تربیت

تُو نہیں جہاں کے لئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ضرورت تو ضرورت ہے۔ جیسے سائیکل میں پہیّہ ہے تو اس میں بھری ہوا ایک اشد  ضرورت۔ خواہش ایک اضافی شے ہے جو ہمیں سادہ معیارِ حیات سے بلند تر ہونے کے طمع و لالچ پر یوں بلاتی ہے جیسے کوئی  چنچل، عشوہ طراز حسینہ کی جانب سے"اشارے" جو پُرسکون مَن کو بے سکون کر دیں۔ سہولت سے ایک قدم آگے بناوٹ ــــــــ وہ اضافہ ہے جو اس حسینہِ نازنیں یعنی خواہش سے تحرّک پا کر ہمیں ambitious  بناتا ہے۔ بناوٹ آرائش مانگتی ہے جس کے لئے انگریزی میں بہت سے الفاظ مستعمل ہیں، جیسے: فرنِش، اِمبیلش وغیرہ۔ آرائش من بھاتی اضافی اشیا سے خود کو لَد لینے کا نام ہے۔ یہ بوجھ بن جاتی ہیں۔ جبھی کہتے ہیں، زندگی کو ضرورت پر گزارو، خواہش پر نہیں!

گویا آرائش خواہش ہے جو بتدریج آلائش بن جاتی ہے۔ مثلاً بڑی گاڑی، بڑا گھر، اور گھر میں رکھی مہنگی ڈیکوریٹو اشیا۔ یہ جب مستقلا مینٹننس کا مطالبہ کرتی ہیں تو زندگی یوں الجھ جاتی ہے جیسے پرندہ کسی جال میں پھنس جائے۔ پاپیادہ، سائیکل اور موٹر سائیکل سوار ٹریفک جام اندر بنی پتلی گلی میں سے بہ سہولت گزر جاتے ہیں۔ بڑی گاڑی والا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ وہی گاڑی عذاب بنی ہوتی ہے جس کے چوری ہونے کا خوف ایک بوجھ ہے۔ حادثہ کی صورت بھاری اخراجات کا بوجھ۔ روز اس کی دُھلائی، صفائی، ستھرائی کا بوجھ ۔ خود سے وابستہ دوسروں کی توقعات کا بوجھ ۔ اس معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کا بوجھ ۔ اس معیار سے نیچے گر جانے کے اندیشوں کا بوجھ ۔ دوسروں سے مسابقت بازی کا بوجھ ۔۔۔ سو آن اینڈ سو فارتھ۔

ایسا ہر گز نہیں کہ ٹھیلا لگانے والا کسی روز دُکان، اور دُکان والا ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور تک نہ پہنچے۔ برسوں دال روٹی پر گذارا کرنے والا عمدہ کھانے نہ کھائے، اور گندی گلیوں میں بنے گندے مُندے، پھٹے پرانے ایک کمرے والے گھر کا مقیم بہتر رہائش اور ماحول تک نہ جائے۔ کہنا یہ ہے کہ زندگی کا ہر دائرہ اپنے وقت پر ٹوٹتا رہتا، انسان بتدریج آگے بڑھتا رہتا ہے۔ آگے بڑھنے کی تمنّا، کوشش اور دُعا سب جائزومناسب باتیں ہیں۔ بس اِس پراسس اندر سے بھڑکیلا پن کسی طور  اُچک لیا جائے۔ اسےنکال باہر کیا جائے۔

بھڑکیلا پن کیا ہے؟ خواہش کا حدِ اعتدال سے بڑھ کرجائز و ناجائز کی تمیز کھو دینا۔ جیسے زمین اپنے مدار سے نکل کر دور نظر آتی چکا چوند روشنیوں کے تعاقب کے ambition میں خلائے بسیط میں جا گرے۔ اپنے وجود کی شناخت کھو دے، گم ہو جائے۔

ضمیر انہی مواقع پر رائٹ اینڈ  رانگ کی تفریق بتانے کو ہمارے اندر دبکا بیٹھا ہے۔ موڑ آتے ہی کسی الارم کی مانند  بج اٹھتا، گاڑی کے اِنڈیکیٹر کی طرح  جل اٹھتا ہے۔

آج کے انسان کا المیہ خواہش نہیں۔ وہ تو سَدا سے اِس اندر گڑی ایک بِلٹ اِن ڈیوائس ہے، بلکہ یہ کہ خواہش کے خبط بن کر سوار ہو جانے میں ہے۔ اس کے بھڑکیلے پن میں۔ گلیمر بھری ڈِسٹریکشنز کا گردوغبار ذرا زیادہ ہے۔ ضرورت پر ٹکنے، قدم زمین پر گاڑے آسمان کے تاروں تک رسائی کے لئے پُر حلال کوشش پر قناعت، پُروقار انتظار، اور بتدریج والی صبروعزیمت سے اس کا دامن خالی ہے۔

ایسا ہے کہ جیون میں بڑی شاہراہ کی مسافت عطا کرنے سے ذرا پہلے مالک ہماری کاریگری کا ڈرائیونگ ٹیسٹ لگا کر چیک کرتا ہے کہ میاں اِس قابل بھی ہو کہ نہیں؟ حلال و حرام کی تمیز میں بندہ فیل ہو جاتا ہے۔ تب وہ بضد ہو جاتا ہے کہ بس کسی طور بھی اس بڑی شاہراہ پر بڑی سہولت کاری کے ہمراہ چڑھنا ہے۔ تب قدرت  اسے اُس کے ambition  یعنی بھڑکیلے پن بمعہ اسکے لازمی نتائج کے حوالے کر کے خاموش ہو بیٹھتی ہے۔ زیادہ مداخلت اس کا شیوہ نہیں۔ دارالامتحان میں ممتحن کو خاموش جو رہنا ہے ـــــ اگرچہ بارہا بتا اور جتا دیا ہے کہ سب کچھ پلٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے ۔۔۔ والی اللہ ترجع الامور۔

یاد رہے! کُرّہِ ارض پرایک متموّل و آسودہ انسان سے بڑی endangered  سپیشیز اور کوئی نہیں۔ بظاہر وہ آسودگیوں میں گھِراخوشحال دِکھتا شخص ہے نا؟ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ وہ آسائشوں کے حصار میں آیا ایک قابلِ رحم شخص ہے۔ وہ آسائشوں  کی زد میں ہے۔ ایک ذرا پاؤں پھسلا نہیں تو دھڑام سے نیچے ـــ جیسے تختہِ دار پر کھڑے شخص کے پاؤں تلے سے لکڑی کا تختہ کھینچ لیا جائے۔

پروٹوکول، طنطنے، اور اقتدار کی طوالت کل کلاں اس جنرل کے حق میں آسودگی کی علامت متصوّر ہوئی۔ آج کیا منظر ہے؟ پیسہ ہونے کے باوصف اُس شان و شوکت  کا تحلیل ہو جانا، عدالتوں سے اشتہاری مجرم قرار دئیے جانا، دھرتی پر قدم  رکھ سکنے کی جرات کا ناپید ہونا، اپنے کئے کے لازمی نتائج کا سامنا کرنے ایسی سفّاک حقیقتیں اب عذاب بنی ہیں۔ بھڑکیلی روشنیوں کے تعاقب میں زمین اپنے مدار سے کھسک کر خلائے بسیط کے خوفناک اندھیروں میں گم ہو چکی ہے۔ کوئی من چلا اعدادوشمار کی بیساکھیوں پر بھلے آپ کی شان میں ڈھول بجاتا پھرے، ہمارے لئے آپ ایک نشانِ عبرت ہو، اور بس۔

بعض اوقات اضافی آسودگی خود جھولی میں آ گرتی ہے۔ جیسے کوئی بِل گیٹس کے گھر پیدا ہو جائے۔ جیسے یکدم  لاٹری نکل آئے۔ جیسےصحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم ایسی طرز پر جیون میں کوئی بڑی  تبدیلی وقوع ہو جائے۔

نری آزمائش ہے!

ایسے گھرانے دیکھے ہیں جہاں صبح و شام"راحت بیکرز" اور فلاں فلاں کے لذیذ کھانے بے قدر، بے لذّت نگلے جا رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ کھانے کی لذّت کے اصل معیار پر سے نظر ہٹ چکی ہوتی ہے۔ یعنی ــــــ وہ جو سخت بھوک میں ملے، بھلے وہ روٹی پر چار پکوڑے رکھ کر کھانے سے ایک مزدور پیشہ شخص کو ہی میسّر آ جائے۔

زائد از ضرورت میں آزمائش ہے۔ یہ بانٹ دینے کو ملا ہے۔ ایک صاحبِ ایمان کا وژن اسی لئے یہ ہوتا ہے کہ :

In the end, it’s what you give what you get.

نہ تُو زمیں کے لئے ہے، نہ آسماں کے لئے
جہاں ہے تیرے لئے، تُو نہیں جہاں کے لئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری