھی ہوتا تھا ،، ہم نے ابھی سونے کے لئے اگلی سیٹ کے ساتھ سر ٹیکا ہی تھا کہ تراہ نکل گیا ـ وہ براق سفید کپڑوں میں ملبوس شریف آدمی اگلی سیٹ ہے سر رکھے دائیں ہاتھ کو کنٹرول لائن سے اس طرف لے آیا تھا اور سرجیکل اسٹرائیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا ،، ہم پر اس کی ہیبت طاری ہو گئ اور ہم دوشیزہ کی طرح چھوئی موئی بن کر ادھر سمٹتے اور اپنے مورچے کے دفاع کی کوشش کرتے رھے ، جو سورتیں یاد تھیں وہ پڑہیں ، دعائیں بھی مانگیں مگر تھوڑی سی مزاحمت کے بعد ہم پر تشنج کی کیفیت طاری ہو گئ حالانکہ اسکول کے زمانے میں ہمیں تشنج کے ٹیکے بھی لگائے گئے تھے جن کو’’ آنگے‘‘ کہتے تھے اور جو پھمبیری کی طرح گھما کر جلد کو خون و خون کر دیتے تھے ، جس کے نتیجے میں نسوار کی ڈبی کے سائز کا دردناک پھوڑہ بھی بن جاتا تھا ، الغرض ہم الماء بالماء کی قابلِ رحم حالت کو پہنچ ہی گئے ،،
کام پر آ کر ٹھنڈے پانی سے ’’غسلِ صحت‘‘ کیا اور صرف کندورے میں نماز پڑہی ،اس لئے کہ ازار آزار میں تبدیل ھو چکا تھا ،، اس دن والد صاحب نے بہت ڈانٹا کہ نہانا ھو تو بندہ گھر گرم پانی سے نہا کر آتا ہے ، تم پر انوکھی جوانی چڑھی ہے ، پُتر نمونیہ ہوا تو پھر پتہ چلے گا ،، اور ہم چپ چپ ان کا منہ دیکھتے رھے ـ اگلے دن بس پہ سوار ہوتے ہی ہم نے والد صاحب کو ادب کی وجہ سے نہیں ڈر کی وجہ سے آگے کر لیا ، مگر وہ شیطان جھٹ سے کھڑا ھوا اور ہمیں والد صاحب کی وکھی سے نہایت شفقت کے ساتھ گھسیٹ لیا ،، ہم نے والد صاحب سے اصرار کیا کہ وہ اس کے ساتھ بیٹھ جائیں ،میں پیچھے بیٹھ جاؤں گا ، مگر اقوام متحدہ بھی دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہو چکی تھی ، فرمانے لگے جب وہ اتنا احترام کرتا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے ؟ الغرض ہم ’’ ڈولی چڑھدیاں ماریاں ہیر چیکاں ‘‘ والی کیفیت میں اندر سے زار و قطار روتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور پھر اسی تشنج کا شکار ہوئے ،،
جب ہم دو چار دن مسلسل ہم ٹھنڈے پانی سے نہاتے پائے گئے تو والد صاحب نے امی جی کو شکایت کی کہ یہ روزانہ ٹھنڈے پانی سے نہاتا ھے اس کو نمونیہ ھو جائے گا ، میری تو یہ مانتا نہیں تم ہی اس کو سمجھاؤ ،، والدہ صاحبہ نے تاریخ کو دہراتے ہوئے جُتی اٹھا لی یوں مجبوراً ہم یں ان کو اشارے کنائے میں بتانا پڑا ، یوں اگلی صبح والد صاحب اصرار کر کے اس گھس بیٹھئے کے پاس بیٹھ گئے اور ہم پچھلی سیٹ سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد تجسس سے دیکھتے رہے کہ دشمن آج کونسی چال چلے گا ،، مگر اس دن ایل او سی پر جنگ بندی ہو چکی تھی ـ
اگر آپ کا بچہ مدرسے نہیں جاتا، کسی خاص حافظ جی سے الرجک ہے ، ان کو روٹی دینے نہیں جاتا ، یا جب وہ بلائیں اور بچہ کنی کترا جائے تو جنت کمانے کی خاطر اس کو دھکیل کر مت بھیجیں خود روٹی دینے چلے جائیں ،، اگر بچی کسی شخص سے ٹوئیشن نہیں پڑھنا جاتی تو اس کو زبردستی مت پڑھائیں ،، بچے کو پڑھانے کی نسبت بچے کو پڑھنا زیادہ ضروری ہے ـ اگر بچے یا بچیاں محرم رشتے دار کے پاس جانے سے بھی کتراتے ہیں تو ان کو جبرا ان کے پاس مت بھیجیں ، ایک لڑکی لکھتی ھے کہ اس کے والد صاحب دوسری شادی کر کے الگ سے رہ رہے تھے جبکہ وہ اور اس کا چھوٹا بھائی اپنی ماں کے ساتھ آبائی گھر میں رہتے تھے جہاں ایک کمرے میں اس کا مخبوط الحواس سگا چچا چلہ کشی کیا کرتا تھا ، والد نے بچی کی ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی کہ چاچو کو کھانا تم نے پہنچانا ہے ، ایک دو بار جب چاچو نے غلط حرکت کی تو لڑکی نے ماں کو بتایا کہ میں چاچو کو روٹی نہیں دینے جاتی ،، ماں جب خود روٹی دینے گئ تو چاچو نے اٹھا کر باہر پھینک دی اور ابو کو شکایت لگائی ، ابو نے امی کو ڈانٹا کہ تم میرے رشتے داروں کے خلاف میری اولاد کو بھڑکاتی ہو لہذا آج سے تمہارا خرچہ بند ،، ماں نے مجبور ہو کر بچی کو بھیجنا شروع کر دیا اور کچھ دن بعد چاچو نے بچی کی عصمت زبردستی لوٹ لی ،، ابو کو بتایا تو ابو نے یقین نہیں کیا کہ میرے ولی اللہ بھائی پر الزام لگاتی ہے ، اس نے کہیں باہر منہ کالا کیا ھو گا ـبچی کو دورے پڑنے شروع ہو گئے ، ایسی بچی کا رشتہ بھی کون کرے گا جس کو دورے پڑتے ہوں لہذا وہ بچی ہمیشہ کے لئے برباد ہو کر رہ گئ ـ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں