خصوصی مضامین

ہوم پیجخصوصی مضامین

خصوصی مضامین

اینڈرائیڈ وَن رکھنے والے تمام فونز

از فہد کیہر مورخہ جنوری 22، 2018

 6,235

 شیئر کیجئے

گوگل چاہتا ہے کہ صارفین اس کے موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ کا بالکل ویسا ہی لطف اٹھائیں، جیسا وہ چاہتا ہے۔ ادارے کا ہدف ہے کہ ایک ارب افراد ویسا اینڈرائیڈ استعمال کریں جیسا گوگل بناتا ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے گوگل کی نظریں ہیں نئی مارکیٹوں پر اور اس اینڈرائیڈ ورژن کا نام ہے "اینڈرائیڈ وَن” جس کے ہدف پر ہیں وہ صارفین جو پہلی بار اینڈرائیڈ استعمال کرنے جا رہے ہیں۔

یعنی یہ ایسا اسٹاک اینڈرائیڈ ہے جسے گوگل ہی ڈیزائن کرتا، بناتا اور مارکیٹ کرتا ہے۔ منصوبے کے تحت 2014ء میں پہلی بار بھارت، انڈونیشیا، نیپال، بنگلہ دیش، فلپائن سری لنکا اور دیگر ممالک میں فون جاری کیے گئے ۔ اِس وقت اینڈرائیڈ ون کن فونز پر موجود ہے؟ آئیے آپ کو مختصراً بتاتے ہیں:

شاؤمی می اے1

شاؤمی کا می اے1 ایک بہترین فون ہے۔ 220 ڈالرز قیمت میں صارف کو ملتا ہے فل ایچ ڈی پینل، وہ بھی ساڑھے 5 انچ کا، اندر ہے اسنیپ ڈریگن 625 چپ سیٹ، 4 جی بی ریم، 64 جی بی اسٹوریج، ڈوئیل 12 میگاپکسل کیمرے اور 2x آپٹیکل زوم کا حامل لینس۔ 3080 ایم اے ایچ کی بیٹری اور بلوٹوتھ 4.2 اس کے علاوہ ہے ۔ می اے1 پاکستان سمیت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں خاص طور پر جاری کیا گیا ہے اور حال ہی میں یورپ بھی پہنچا ہے جہاں اس کی قیمت 229 یورو ہے ۔

موٹو ایکس4

موٹو ایکس4 ایک بہت خاص فون ہے، کیونکہ یہ نیکسس اور پکسل کے دائرے سے باہر واحد ڈیوائس ہے جو گوگل کے پروجیکٹ فائی کی باضابطہ سند رکھتی ہے۔ اس میں بہت کچھ ایسا ہے جو پسند آ رہا ہے۔ بہترین ہارڈویئر اور ساتھ پروجیکٹ فائی کی سروس اسے ایک جاندار فون بناتی ہے ۔

ہارڈویئر کے معاملے میں موٹو ایکس4 میں ہے 5.2 انچ کی فل ایچ ڈی اسکرین مع گوریلا گلاس 3، اسنیپ ڈریگن 630 پروسیسر، 3 جی بی ریم، 32 جی بی اسٹوریج، ڈوئیل 12 + 8 میگا پکسل کیمرے اور 16 میگا پکسل کا سیلفی کیمرا، آئی پی 68 سرٹیفکیشن وار 3000 ایم اے ایچ کی بیٹری۔ امریکا میں یہ فون 399 ڈالرز کا ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت 43 ہزار روپے ہے۔

ایچ ٹی سی یو11 لائف

یو11 لائف میں موٹو ایکس4 سے ملتا جلتا بہت کچھ ہے۔ 5.2 انچ کی فل ایچ ڈی اسکرین، اسنیپ ڈریگن 630، 3 جی بی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج، اور آئی پی 67 گرد اور پانی سے تحفظ۔ البتہ کمی ڈوئیل کیمروں کی ہے، اس میں 16 میگاپکسل کا واحد کیمرا ہے لیکن اتنا ہی سیلفی کیمرا بھی ہے ۔ فون کی بیٹری 2600 ایم اے ایچ ہے جو ایک دن کے لیے ہی مناسب ہوگی ۔

فون میں 3.5 ایم ایم جیک نہیں ہے، لیکن ساتھ ہی یو سونک ایئربڈز دیے گئے ہیں جو اس جیک کے بجائے یو ایس بی پورٹ میں لگتے ہیں۔ ویسے 349 ڈالرز کے فون میں اتنی سہولیات ہونا کافی ہیں۔

وائی! موبائل ایکس 1/ایکس2/ایس1/ایس2

گر آپ جاپان میں کوئی ایسا اینڈرائیڈ ون فون خریدنا چاہتے ہیں تو سافٹ بینک کا وائی! موبائل آپ کے لیے موجود ہے۔ اس میں شارپ کا ایکس 1 اور ایس1، کیوکیرا کا ایس2 اور ایچ ٹی سی کا ایکس 2 فون شامل ہیں۔

شارپ کے ایکس 1 اور ایس 1 دونوں میں فل ایچ ڈی IGZO پینلز ہیں اور یہ گرد اور پانی سے محفوظ فونز ہیں۔ ایکس 1 میں ہے 5.3 انچ کی اسکرین اور اس میں پروسیسر ہے اسنیپ ڈریگن 435۔ اس کے علاوہ 3 جی بی ریم، 32جی بی اسٹوریج، مائیکرو ایس ڈی سلاٹ، 16 میگاپکسل کا کیمرا، 8 میگاپکسل کا فرنٹ شوٹر اور 3900 ایم اے ایچ کی جاندار بیٹری۔ ایس1 میں 5.0 انچ کی اسکرین ہے، اسنیپ ڈریگن 430، 2 جی بی ریم، 16 جی بی اسٹوریج، مائیکرو ایس ڈی سلاٹ، 13 میگاپکسل کیمرا، 8 میگاپکسل فرنٹ شوٹر، اور 2530 ایم اے ایچ بیٹری۔ دونوں شارپ فونز اینڈرائیڈ 8.0 اوریو پر ہیں۔

کیوکیرا ایس2 کو دیکھیں تو اس بجٹ فون میں 5 انچ کا 720 پکسل ڈسپلے ہے، اسنیپ ڈریگن 425، 2 جی بی ریم اور 16 جی بی اسٹوریج، مائیکرو ایس ڈی سلاٹ، 13 میگاپکسل کیمرا، 2میگاپکسل کا فرنٹ کیمرا اور 2300 ایم اے ایچ کی بیٹری۔ یہ محض 20 ڈالرز ماہانہ کی قیمت پر دستیاب ہے۔

ایچ ٹی سی ایکس 2 میں ہے 5.2 انچ کی فل ایچ ڈی اسکرین، اسنیپ ڈریگن 630، 4 جی بی ریم، 64 جی بی اسٹوریج، مائیکرو ایس ڈی سلاٹ، 16 میگاپکسل کے فرنٹ اور ریئر کیمرے اور 2600 ایم اے ایچ کی بیٹری۔ فون ملک کا بہترین اینڈرائیڈ ون فون ہے، جو 30 ڈالرماہانہ پر دستیاب ہے۔

جنرل موبائل جی ایم6/جی ایم5/جی ایم5 پلس

ترکی کا جنرل موبائل 4جی وہ پہلا اینڈرائیڈ فون فون تھا جس میں اسنیپ ڈریگن چپ سیٹ تھی۔ یہ فون 2015ء میں پیش کیا گیا جبکہ اینڈرائیڈ ون ڈیوائسز ایک سال پہلے بھارت میں جاری ہوئی تھیں لیکن ان میں میڈیاٹیک پروسیسر تھا۔

اس وقت فون بنانے والے اس ترک ادارے کے پاس تین اینڈرائیڈ ون فونز ہیں: جی ایم6، جی ایم5 اور جی ایم 5پلس۔ جی ایم 5 اور جی ایم 5 پلس پرانی ڈیوائسز ہیں جن میں اسنیپ ڈریگن 617 پروسیسر ہے، پہلے کی اسکرین 5 انچ کی اور دوسری کی ساڑھے 5 انچ کی ہے۔

البتہ جی ایم 6 میڈیا ٹیک کی اوکٹاکور ایم ٹی 6737ٹی چپ سیٹ رکھتا ہے، اس میں 3 جی کی ریم اور 32 جی بی اسٹوریج، 13 میگاپکسل کا کیمرا، 8 میگاپکسل کا فرنٹ شوٹر اور 3000 ایم اے ایچ کی بیٹری ہے۔ تینوں ڈیوائسز اوریو پراپڈیٹ ہو چکی ہیں۔

اینڈرائیڈاینڈرائیڈ ونگوگل

 6,235

 شیئر کیجئےFacebookWhatsApp

خصوصی مضامین

اپنے اینڈرائیڈ فون کو کیسے ری سیٹ کریں؟

از فہد کیہر مورخہ جولائی 7، 2018

 56,318

71

کیا آپ اپنا اینڈرائیڈ فون یا ٹیبلٹ فروخت کر رہے ہیں؟ تو یاد رکھیں کہ اس سے پہلے اپنے ڈیٹا کی تمام باقیات کو لازمی ڈیلیٹ کردیں۔ خوش قسمتی سے اینڈرائيڈ فونز میں ایسے فیچرز پہلے سے موجود ہیں جن کی مدد سے آپ اپنی ذاتی معلومات، ایپلی کیشنز اور دیگر مواد صاف کر سکتے ہیں۔ یوں فون بالکل اس حالت میں واپس چلا جاتا ہے جس طرح فیکٹری سے نکلا تھا۔ آئیے آپ کو یہ طریقہ بتائیں تاکہ آپ کو فون فروخت کرنے کے بعد ڈیٹا کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اینڈرائیڈ فون یا ٹیبلٹ کو صاف کرنے کے لیے آپ کو پہلے ڈیوائس پر موجود ڈیٹا کو انکرپٹ کرنا ہوگا تاکہ اگر کوئی کسی طرح فون کا ڈیٹا ریکور کرنے کی کوشش بھی کر جائے تو ناکام ہو۔ کیونکہ انکرپشن یقینی بناتی ہے کہ جو معلومات حاصل ہو وہ ریڈیبل نہ ہو۔

اس کے لیے اپنے فون کی Settings میں جائیں۔ یہاں Security پر ٹیپ کریں اور یہاں Encrypt Phone میں داخل ہو جائیں۔ اگر آپ کی ڈیوائس مکمل چارج نہیں ہے یا چارجنگ پر نہیں لگی ہوئی تو آپ کو پیغام دیا جائے گا کہ اس کام کے لیے فون کو مکمل چارج کریں۔ اب آپ کو ڈیوائس کو 100 فیصد چارج کرنا ہوگا اور پھر فون کو انکرپٹ کرنے کے لیے اس بٹن پر کلک کردیں۔

یہ کام کرنے کے بعد دوبارہ Settings میں آئیں اور یہاں Backup & Reset میں چلے جائیں۔ یہاں Factory data reset ہوگا، اس پر ٹیپ کریں۔ آنے والی اسکرین آپ کو بتائے گی کہ کون کون سا ڈیٹا مٹ جائے گا۔ اب آپ فون یا ٹیبلٹ کو ری سیٹ کرنے کے لیے بٹن دبا دیں۔ کچھ ہی دیر میں آپ کی ڈیوائس صاف ہوکر واپس فیکٹری کنڈیشن پر آ جائے گی۔

اینڈرائیڈسیکیورٹی

 56,318

71FacebookWhatsApp

خصوصی مضامین

آپ کا جی میل دوسروں کی نظر میں

از فہد کیہر مورخہ جولائی 3، 2018

 57,409

65

ہو سکتا ہے آپ اپنے جی میل اکاؤنٹ میں آنے والے پیغامات پڑھنے والے واحد شخص نہ ہوں کیونکہ، گو کہ جی میل صارفین کی ای میل گوگل خود نہیں پڑھتا، لیکن وہ کچھ تھرڈ پارٹی ڈیولپرز کو ضرور جازت دیتا ہے جن کی صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں اور مارکیٹنگ مقاصد کے لیے ان کی ای میلز کو اسکین کر سکتی ہیں۔ معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ان ڈیولپرز کے محض کمپیوٹرز ہی نہیں بلکہ بسا اوقات ملازمین بھی مختلف صارفین کے جی میل پیغامات پڑھتے ہیں۔

گوگل نے عرصے سے سافٹویئر ڈیولپرز کو صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی کی صلاحیت دے رکھی ہے، جب تک کہ صارف خود اس کی اجازت دیں۔ یہ صلاحیت ڈیولپرز کو ایسی ایپس تیار کرنے میں مدد دیتی ہے جو صارفین اپنے گوگل کیلنڈرز میں ایونٹس شامل کرنے یا اپنے جی میل اکاؤنٹس سے پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن مارکیٹنگ کمپنیاں ایسی ایپس بنا چکی ہیں جو اس رسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین کے رویّوں پر بھی نظر رکھ رہی ہیں۔ یہ ایپس قیمتوں کے تقابل کی سروسز یا سفری منصوبہ بندی جیسی خدمات پیش کرتی ہیں لیکن ان کے سروس معاہدے کی زبان دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ صارفین کی ای میل بھی دیکھ سکتے ہیں۔ درحقیقت یہ مارکیٹنگ کمپنیوں کے ایک عام حرکت بن چکی ہے کہ وہ صارفین کے ای میل اسکین کریں۔

یہ تو نہیں معلوم کہ گوگل ان معاملات کی نگرانی کس طرح کر رہا ہے لیکن کئی صارفین بھی آگاہ نہیں کہ ایسی ایپس ان کے اکاؤنٹس تک کس طرح رسائی پا رہی ہیں۔ اگر معلوم بھی ہو تو فیس بک کے کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل نے بتا دیا کہ کس طرح ایسی رسائی سے صارفین کے ڈیٹا کا استحصال کیا جا سکتا ہے۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کون سی ایپس آپ کے گوگل اکاؤنٹس تک رسائی رکھتی ہیں اور انہیں کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں:


اپنے جی میل اکاؤنٹ میں دائیں جانب سب سے اوپر سے ایپ مینیو میں "Account” آئیکون پر کلک کریں اور اپنے گوگل اکاؤنٹ پیج میں پہنچ جائیں۔ یا پھرmyaccount.google.com پر جائیں۔ یہاں سے سائن اِن اینڈ سکیورٹی حصے میں پہنچیں۔


یہاں "Apps with account access” کے لنک پر کلک کریں یا صفحے میں سب سے آخر میں پہنچ جائیں۔ اس حصے میں آپ کو وہ تمام ایپس نظر آئیں گی جن کو آپ نے اب تک اپنے اکاؤنٹ تک مختلف قسم کی رسائی دے رکھی ہے۔


مزید تفصیلات کے لیے "Manage Apps” کو منتخب کریں۔ آپ کو یہاں اپنے گوگل اکاؤنٹس کے اندر مختلف انفارمیشن اور سروسز نظر آئیں گی جن تک ایپس رسائی رکھتی ہیں۔

گوگل آپ کے اکاؤنٹس تک رسائی رکھنے والی ایسی ایپس کو تین مختلف گروپوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک "Signing in with Google”، دوسرا "Third-party apps with account access” اور تیسرا "Google apps”۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ گوگل ایپس کروم اور ڈرائیو جیسی ایپس ہوں گی لیکن دوسرے دونوں گروپس کچھ مختلف ہیں۔

"Signing in with Google” حصے والی ایپس آپ کے نام، ای میل ایڈریس اور پروفائل پکچر تک رسائی رکھتی ہیں لیکن کبھی کبھار اس سے زیادہ معلومات کی حامل بھی ہو سکتی ہیں جیسا کہ آپ کے ای میل میسیجز کو پڑھنے اور ڈیلیٹ کرنے کا اختیار۔ آپ نے ممکنہ طور پر علیحدہ یوزر اکاؤنٹ بنانے کے بجائے اپنے گوگل اکاؤنٹ کو کسی سائٹ پر پر لاگ ان کے لیے رکھا ہوگا اور یہیں سے اپنے ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دی ہوگی۔

"Third-party apps with account access” عام طور پر آپ کی بنیادی معلومات سے زیادہ رسائی رکھتی ہیں۔ گوگل سپورٹ پیج کے مطابق یہ ایپس بسا اوقات آپ کے گوگل اکاؤنٹ کی تقریباً تمام معلومات دیکھ اور تبدیل کر سکتی ہیں۔ ایسی رسائی رکھنے والے ایپس کے ڈیولپرز آپ کا پاسورڈ تبدیل نہیں کر سکتے، اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں کر سکتے یا پھر آپ کی طرف سے گوگل پلے استعمال نہیں کر سکتے لیکن یہ آپ کی ای میل ضرور پڑھ سکتے ہیں۔ آپ کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایسی قابل بھروسہ ایپس اور ڈیولپرز ہی آپ کے اکاؤنٹ تک ایسی رسائی رکھیں اور یہ رسائی بھی تبھی دینی ہے جب ضروری ہو۔

اگر آپ کو کچھ ایسا نظر آئے جو قابل بھروسہ نہ ہو تو آپ اس کی رسائی ختم کر سکتے ہیں۔ Remove Access پر کلک کرنے کے بعد آپ کو "OK” کا بٹن دبانا ہوگا جو کہ تصدیق ہوگی کہ آپ اس ایپ کو بلاک کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ آپ کی فہرست سے غائب ہو جائے گی اور اب دوبارہ آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کر پائے گی۔

بہتر یہی ہے کہ ہر چند ماہ بعد "Apps with access to your account” کے حصے پر نظر مار لی جائے تاکہ اکاؤنٹ کو "ظالم نظروں” سے بچایا جا سکے۔

جی میلگوگل

 57,409

65FacebookWhatsApp

خصوصی مضامین

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اکیسویں صدی کی بہترین ایجادات

از فہد کیہر مورخہ مئی 12، 2018

 9,721

32

اکیسویں صدی میں داخل ہوئے آج ہمیں 18 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور یہ بات کہنا غلط نہيں ہوگا کہ دو دہائی سے بھی کم اس عرصے میں انسان نے جتنی سائنسی ترقی کی ہے، اتنی شاید پچھلی پوری صدی میں نہیں کی ہوگی۔ ٹیکنالوجی نے تو آج دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ خود ہی تصور کیجیے کہ آج سے صرف 20، 25 سال پہلے کی ہماری زندگیاں کتنی بدل گئی ہیں؟ جو ٹیکنالوجی پچھلی صدی میں ہمارے گھروں کا حصہ تھی، آج ان کا نام و نشان ہی موجود نہیں ہے۔ کہاں گئے ٹیپ ریکارڈرز اور واک مین؟ پیجرز اور فلم رول والے کیمرے؟ اب تو سی ڈی اور ڈی وی ڈی پلیئرز بھی شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان سب کی جگہ لی ہے ایسی ایجادات نے جو کہیں زیادہ بہتر اور سستی ہیں۔ آئیے 21 ویں صدی کی چند بہترین سائنسی ایجادات پر نظر ڈالتے ہیں:

فیس بک


اگر آپ ہماری طرح 80ء اور 90ء کی دہائی کی حقیقی دوستی اور خوشی و غمی کے مشترکہ لمحات کو یاد کرتے رہتے ہیں تو آپ کو ضرور اس فیس بک سے نفرت ہوگی۔ لیکن اگر آپ کو ورچوئل دنیا پسند ہے تو شاید آپ کے لیے فیس بک زندگی میں ہر چیز سے بڑھ کر ہو۔ یہ "سوشل میڈیا” کا سب سے بڑا نام ہے جہاں آپ کے بچپن کے دوستوں سے لے کر آپ کے دفتری ساتھی بلکہ ننھیال، ددھیال، سسرال، میکہ سب جمع ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ایسے "دوست” بھی جن میں سے کئی سے آپ کی زندگی میں کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوتی۔ بہرحال، یہی آج کی "سماجی دنیا” ہے، اس میں جینا سیکھیں۔

آئی پوڈ

2001ء میں جب دنیا پر اسمارٹ فونز کی "بمباری” ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، تب آئی پوڈ نے موسیقی سننے اور دیکھنے کے حوالے سے دنیا کا نظریہ تبدیل کیا تھا۔ اس نے واک مینز کی دنیا اجاڑ دی اور عرصے تک دنیا کو اپنے سحر میں مبتلا کیے رکھا۔

بلوٹوتھ

بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کی رونمائی 1999ء میں ہوئی لیکن اس کو موبائل فونز اور کمپیوٹرز کے لیے قبول کرنے کا کام اکیسویں صدی میں ہی ہوا۔ آج بلوٹوتھ ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے اور "انٹرنیٹ آف تھنگز” کے آنے سے اور زیادہ پھیل رہا ہے۔ ہم اپنے اسمارٹ فونز ہی کو نہیں بلکہ لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کو بھی اب بلوٹوتھ کے ذریعے کسی دوسری ڈیوائس سے منسلک کرتے ہیں۔

آئی فون


دو تین دہائی قبل کوئی تصور کر سکتا تھا ایسے موبائل فون کا جس پر انٹرنیٹ بھی استعمال کیا جا سکے، جس کی ایچ ڈی اسکرین پر موویز بھی دیکھی جا سکے، جو تصاویر لے، موسیقی سنائے اور دیگر کئی کام بھی ایسے کرے؟ یہ سب اکیسویں صدی میں ممکن ہوا آئی فونکی بدولت، جس نے 2007ء میں اسمارٹ فونز کی بنیاد رکھی۔ آج آئی فون اسمارٹ فونز کی دنیا کا سب سے معروف نام ہے بلکہ اسے رکھنا تو اب "اسٹیٹس سمبل” بھی بن چکا ہے۔

4جی

2008ء میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشنز یونین نے فورتھ جنریشن (4G) معیارات کے لیے شرائط طے کیں۔ 4جی نے 3جی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز موبائل براڈبینڈ انٹرنیٹ رسائی فراہم کی اور ٹیلی فونی کے ساتھ ساتھ گیمنگ سروسز، ایچ ڈی موبائل ٹی وی، وڈیو کانفرنسنگ اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو ممکن بنایا۔ آج پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں 4جی سروسز موجود ہیں اور کئی زندگیوں کو بدل رہی ہیں۔

گوگل گلاس


گوگل گلاس ایک اسمارٹ چشمہ ہے جو آپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے معلومات دیتا ہے۔ یہ اسمارٹ فون ہی کی طرح ہے لیکن ہاتھوں سے آزاد ہوکر کام کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ خوش مت ہوں، یہ بہت مہنگا بھی تھا اور کام بھی اتنا نہیں آیا، جس کی وجہ سے گوگل کو اس منصوبے کو ڈبے میں بند کرنا پڑا۔

ہائبرڈ گاڑیاں

توانائی کے لیے دو ذرائع پر انحصار کرنے والی گاڑیاں روایتی کاروں کے مقابلے میں ماحول کے لیے بہتر ہیں۔ انہیں بنایا بھی اس لیا گیا تھا۔ کاروں کے علاوہ اب ایسی ٹرینیں اور دیگر گاڑیاں بنانے پر بھی کام جاری ہے جبکہ کاریں مکمل طور پر بجلی کا رخ کر رہی ہیں لیکن وقت ہی بتائے گا کہ یہ اس صدی کا سب سے شاندار خیال ہے یا پھر ایسا تصور جس سے کہیں زیادہ امیدیں وابستہ کرلی گئی تھیں۔

ایمیزن کنڈل

ایک روایتی کنڈل آپ کو ہزاروں برقی کتب، اخبارات، جرائد اور دیگر ڈجیٹل میڈیا خریدنے کی سہولت دیتی ہے۔ مختصراً یہ کہ آپ کی پوری لائبریری آپ کی جیب میں آ گئی۔

اوکولس رفٹ


اسٹار ٹریک کے ہولو ڈیک کے قریب ترین چیز جو اس وقت حقیقی دنیا میں موجود ہے وہ اوکولس رفٹ ہے۔ اس کا واحد کام تفریح فراہم کرنا ہے اور بس۔ تو اگر آپ وڈیو گیمز پسند نہیں کرتے تو اسے چھوئیے گا بھی مت لیکن اگر آپ گیمر ہیں تو یہ آپ کے لیے سب کچھ ہے۔

یوٹیوب

یوٹیوب پہلی بار 2005ء میں لانچ ہوا اور اس وقت سے اب تک یہ کئی لوگوں کی زندگیاں بدل چکا ہے۔ اب چاہے آپ کو کھانے پکانے کی کسی ترکیب کی ضرورت ہو یا کسی مخصوص چیز کی مرمت خود کرنا چاہ رہے ہوں، پی ٹی وی کے پرانے یادگار دیکھنا چاہتے ہوں یا اپنی وڈیوز بنا کر دنیا کو رہنما دینا چاہتے ہوں، یوٹیوب اس کام کے لیے موجود ہے۔

گوگل اینڈرائیڈ


2007ء میں ایپل کا آئی فون منظر عام پر آتے ہی موبائل فون بنانے والے کئی ادارے حرکت میں آ گئے لیکن انہیں ضرورت تھی ایک آپریٹنگ سسٹم کی جو آئی او ایس کا مقابلہ کر سکے۔ اینڈرائیڈ کو درحقیقت کیمرے کے لیے اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم کے طور پر تیار کیا گیا تھا لیکن 2005ء میں اسے گوگل نے خرید لیا اور 2008ء میں بطور موبائل او ایس لانچ کردیا۔ آج یہ سام سنگ، سونی، ایل جی اور ایچ ٹی سی سمیت دنیا کے بیشتر فونز کا آپریٹنگ سسٹم ہے بلکہ 80 فیصد سے زیادہ فونز پر اینڈرائیڈ ہی نصب ہے۔

آئی پیڈ

ایپل نے 2010ء میں اپنا پہلا ٹیبلٹ پی سی پیش کیا، جسے آئی پیڈ کہا جاتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی ڈیوائس تو نہیں تھی لیکن اس نے عوام میں مقبولیت بہت حاصل کی اور ایک نئے رحجان کو جنم دیا۔ یہ اب بھی دنیا کا سب سے مشہور ٹیبلٹ پی سی ہے، البتہ ایپل کے آئی او ایس کے مقابلے میں اینڈرائیڈ دنیا کا نمبر ایک ٹیبلٹ آپریٹنگ سسٹم ہے۔

گوگل ڈرائیورلیس کار


گو کہ اب تک گوگل نے ڈرائیورلیس کار لانچ نہیں کی ہے البتہ یہ 2012ء سے اس کے تجربات کر رہا ہے۔ اس کی یہ گاڑیاں 40 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ریاست کیلیفورنیا میں دوڑتی پھرتی نظر آتی ہیں۔

آئی پیڈآئی فوناوکولس رفٹاینڈرائیڈفیس بککنڈلگوگلگوگل گلاس

 9,721

32FacebookWhatsApp

خصوصی مضامین

اپنے اینڈرائیڈ فون کو تیز بنائیں، آئی فون جیسا

از فہد کیہر مورخہ فروری 9، 2018

 11,757

شیئر کیجئے

اینڈرائیڈ اپنے ابتدائی ایّام میں ایک سست رفتار آپریٹنگ سسٹم تھا یہاں تک کہ ہر سال جاری ہونے والے طاقتور ترین فون بھی سادہ سے کاموں میں مسائل سے دوچار ہوتے تھے، خاص طور پر معاملہ اگر گیمز کھیلنے جیسا ہو تو مصیبت بن جاتی تھی۔ لیکن حالیہ چند سالوں میں صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ آج جدید اینڈرائیڈ فلیگ شپس تو ایک طرف، درمیانی رینج کے حامل فونز بھی کہیں زیادہ تیز ہیں۔ اینڈرائیڈ میں کی جانے والی تبدیلیاں اور پھر فون بنانے والے اداروں کی اپنی کوششوں نے یہ دن دکھائے ہیں، جس میں ایک ہموار اور رواں اینڈرائیڈ تجربے کا موقع مل رہا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو مزید تیز کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک آسان طریقہ موجود ہے۔

یاد رکھیں کہ اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم چاہے اب پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہو لیکن اب بھی ایپل کے آئی فون کو شکست نہیں دے پایا۔ تمام اسپیڈ ٹیسٹس میں آئی فون پیش پیش نظر آتا ہے۔ آج تک صرف ایک ایسا اینڈرائیڈ فون ہے جس نے ان ٹیسٹس میں آئی فون کو شکست دی ہے، وہ ہے ون پلس 5ٹی!

آخر ایسا کیوں ہے؟ آئی فون اتنا تیز کیسے ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اینڈرائیڈ فونز میں استعمال ہونے والی چپس سیٹس Qualcomm اور Exynos کبھی ایپل کے اپنے A-seriesپروسیسرز کو شکست نہیں دے سکیں اور یہی پروسیسر آئی فون کی برتری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ سافٹویئر آپٹمائزیشن کا بھی کردار ہے اور transition animations کا بھی۔ صارف کے تجربے پر اس کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ فون کو تیز رفتار بنانا چاہتے ہیں، اس کے استعمال کے رواں رکھنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل طریقہ ضرور آزمائیے:

• اپنے اینڈرائیڈ فون کی Settings میں جائیں

• اگر آپ اینڈرائیڈ 8.0 یا اس سے آگے کا ورژن استعمال کر رہے ہیں تو System میں جائیں(پرانے ورژن والوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوگی)

• اب یہاں About Phone پر کلک کریں۔

• یہاں نیچے جائیں اور Build number پر تیزی سے 7 مرتبہ ٹیپ کریں۔

اب آپ اپنی پچھلی اسکرین پر واپس آئیں تو آپ کو نیچے ایک نیا مینیو Developer options کے نام سے نظر آئے گا۔ یہ آپ کو کئی خفیہ چیزوں اور debugging کے آپشنز تک رسائی دے گا۔ اگر آپ نئے صارف ہیں تو ہمارے بتائے گئے آپشنز کے علاوہ دیگر آپشنز سے چھیڑ چھاڑ مت کیجیے گا۔

بہرحال، آپ اپنی transition animations کو تیز رفتار کرنے کے لیے Developer options میں آ گئے ہیں تو یہاں نیچے آپ کو یہ تین چیزیں ڈھونڈنی ہیں:

• Window animation scale

• Transition animation scale

• Animator duration scale

ڈیفالٹ میں ان تینوں کے ساتھ آپ کو "1x” لکھا نظر آ رہا ہوگا۔ اینی میشنز کو تیز کرنے کے لیے آپ کو ان پر ٹیپ کرنا ہوگا اور ہر آئٹم کو تبدیل کرکے 1x کی جگہ 5x. کا انتخاب کرنا ہوگا اور پھر ڈیولپرز آپشنز سے باہر آنا ہوگا۔ یاد رکھنا ہے کہ 5x. پر ٹیپ کرنا ہے، 5x پر نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی اینی میشنز 5. یعنی آدھا وقت لیں۔

بس اب تیز رفتار فون کے مزے اٹھائیں۔ آپ کو خود حیرت ہوگی کہ کتنا فرق آیا ہے۔ ہاں! پھر بھی مطمئن نہیں تو جائیں ون پلس 5 ٹی خریدیں۔

اینڈرائیڈ

 11,757

شیئر کیجئےFacebookWhatsApp

خصوصی مضامین

ہر اسمارٹ فون کی بورڈ چھوڑ دیں، جی بورڈ اپنائیں

از فہد کیہر مورخہ جنوری 30، 2018

 6,147

شیئر کیجئے

آپ چاہے اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہے ہوں یا آئی او ایس، یہ بات تو تقریباً یقینی ہے کہ نقشوں کے لیے آپ کا یقین گوگل میپس پر ہی ہوگا۔ ای میل کے لیے جی میل کا استعمال بھی ہوتا ہوگا۔ وڈیوز دیکھنے کے لیے یوٹیوب کا رخ بھی کرتے ہوں گے اور آپ بالکل ٹھیک کریں گے اگر اپنے اسمارٹ فون کے کی بورڈ کو چھوڑ کر گوگل کے جی بورڈ (Gboard) کو اپنائیں۔

کئی اینڈرائیڈ ڈیوائسز خاص طور پر پکسل سیریز کے فونز میں ڈیفالٹ میں ہی جی بورڈ ہوتا ہے۔ لیکن ڈیڑھ سال سے یہ دوسروں کے لیے بھی دستیاب ہے۔ اگر آپ آئی فون استعمال کرتے ہیں، یا پھر سام سنگ کی گلیکسی سیریز کا کوئی فون، یا کوئی بھی جو اعلیٰ معیار کا سوائپ-ٹائپ (swipe-type) تجربہ فراہم کرنے میں ناکام ہے تو وقت آ گیا ہے اپگریڈ ہونے کا۔

یہ وہ اسمارٹ فون کی بورڈ ہے جس میں آپ شکل بنا کر بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کون سا ایموجی درکار ہے۔ یعنی آپ بلی بنائیں، آپ کو بلیوں کی تمام ایموجیز دکھا دے گا ۔ آپ گھر بنائیں، یہ آپ کو گھر والا ایموجی دے دے گا ۔ اور آپ Oاور K لکھ کر "اوکے” والا ایموجی حاصل کر سکتے ہیں، اگر اس کی ضرورت پڑے تو!

اس میں اور بھی کئی خصوصیات ہیں لیکن جو سب سے بہترین ہے، وہ یہ کہ اس کی بورڈ کے اندر گوگل بلٹ-اِن ہے۔ یعنی آپ اپنے کی بورڈ سے ہی انٹرنیٹ پر براہ راست سرچ کر سکتے ہیں۔

ٹائپنگ کے دوران ہی آپ الفاظ اور جملوں کا ترجمہ کر سکتے ہیں۔ یہ اُردو سمیت درجنوں زبانوں کو سن کر ٹائپ کر سکتا ہے، جی ہاں! آپ بولتے جائیں یہ ٹائپ کرتا جائے گا۔

اس میں GIF سرچ ہے۔ اس میں ایک ہاتھ سے کام کرنے کے لیے موڈ بھی ہے، جو صارف کو کی بورڈ کو اپنی مرضی کے مطابق چھوٹا کرنے اور اپنی مرضی کی جگہ پر رکھنے کی سہولت دیتا ہے۔

ہو سکتا ہے ایسی سہولیات پیش کرنے والے اور کی بورڈز بھی ہوں لیکن ایک تو جی بورڈ گوگل کا پیش کردہ ہے، دوسرا یہ کہ یہ بالکل مفت ہے ۔ جی بورڈ گوگل پلے اسٹور میں یہاں دستیاب ہے اور ایپل کے ایپ اسٹور میں یہاں پر۔

اگر استعمال پر بھی پسند نہ آئے تو ڈیلیٹ کردیجیے گا، لیکن ہمیں پتہ ہے کہ اس کا موقع نہیں آئے گا۔

جی بورڈکی بورڈگوگل

 6,147

شیئر کیجئےFacebookWhatsApp

ہم سے رابطے میں رہیں

FacebookLikes1050Followers369Subscribers

نیوز لیٹر

ہماری تازہ ترین تحریریں اپنے ای میل ان باکس میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے۔

Subscribe

Powered by 

ٹیکنالوجی نیوز

ٹیکنالوجی نیوز

اسپاٹیفائی کے صارفین کی تعداد 191 ملین تک پہنچ گئی‎

واٹس ایپ میں نیا فیچر، گروپ چیٹ میں پرائیوٹ پیغام

نومبر 2، 2018

پینا سونک کا 100 ڈالر سے بھی سستا اسمارٹ فون

نومبر 1، 2018

نئے آئی فون کی eSIM صرف دس ممالک میں قابل استعمال ہے

ستمبر 15، 2018

 PREV NEXT  1 of 357

تازہ تحاریر

اوپو

جدید ڈیزائن اور سپر فل اسکرین کے ساتھ OPPO کا A7 اسمارٹ…

ادارہ  نومبر 5، 2018

ٹیکنالوجی نیوز

اسپاٹیفائی کے صارفین کی تعداد 191 ملین تک پہنچ گئی‎

ادارہ  نومبر 5، 2018

ہواوے

میٹ 20 پرو ہواوے کی تاریخ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے…

ادارہ  نومبر 3، 2018

مزید تحریریں دیکھیں 

اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے تمام جملہ حقوق بحق ادارہ ماہنامہ کمپیوٹنگ محفوظ ہیں۔ ادارے سے اجازت کے بغیر اشاعت غیر قانونی ہے۔

Copyright 2007-2018 - All Rights Reserved

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم