کلاوڈ پرنٹر

فون سے پرنٹنگ کریں وہ بھی بغیر کسی تار کے

از علمدار حسین مورخہ ستمبر 30، 2017

 16,584

 96

کیا یہ بات شاندار نہیں ہو گی کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوئے کسی بھی ڈیوائس (ڈیسک ٹاپ، فون، ٹیبلٹ) سے اپنے کسی بھی پرنٹر سے پرنٹ نکال سکیں؟

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ’’گوگل کلاؤڈ پرنٹ‘‘ (Google Cloud Print) سے یہ بالکل ممکن اور پرنٹنگ کے لیے بہترین طریقہ ہے۔

کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بارے میں تفصیلی آرٹیکل آپ کمپیوٹنگ میں پڑھ چکے ہوں گے۔ نیٹ ورک/انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر تک مختلف افراد کو رسائی کی سہولت فراہم کرنا کلاؤڈ کمپیوٹنگ کہلاتا ہے۔

گوگل نے کلاؤڈ پرنٹ کی سہولت دے کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک اہم پیش قدمی کی۔ گوگل کلاؤڈ پرنٹ کے ذریعے آپ اپنے گھر یا دفتر کے پرنٹر کو ویب سے منسلک کر سکتے ہیں اور پھر آپ دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوئے اپنی دستاویزات کو پرنٹ کرنے کے لیے اُن پرنٹرز کو استعمال کر سکتے ہیں۔ گویا آپ کہیں بھی موجود ہوں اور کسی فائل کو پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے کلاؤڈ پرنٹر کو استعمال کریں گے اور یوں آپ کے گھر یا دفتر کے پرنٹر سے اُس فائل کا پرنٹ نکل آئے گا۔

کلاؤڈ پرنٹ کا کیا فائدہ؟

کمپیوٹر پر کام کرنا پہلے سے سہل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ کلاؤڈ پرنٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایک دفعہ اگر آپ جان جائیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اسے کنفیگر کر لیں تو آپ کئی قسم کی دشواریوں سے آزاد ہو کر براہ راست اپنے موبائل اور ٹیبلٹ سے بھی پرنٹس نکال سکیں گے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس کے لیے یہ قطعی ضروری نہیں کہ آپ کے پاس کلاؤڈ پرنٹنگ کی سپورٹ کا حامل پرنٹر موجود ہو۔

دوسرے الفاظ میں آپ اسے یوں سمجھ سکتے ہیں اگر آپ اپنے اینڈروئیڈ فون پر کوئی ڈاکیومنٹ دیکھ رہے ہیں اور اسے پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا ہو گا؟ سب سے پہلے آپ اسے فون سے کمپیوٹر میں ٹرانسفر کریں گے۔ دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اسے اپنے ڈراپ باکس اکاؤنٹ میں اپ لوڈ کریں گے، پھر کمپیوٹر پر ڈراپ باکس سے ڈاؤن لوڈ کر کے اس فائل کو پرنٹ کرنے کے قابل ہوں گے۔

جبکہ ’’گوگل کلاؤڈ پرنٹ‘‘ آپ کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں، اپنے پرنٹر پر پرنٹ بھیج سکتے ہیں۔

سسٹم کے ساتھ منسلک پرنٹر سے پرنٹ نکالنا ایک کلک کی مار ہوتا ہے، ’’گوگل کلاؤڈ پرنٹ‘‘ یہی آسانی آپ کے لیے لایا ہے لیکن نئے طریقے سے۔

اس کے لیے مجھے کیا کیا چاہیے ہو گا؟

گوگل کلاؤڈ پرنٹ حاصل کرنے کے لیے آپ کو تین بنیادی چیزوں کی ضرورت ہو گی:
٭ ایک گوگل اکاؤنٹ
٭ ایک کمپیوٹر جس کے ساتھ پرنٹر منسلک ہو اور اس پر کروم براؤزر انسٹال ہو
٭ ایک ڈیوائس جس سے آپ پرنٹ بھیج سکیں (مثال کے طور پر اینڈروئیڈ فون، آئی او ایس ڈیوائس، لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ)

ان تمام چیزوں کو جو چیز جوڑے رکھتی ہے وہ ہے آپ کا گوگل اکاؤنٹ اور کلاؤڈ پرنٹ سرور۔ مارکیٹ میں نئے آنے والے پرنٹرز اب کلاؤڈ پرنٹنگ کی سہولت رکھتے ہیں۔ کون کون سے پرنٹرز یہ صلاحیت رکھتے ہیں یہ جاننے کے لیے آپ یہ لسٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں:

کلاؤڈ پرنٹرز

اگر آپ کے پاس پہلے ہی کلاؤ ڈ پرنٹر موجود ہے تو آپ کوپرنٹ سرور کی ضرورت نہیں۔ پرنٹ سرور وہ کمپیوٹر ہوتا ہے جس کے ساتھ پرنٹر منسلک ہو۔ اس کمپیوٹر کو بذریعہ فون یا ٹیبلٹ فائل بھیجی جاتی ہے اور وہ اسے پرنٹ کرتا ہے۔

اگر آپ کے پاس کلاؤڈ پرنٹر موجود نہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ اپنے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کو اس کام کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اس پر کروم براؤزر انسٹال ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ایک پرنٹر منسلک ہونا چاہیے اور کمپیوٹر کا انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہونا بھی ضروری ہے۔

سب سے آخر میں آپ کو ایک ڈیوائس درکار ہوتی ہے جسے آپ کلاؤڈ پرنٹر کے ساتھ کنفیگر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ڈیوائس یا ڈیوائسز زیادہ تر موبائل ہوتی ہیں کیونکہ آپ کے گھر یا دفتر میں موجود کمپیوٹر تو پہلے سے ہی پرنٹر سے منسلک ہوتے ہیں۔

پرنٹر کنفیگر کیسے کریں؟

سب سے پہلے ہمیں اپنے پرنٹر کو آن لائن کر کے اپنے کلاؤڈ پرنٹ نیٹ ورک میں شامل کرنا ہو گا۔ اگر پرنٹر میں کلاؤڈ پرنٹنگ کی صلاحیت موجود ہے تو پھر یہ مرحلہ باآسانی مکمل ہو جائے گا لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو عام پرنٹر کو آن لائن کرنے میں بھی آپ کو اتنا ہی کام کرنا پڑے گا جیسے نئے پرنٹر میں چند کیبلز لگا کر اسے آن کرنا۔

اس کام کو شروع کرنے کے لیے آپ کے پاس ایک کمپیوٹر ہونا چاہیے، جس کے ساتھ پرنٹر منسلک ہو۔ سسٹم میں کروم براؤزر انسٹال ہو اور انٹرنیٹ بھی چل رہا ہو۔

نوٹ: اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے اس بات کی تصدیق کر لیں کوئی فالتو پرنٹر پی سی پر ایڈ نہ ہو۔

Devices and Printers میں جا کر آف لائن اور غیر ضروری شامل پرنٹرز کو ڈیلیٹ کر دیں۔

دراصل دفاتر حتیٰ کہ گھروں میں بھی پرنٹر بدلتے رہتے ہیں اور ہم نئے پرنٹر ایڈ کر لیتے ہیں جبکہ پرانے ڈیلیٹ نہیں کرتے۔ اگر ان غیر ضروری پرنٹرز کو ڈیلیٹ نہ کیا تو یہ سب آپ کے گوگل کلاؤڈ پرنٹر نیٹ ورک میں شامل ہو کر جھنجٹ کا باعث بنیں گے۔

اب باری ہے کروم براؤزر کو اپنا پرنٹ سرور بنانے کی۔ آپ جب بھی کہیں سے پرنٹ بھیجیں گے تو کروم براؤزر ہی پرنٹر کو اسے پرنٹ کرنے کا حکم دے گا۔

کروم براؤز میں دائیں طرف موجود مینو بٹن پر کلک کر کے سیٹنگز پر کلک کریں۔ ایک نئے ٹیب میں سیٹنگز کھل جائیں تو اسکرول کرتے ہوئے بالکل نیچے آ جائیں۔ اب Show advanced settings پر کلک کریں۔

سیٹنگز کے تمام آپشنز کھل جائیں گے۔ یہاں ’’پرنٹنگ‘‘ کے سیکشن میں موجود گوگل کلاؤڈپرنٹ کا آپشن موجود ہو گا۔

اس بٹن پر کلک کرنے سے پہلے کروم کی سیٹنگز میں دیکھ لیں کہ “Continue running background apps…” کے ساتھ چیک لگا ہوا ہے۔ تاکہ گوگل کروم کھلا نہ ہونے کی صورت میں بھی آپ کلاؤڈ پرنٹنگ استعمال کر سکیں۔ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے اسے چیک لگا رکھا ہے۔

اگر آپ اپنے گوگل اکاؤنٹ میں سائن اِن نہ ہوئے تو یہاں آپ سے سائن اِن کرنے کا کہا جائے گا۔ آپ پہلے سے ہی سائن اِن ہوئے تو آپ کو اگلے صفحے پر منتقل کر دیا جائے گا جہاں Manage printers نامی بٹن آپ کا منتظر ہو گا۔

اس پر کلک کرتے ہی آپ کے سسٹم میں ایڈ پرنٹرز کو آن لائن کلاؤڈ پرنٹر نیٹ ورک میں شامل کر دیا جائے گا۔ اگر ایسا خود بخود نہ ہو تو ’’ایڈ پرنٹر‘‘ کا بٹن موجود ہو گا۔ پرنٹر شامل کرنے کے بعد اگر آپ انھیں ختم کرنا چاہیں تو ’’ڈسکنیکٹ پرنٹرز‘‘ کا آپشن موجود ہو گا۔

ایک بات کا اور دھیان رکھیں کہ اس عمل کو ایک سے زیادہ مرتبہ مت دُہرائیں، ورنہ پرنٹرز کی اضافی کاپیاں بن جائیں گی۔

اگلے صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ تمام پرنٹر کلاؤڈ پرنٹ کے سیکشن میں موجود ہیں۔ آپ جب چاہیں ان پرنٹرز کو درج ذیل یور آر ایل سے دیکھ سکتے ہیں:

پرنٹرز کی تفصیل

اگر آپ کسی پرنٹر کو یہاں شامل نہ رکھنا چاہیں تو اس کے سامنے موجود Manage کے بٹن پر کلک کریں اور اگلے کھلنے والے صفحے پر اسے ڈیلیٹ کرنے کا آپشن موجود ہو گا۔ یہی نہیں یہاں ایک زبردست آپشن ’’شیئر‘‘ کرنے کا موجود ہے۔

یعنی آپ اپنے کلاؤڈ پرنٹر کو دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کر سکتے ہیں اور چاہیں تو سب دوست مل کر ایک شیئر کردہ پرنٹر استعمال کر سکتے ہیں۔

کلاؤڈ پرنٹر سے کیسے پرنٹ کریں؟

پرنٹر کو کلاؤڈ پرنٹنگ کے قابل بنا لینے کے بعد اب ہمیں سب سے اہم کام کرنا ہے یعنی کسی ڈیوائس کی مدد سے پرنٹر سے پرنٹ نکالنا۔

اگر آپ ڈیوائس پر اینڈروئیڈ استعمال کر رہے ہیں تو اس کام کے لیے ’’گوگل کلاؤڈ پرنٹ‘‘ ایپلی کیشن موجود ہے جسے درج ذیل یو آر ایل سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے:

ایپلی کیشن انسٹال کریں

اس ایپلی کیشن سے آپ باآسانی اپنے کلاؤڈ پرنٹر سے پرنٹ نکال سکتے ہیں۔

جب بھی کوئی ڈاکیومنٹ یا تصویر پرنٹ کرنے کی ضرورت ہو، بس اس ایپلی کیشن کو کھولیں اور پرنٹر منتخب کر کے پرنٹ بھیج دیں۔

آپ دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوئے یہ پرنٹ بذریعہ انٹرنیٹ بھیجیں گے اور آپ کا کلاؤڈ پرنٹر فوراً اسے پرنٹ کر دے گا۔

اگر آپ کسی بھی طرح کی گوگل ایپلی کیشن استعمال کر رہے ہیں چاہے اینڈروئیڈ کے لیے گوگل ڈرائیو ایپ ہو، آئی او ایس یعنی ایپل کی کسی ڈیوائس پر جی میل استعمال کر رہے ہوں یا گوگل ڈاکس کے ویب انٹرفیس پر لاگ اِن ہوں آپ کلاؤڈ پرنٹر سروس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اینڈروئیڈ فون پر گوگل ڈرائیو استعمال کر رہے ہیں اور اپنے کلاؤڈ پرنٹر سے کوئی فائل پرنٹ کرنا چاہتے ہیںتو پہلے اس فائل کو کھول لیں۔ مینو پر کلک کر کے ’’پرنٹ‘‘ کا آپشن سلیکٹ کریں۔ اب وہ پرنٹر سلیکٹ کریں جس سے آپ یہ فائل پرنٹ کرنا چاہتے ہیں۔ پرنٹ آپشنز دیکھیں، سب صحیح ہے تو پرنٹ بھیج دیں۔ آپ کے پرنٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی پرنٹ آپ کا منتظر ہو گا۔

اگر آپ براہ راست کسی گوگل ایپ کے ذریعے پرنٹنگ نہیں کر رہے یا گوگل کروم میں اکاؤنٹ سنک آن ہے تو آپ کو ایک عدد مددگار ایپلی کیشن کی ضرورت ہو گی۔ اینڈروئیڈ، آئی او ایس، ونڈوز اور میک او ایس ایکس کے لیے ہیپلر ایپلی کیشنز دستیاب ہیں جنھیں اس لنک سے دیکھا جا سکتا ہے:

www.google.com/cloudprint/learn/apps.html

آپ اپنی پسند یا ضرورت کے تحت جو چاہے ایپلی کیشن یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔

اختتامیہ

ایک دفعہ یہ سادہ سی کنفگریشن کر لینے کے بعد آپ کلاؤڈ پرنٹ سسٹم کو وسعت دے سکتے ہیں۔ پرنٹر کو اپنے دوستوں اور کولیگز کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ ایسی دستاویزات جن کے پرنٹس آپ کو چاہیے ہوں ان کو براہ راست اپنے پرنٹر پر حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے عزیز و اقارب خاص کر بزرگوں کو تصاویر بھیجنے کے لیے ان کے لیے ایک مشترکہ پرنٹر رکھ سکتے ہیں۔ سب لوگوں کی بھیجی ہوئی تصاویر ایک ہی پرنٹر سے نکالی جا سکتی ہیں۔

 16,584

خصوصی مضامین

بڑی فائلیں کیسے بھیجیں، وہ بھی مفت؟

از فہد کیہر مورخہ جنوری 24، 2018

 4,471

48

یہ صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب ہے جس کے نیچے ای میل کی سروسز دبتی چلی جا رہی ہیں، بالخصوص جب معاملہ کوئی فائل بھیجنے کا ہو تو اندازہ ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ اٹیچمنٹ کے ذریعے چند تصویریں بھیج سکتے ہیں لیکن جیسے ہی معاملہ آڈیو یا وڈیو فائل بھیجنے کا ہوتا ہے، ہم پھنس جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جی میل جیسی شاندار ای میل سروس کو استعمال کرتے ہوئے بھی آپ 50 ایم بی سے زیادہ کی فائل اٹیچ نہیں کر سکتے۔

تو اگر ہمیں کوئی بڑی فائل آن لائن بھیجنی ہو تو کیا کریں؟ اس کے لیے دو طریقے عام ہیں، کس کا انتخاب کیا جائے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کو فائل ایک ہی بار بھیجنی ہے یا آپ ایسی بڑی فائلیں بارہا بھیجنا چاہتے ہیں۔

اگر ایک بار بھیجنی ہو تو ایسی چند ویب سائٹس ہیں جو آپ کو ایک بڑی فائل اپلوڈ کرنے کی سہولت دیتی ہیں، اس کا لنک بنتا ہے اور وہ وصول کنندہ کو دے دیا جاتا ہے۔ یہ کسی کو براہ راست کوئی پارسل بھیجنے جیسا ہے بلکہ ایسا ہے جیسے ایک پارسل کسی محفوظ مقام پر رکھ دیا اور جس کو بھیجا ہے وہ اپنی سہولت کے حساب سے جاکر لے لے۔

لیکن اس کے لیے کون سی سروس استعمال کی جائے؟ اگر آپ صرف ایک بار فائل بھیجنا چاہتے اور ساتھ ہی کسی ویب سائٹ پر رجسٹر بھی نہیں ہونا چاہتے تو وی ٹرانسفر (WeTransfer) ایک اچھا آپشن ہے جو آپ کو 2 جی بی تک کی فائلیں اپلوڈ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 20 افراد کے ای میل ایڈریس ڈالیں اور آپ کا لنک ان تمام کو بھیج دیا جائے گا، جو اپلوڈ کے بعد ایک ہفتے تک کارآمد رہے گا۔

اگر 2 جی بی کافی نہیں ہے تو سینڈ اینی ویئر (Send Anywhere) کو آزمائیں۔ یہاں آپ براؤزر کے ذریعے 4جی بی، آؤٹ لک پلگ ان یا کروم ایکسٹینشن کے ذریعے 10 جی بی اور اینڈرائیڈ یا آئی او ایس ایپس کے ذریعے 20 جی بی تک کی فائلیں بھیج سکتے ہیں۔ اگر آپ ویب ورژن پر ہی رہیں تو آپ کو رجسٹر کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔

اگر آپ سکیورٹی اور پرائیویسی کو اہمیت دیتے ہیں تو آپ موزیلا کے حل سینڈ (Send) پر غور کریں۔send.firefox.com پر جائیں اور آپ کو 1 جی بی تک کی فائل اپلوڈ کرنے کی اجازت ہے جو انکرپٹڈ بھی ہوگی۔ فائل 24 گھنٹے کے اندر تلف کردی جائے گی، یا پھر اس کے بعد صرف ایک بار ڈاؤنلوڈ ہو پائے گی۔ موزیلا اپلوڈ یا ڈاؤنلوڈ ہونے فائلوں تک کوئی رسائی نہیں رکھتا۔

البتہ سینڈ میں ایک خامی ہے کہ اس سے فائل زیادہ افراد کو نہیں بھیجی جا سکتی۔ یہ طریقہ صرف فرد سے فرد فائل منتقلی کے لیے ہی کارآمد ہے۔

اگر آپ اپنی اہم فائلیں مقامی فولڈر کے بجائے کلاؤڈ پر رکھتے ہیں، تو آپ انہیں اپنے دوستوں سے شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ ڈراپ بکس آپ کو ان افراد کے ساتھ بھی فائلیں شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے جو اس کے ممبر نہیں ہیں۔ یہ 2جی بی کی آن لائن اسٹوریج مفت دیتا ہے اور ریفرلز کو ملائیں تو 16 جی بی تک کی اضافی اجازت مل سکتی ہے۔ ویسے قیمتاً بھی کئی پلانز دستیاب ہیں۔

کچھ یہی کہانی گوگل ڈرائیو کی بھی ہے اور اگر آپ گوگل اکاؤنٹ رکھتے ہیں تو آپ کے پاس 15 جی بی کی جگہ موجود ہے، جائیے اور حاصل کیجیے۔ آپ یہ فائلیں دیگر افراد کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں اور انہیں اپنے آن لائن اسٹوریج تک محدود رسائی دے سکتے ہیں۔

آخر میں ڈراپ بکس اور گوگل ڈرائیو کے مقابلے میں مائیکروسافٹ کے ون ڈرائیو کا ذکر۔ یہ بھی 15 جی بی اسٹوریج رکھتا ہے اور آپ کو بلٹ اِن شیئر بٹن کے ساتھ فائلوں کو باآسانی شیئر کرنے کی سہولت دیتاہے۔


 

ہم اپنی فائلز کو یو ایس بی فلیش ڈرائیو میں ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں یا پھر انھیں اپنی کلاؤڈ اسٹوریج میں اپ لوڈ کر دیتے ہیں تاکہ کسی وقت ضرورت پڑنے پر انھیں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کے علاوہ ان فائلوں کو براہِ راست کلاؤڈ سرور پر ملاحظہ بھی کیا جا سکتا ہے یا میڈیا فائلوں کو اسٹریم کیا جا سکتا ہے۔ کلاؤڈ سروسز واقعی بے مثال چیز ہیں لیکن ان میں دو خرابیاں ہیں، ایک تو ان کی محدود اسپیس اور دوسرا سکیوریٹی خطرہ۔ یعنی ان پر فائلز اپ لوڈ کرنے کی ایک حد مقرر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ جتنا چاہیں ڈیٹا ان پر اپ لوڈ کر دیں۔ دوسری بات سکیوریٹی رسک، یعنی اپنی حساس فائلز ہم کلاؤڈ سرورز پر رکھنے سے ڈرتے ہیں کہ اکاؤنٹ ہیک ہونے یا سرور ہی ہیک ہونے سے ہمارا ڈیٹا کسی دوسرے کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ ان مسائل کا حل یہ اپنے کمپیوٹر پر ہی کلاؤڈ سرور بنایا جائے۔
کسی بھی کمپیوٹر کو کلاؤڈ سرور میں بدلنے کے لیے آپ کو ایک پروگرام ’’ٹونیڈو‘‘ (Tonido) چاہیے۔ پہلے یہ پروگرام 29ڈالر کے عوض ایک سال کے لیے دستیاب تھا لیکن اب اسے مفت فراہم کر دیا گیا ہے۔ جب یہ بہترین پروگرام مفت دستیاب ہے تو کیوں نہ اس کا تجربہ کیا جائے؟

اس پروگرام میں کئی خوبیاں موجود ہیںمثلاً یہ سادہ سی انسٹالیشن سے آپ کے کمپیوٹر پر کلاؤڈ سرور بنا دیتا ہے، آپ چاہیں تو اپنے مکمل کمپیوٹر کو اس میں شامل کر سکتے ہیں اور چاہیں تو مخصوص فولڈر یا فولڈرز کو۔
ٹونیڈو کی آئی فون اور اینڈروئیڈ ایپلی کیشن بھی دستیاب ہے، یعنی ویسے تو آپ اپنے کلاؤڈ سرور تک ویب براؤزر کے ذریعے رسائی حاصل کر ہی سکتے ہیں لیکن ایپلی کیشن سے اس کی کارکردگی اور بہتر ہو جاتی ہے۔
ٹونیڈو پورٹ ایبل پروگرام کی صورت میں بھی موجود ہے، تاکہ اسے آپ یوایس بی فلیش ڈرائیو میں رکھ کر جہاں چاہیں کسی کمپیوٹر کو فوری طور پر کلاؤڈ سرور میں بدل سکتے ہیں۔

کمپیوٹر میں موجود فائلز تک جلد رسائی حاصل کرنے کے لیے ٹونیڈو بہترین طریقہ ہے۔ فرض کریں کمپیوٹر میں موجود کوئی فائل آپ کو فوری طور پر موبائل فون میں چاہیے تو آپ فوراً وہ فائل ٹونیڈو کے ذریعے بنائے گئے کلاؤڈ سرور کی بدولت دیکھ سکتے ہیں۔
فون میں موجود ڈیٹا کو کمپیوٹر میں بیک اپ کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ آپ کہیں بھی ہوں، اگر آپ کا کمپیوٹر کلاؤڈ سرور بن چکا ہے تو آپ اسے ویب براؤزر یا فون ایپلی کیشن کے ذریعے کھول کر اس میں اپنا ڈیٹا اپ لوڈ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو ڈاؤن لوڈ بھی۔
ایک کمپیوٹر کو مرکزی سرور جبکہ دیگر کمپیوٹرز کو کلائنٹ بنا کر ایک مشترکہ فولڈر میں سب کا ڈیٹا اکٹھا رکھا جا سکتا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ ایک شیئرڈ فولڈر استعمال کیا جا سکتا ہے جو کہ ہر وقت sync رہتا ہے۔ اس میں کی گئی ہر تبدیلی تمام صارفین کے لیے ہوتی ہے۔

دستیابی

ٹونیڈوونڈوز، لینکس، میک، رس بیری پائی، آئی فون، آئی پیڈ، اینڈروئیڈ، ونڈوز فون اور بلیک بیری یعنی تمام اہم پلیٹ فارمز کےلیے دستیاب ہے۔
اپنی ضرورت کے تحت اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے درج ذیل ربط پر جائیں:
tonido.com/tonidodesktop_downloads

انسٹالیشن

ٹونیڈو انسٹالر کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد چلائیں۔ اسے کام کرنے کے لیے فائروال میں اجازت چاہیے ہوتی ہے، یہ کام ٹونیڈو خود ہی کر لیتا ہے بس آپ کو الرٹ آنے پر Allow کے بٹن پر کلک کرنا ہے۔

اس کے بعد کی انسٹالیشن دراصل کنفگریشن ہے جو کہ آپ کے ڈیفالٹ براؤزر میں ہو گی۔پہلے صفحے پر زبان، یوزر نیم، پاس ورڈ اور ای میل ایڈریس مانگا جائے گا۔ یہ تمام تفصیلات بھرنے کے بعد اس کی شرائط قبول کرتے ہوئے Create کے بٹن پر کلک کر دیں۔

اگلے صفحے پر آپ کے کمپیوٹر میں بننے والے کلاؤڈ سرور کا ایڈریس موجود ہو گا۔ آپ کے یوزرنیم کے بعد ویب سائٹ کا نام آپ کا ویب ایڈریس بنتا ہے جسے یاد رکھنا کچھ مشکل نہیں۔ جیسے کہ ہمیں یہ ایڈریس ملا ہے:
computingpk.tonidoid.com

اگلا مرحلہ انتہائی اہم ہے۔ یہاں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنا مکمل کمپیوٹر اس کلاؤڈ سرور میں استعمال کرنا چاہتے ہیں یا کہ مخصوص فولڈرز۔ ابتدائی طور پر کوئی ایک فولڈر منتخب کر لیں۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ اس میں بعد میں بھی جب چاہیں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس میں فولڈرز شامل بھی کیے جا سکتے ہیں اور ڈیلیٹ بھی۔

اگلے صفحے پر انڈیکسنگ کے بارے میں استفسار کیا جائے گا۔ اگر ٹونیڈو تمام فائلز کو انڈیکس کر لے یعنی ان کی فہرست بنا لے تو جب آپ کوئی فائل تلاش کریں گے یا کوئی فولڈر کھولیں گے تو یہ جلدی آپ کے سامنے آپ کی ضرورت کا ڈیٹا پیش کر دے گا۔ اگر آپ کوئی پرانا کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں تو انڈیکسنگ کو ضرور فعال کر لیں۔

اگلے مرحلے پر آپ کو بتایا جائے گا کہ کس طرح آپ اسمارٹ فون ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے کلاؤڈ سرور تک پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے ٹونیڈو آئی او ایس، اینڈروئیڈ، ونڈوز فون اور بلیک بیری کے لیے بھی دستیاب ہے۔ آپ اپنی ضرورت کے تحت ایپلی کیشن انسٹال کر سکتے ہیں۔

اگلے صفحے پر آپ کا کلاؤڈ سرور جو آپ کے اپنے کمپیوٹر پر بنایا گیا ہے آپ کے سامنے ہو گا۔ اس صفحے پر اوپر ہی آپ اپنا یوآرایل ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

اب آپ جہاں سے چاہیں اس یوآرایل کی مدد سے بذریعہ انٹرنیٹ اپنے کلاؤڈ سرور تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یقیناً یہ بات قابل ذکر نہیں کہ اس کے لیے آپ کا کمپیوٹر نہ صرف آن ہونا چاہیے، اس پر ٹونیڈو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بھی چل رہا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ظاہر ہے ان چیزوں کے بغیر بھلا ایک کلاؤڈ سرور کا کام کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

جہاں بھی اپنے کلاؤڈ سرور کی ضرورت ہو، اپنے سرور کا پتا ویب براؤزر میں ٹائپ کریں یا اسمارٹ فون ایپلی کیشن استعمال کریں، لاگ اِن پیج آپ کے سامنے ہو گا۔ اپنے درست پاس ورڈ کے ذریعے آپ لاگ ان ہو سکتے ہیں۔آپ کو بتاتے چلیں کہ اسمارٹ فون پر ایپلی کیشن کی انسٹالیشن ضروری نہیں، فون میں موجود ویب براؤزر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹونیڈو کے ذریعے آپ کا کلاؤڈ سرور اُسی صورت میں کام کرے گا جب آپ اسے چلائیں گے۔ اسے چلانے کے لیے اس کے آئی کن پر ڈبل کلک کریں تو یہ کام شروع کر دے گا۔ اس کا آئی کن ٹاسک بار میں دکھائی دینا شروع کر دے گا۔ اسی پر رائٹ کلک کرتے ہوئے اسے آپ شٹ ڈاؤن بھی کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس کی کنفگریشن میں ہر طرح کی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے اپنا سرور لاگ اِن کرنے کے بعد سیٹنگز کے مینو میں جائیں۔ سیٹنگز میں آپ سرور میں مزید فولڈرز شامل کر سکتے ہیں، پاس ورڈ بدل سکتے ہیں، سرور کی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوئی خفیہ سوال بھی شامل کر سکتے ہیں وغیرہ۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ مئی2015 میں شائع ہوئی)

کلاؤڈکلاؤڈ اسٹوریجکلاؤڈ سرورکلاؤڈ کمپیوٹنگ

 1,013

1FacebookWhatsApp

خصوصی مضامین

گوگل کلاؤڈ پرنٹ کیسے استعمال کریں؟

از علمدار حسین مورخہ ستمبر 14، 2013

 1,041

3

کیا یہ بات شاندار نہیں ہو گی کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوئے کسی بھی ڈیوائس (ڈیسک ٹاپ، فون، ٹیبلٹ) سے اپنے کسی بھی پرنٹر سے پرنٹ نکال سکیں؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ گوگل کلاؤڈ پرنٹ سے یہ بالکل ممکن اور پرنٹنگ کے لیے بہترین طریقہ ہے۔
کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بارے میں تفصیلی آرٹیکل آپ کمپیوٹنگ میں پڑھ چکے ہوں گے۔ نیٹ ورک/انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر تک مختلف افراد کو رسائی کی سہولت فراہم کرنا کلاؤڈ کمپیوٹنگ کہلاتا ہے۔
گوگل نے کلاؤڈ پرنٹ کی سہولت دے کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک اہم پیش قدمی کی۔ گوگل کلاؤڈ پرنٹ کے ذریعے آپ اپنے گھر یا دفتر کے پرنٹر کو ویب سے منسلک کر سکتے ہیں اور پھر آپ دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوئے اپنی دستاویزات کو پرنٹ کرنے کے لیے اُن پرنٹرز کو استعمال کر سکتے ہیں۔ گویا آپ کہیں بھی موجود ہوں اور کسی فائل کو پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے کلاؤڈ پرنٹر کو استعمال کریں گے اور یوں آپ کے گھر یا دفتر کے پرنٹر سے اُس فائل کا پرنٹ نکل آئے گا۔

کلاؤڈ پرنٹ کا کیا فائدہ؟

کمپیوٹر پر کام کرنا پہلے سے سہل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ کلاؤڈ پرنٹ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایک دفعہ اگر آپ جان جائیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے اور اسے کنفیگر کر لیں تو آپ کئی قسم کی دشواریوں سے آزاد ہو کر براہ راست اپنے موبائل اور ٹیبلٹ سے بھی پرنٹس نکال سکیں گے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس کے لیے یہ قطعی ضروری نہیں کہ آپ کے پاس کلاؤڈ پرنٹنگ کی سپورٹ کا حامل پرنٹر موجود ہو۔
دوسرے الفاظ میں آپ اسے یوں سمجھ سکتے ہیں اگر آپ اپنے اینڈرائیڈ فون پر کوئی ڈاکیومنٹ دیکھ رہے ہیں اور اسے پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا ہو گا؟ سب سے پہلے آپ اسے فون سے کمپیوٹر میں ٹرانسفر کریں گے۔ دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اسے اپنے ڈراپ باکس اکاؤنٹ میں اپ لوڈ کریں گے، پھر کمپیوٹر پر ڈراپ باکس سے ڈاؤن لوڈ کر کے اس فائل کو پرنٹ کرنے کے قابل ہوں گے۔
جبکہ ’’گوگل کلاؤڈ پرنٹ‘‘ آپ کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں، اپنے پرنٹر پر پرنٹ بھیج سکتے ہیں۔
سسٹم کے ساتھ منسلک پرنٹر سے پرنٹ نکالنا ایک کلک کی مار ہوتا ہے، ’’گوگل کلاؤڈ پرنٹ‘‘ یہی آسانی آپ کے لیے لایا ہے لیکن نئے طریقے سے۔….

گوگل کلاؤڈ پرنٹ استعمال کرنے کے لیے مجھے کیا کیا چاہیے ہو گا؟

پرنٹر کیسے کنفیگر کرے

کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو سمجھیں

کچھ عرصہ قبل یوٹیوب پر ایک صاحب کے انٹرویو کی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ویڈیو کی تفصیلات کے مطابق وہ موصوف بھارت میں انکم ٹیکس کے وزیر تھے۔ اللہ جانے، اس دعوے میں کس حد تک سچائی تھی لیکن وہ جس بااعتماد انداز میں انٹرویو دیتے ہوئے ’’کلاؤڈ‘‘ کو بیان کررہے تھے، وہ اُن کی ناقص معلومات کی انتہا تھی۔ موصوف کی سادگی دیکھتے ہوئے بے ساختہ قہقہے چھوٹے جاتے تھے۔ وہ بھی دیگر سادہ لوح انسانوں کی طرح ’’کلاؤڈ‘‘ کو ’’بادل‘‘ کے لفظی معنوں میں لے کر بیان کررہے تھے کہ اس سے مراد بادلوں میں اپنا ڈیٹا محفوظ کرنا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ’’کلاؤڈ‘‘ کی اصطلاح کے استعمال اور اس سہولت سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ جانیں گے کہ آخر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں ’’کلاؤڈ‘‘ یا ’’کلاؤڈ کمپیوٹنگ‘‘ سے مراد کیا ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں۔

کیا؟

نیٹ ورک/ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ہارڈویئر یا سوفٹ ویئر تک مختلف افراد کو رسائی کی سہولت فراہم کرنا کلاؤڈ کمپیوٹنگ کہلاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس کا بادلوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے؛ بلکہ، اسے کلاؤڈ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس خیال کی بنیادی تصویر بادل سے ملتی جلتی ہے۔

کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی مختلف اقسام ہیں؛ مثلاً پلیٹ فارم، ڈھانچا، سوفٹ ویئر، اسٹوریج، ڈیٹا، ڈیسک ٹاپ وغیرہ کی سہولیات کی فراہمی۔

یہ کمپیوٹنگ کی وہ شکل ہے جس کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے؛ جہاں آپ کی طلب کے مطابق آپ کو سوفٹ ویئر یا دیگر وسائل تک رسائی دی جاتی ہے۔

کب؟

کلاؤڈ (بادل) کی شکل 1990ء کی دہائی میں انٹرنیٹ کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اگرچہ اس وقت کلاؤڈ کا تصور واضح نہ تھا لیکن اس شکل کو عام طور پر ایسے کمپیوٹر یا سرور یا نیٹ ورک سے منسلک کیا جاتا تھا جس میں دو یا زائد کمپیوٹرز کسی ایک کمپیوٹر سے منسلک ہوں اور اُس کے وسائل (resources) استعمال کرتے ہوں۔

اگر کلاؤڈ کے بنیادی تصور کو دیکھیں تو 1950ء کی دہائی میں جنم لینے والے مین فریم کمپیوٹرز اس کی واضح مثال تھے جن سے مختلف بڑے اداروں میں صارفین یا ملازمین کے زیرِ استعمال چھوٹے چھوٹے کمپیوٹرز منسلک ہوتے تھے اور ایک مین فریم کمپیوٹر دیگر تمام کمپیوٹرز سے موصول ہونے والے ڈیٹا اور ہدایات پر عمل کرتا تھا۔

انٹرنیٹ کے عام ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کو آن لائن محفوظ کرنے کے خیال نے زور پکڑا تاکہ اُس ڈیٹا تک کہیں سے بھی محفوظ رسائی حاصل کی جاسکے۔ بعدازاں، بات صرف ڈیٹا کو آن لائن محفوظ کرنے اور کسی بھی جگہ دست یاب کرنے تک محدود نہیں رہی؛ بل کہ، مختلف ایپلی کیشنز کو بھی آن لائن فراہم کیا جانے لگا۔

کیوں؟

کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے بہت سے فوائد اور آسانیوں کا حصول ممکن ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

 آپ اپنے ڈیٹا تک کسی بھی کمپیوٹر، موبائل فون یا انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہوجانے والی ڈیوائس کے ذریعے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کو اپنا مطلوبہ ڈیٹا آن لائن محفوظ کرنے کے لیے اپنے ہی ای میل ایڈریس پر بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے ڈیٹا تک اپنی مرضی کے مطابق دیگر افراد کو بھی رسائی دے سکتے ہیں۔٭ آپ کی اجازت کے تحت دیگر افراد ڈیٹا کو صرف دیکھنے یا اُس میں ترمیم کرنے کی سہولت سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ یوں ٹیم ورک یا مل جل کر کام کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔ آن لائن امتحانات یا دیگر منصوبوں کے ذریعے وقت اور وسائل کی بے پناہ بچت ہوتی ہے۔٭ کلاؤڈ میں محفوظ ڈیٹا آپ کے لیے بیک اپ کا کام بھی کرتا ہے اور اگر کسی حادثے کی صورت میں آپ کی ہارڈ ڈسک خراب ہوجائے یا کمپیوٹر میں محفوظ آپ کا ڈیٹا ضائع ہوجائے تو آپ اپنی کلاؤڈ اسٹوریج سے حاصل کرسکتے ہیں۔

کون؟

اس وقت کمپیوٹنگ کلاؤڈ کی سہولت مختلف ادارے فراہم کررہے ہیں۔ مثلاً:
بیک اپ/ اسٹوریج: گوگل ڈرائیو، ڈراپ باکس، فور شیئرڈ (4shared)، پکاسا، فلکر
ایپلی کیشنز: گوگل ڈوکس (Docs)، گوگل ایپس، مائکروسوفٹ لائیو
دیگر: Outright.com، HP کلاؤڈ، کلاؤڈ پرنٹ

کیسے؟

اس سوال کے مختلف پہلو ہیںاور اس کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کلاؤڈ کی کون سی قسم استعمال کررہے ہیں۔ اگر ہم بیک اپ یا اسٹوریج کے لیے کسی ایک سروس کا انتخاب کرتے ہیں تو اس صورت میں سب سے پہلے اپنی مطلوبہ ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنانا لازمی ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ہم گوگل ڈرائیو کو منتخب کرتے ہیں۔ drive.google.com پر جائیں تو وہ آپ سے گوگل اکاؤنٹ کے ذریعے لاگ ان ہونے کا کہے گا۔ اگر آپ کے پاس گوگل اکاؤنٹ ہے تو مطلوبہ تفصیلات فراہم کرکے لاگ ان ہوجائیں ورنہ اکاؤنٹ بنالیں۔ گوگل ڈرائیو پر لاگ ان ہونے کے بعد آپ کو ڈاؤن لوڈ گوگل ڈرائیو کا لنک نظر آئے گا۔ آپ وہاں سے گوگل ڈرائیو ڈاؤن لوڈ کرلیں۔ ڈاؤن لوڈ اور انسٹالیشن مکمل ہونے کے بعد آپ کے کمپیوٹر میں گوگل ڈرائیو کے نام سے ایک فولڈر بن جائے گا۔ یہ فولڈر اسی ڈرائیو یا جگہ پر بنے گا جہاں آپ اسے بنانے کی اجازت دیں گے ۔مثال کے طور پر آپ چاہیں گے کہ یہ فولڈر ایسی ڈرائیو میں بنے جہاں زیادہ خالی اسپیس موجود ہو۔ اب آپ اس فولڈر میں جو فائلیں رکھتے جائیں گے، انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہونے کی صورت میں وہ تمام کلاؤڈ (یعنی آن لائن سرورز) میں محفوظ ہوتی جائیں گے۔ اب آپ گوگل ڈرائیو کی مدد سے ان فائلوں تک اپنے زیرِ استعمال تمام کمپیوٹرز سے رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

فرض کریں کہ آپ ایک کمپیوٹر گھر پر اور دوسرا کمپیوٹر دفتر میں استعمال کرتے ہیں جب کہ اپنے لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون کے ذریعے بھی انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔ آپ نے اپنے گھر کے کمپیوٹر میں ایک فائل پر کام کیا اور اُس فائل کو گوگل ڈرائیو فولڈر میں محفوظ کیا۔ اب آپ دفتر جاکر اُسی فائل پر کام کرنا چاہتے ہیں تو جب آپ دفتر کے کمپیوٹر پر اپنا گوگل ڈرائیو فولڈر کھولیں گے تو وہی فائل وہاں بھی موجود ہوگی اور آپ اُس میں وہیں سے ترمیم کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دورانِ سفر اگر آپ اپنے لیپ ٹاپ یا اسمارٹ فون سے اُس فائل تک رسائی چاہیں تو وہ بھی ممکن ہوسکے گی۔ یہی طریقہ ڈراپ باکس اور فورشیئرڈ پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
یوں ہی اگر آپ کلاؤڈ ایپلی کیشنز کا جائزہ لیں جیسا کہ گوگل Docs یا مائکروسوفٹ لائیو، تو وہاں صارفین کو انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف ایپلی کیشنز اور سوفٹ ویئر تک رسائی دی جاتی ہے اور وہ اسی پلیٹ فارم پر رہتے ہوئے مختلف کام انجام دے سکتے ہیں؛ مثلاً، دستاویزات، خطوط، ڈیٹا انٹری اور پریزنٹیشنز وغیرہ تیار کرسکتے ہیں، نیز اُن تک دوسرے افراد کو بھی رسائی دے سکتے ہیں۔

گوگل نے اپریل 2010ء میں کلاؤڈ پرنٹ کی سہولت دے کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک اہم پیش قدمی کی۔ گوگل کلاؤڈ پرنٹ کے ذریعے آپ اپنے گھر یا دفتر کے پرنٹر کو ویب سے منسلک کرسکتے ہیں اور پھر آپ دنیا میں کہیں بھی اپنی دستاویزات کو پرنٹ کرنے کے لیے اُن ہی پرنٹرز کو استعمال کرسکتے ہیں۔ گویا آپ کہیں بھی موجود ہوں اور کسی فائل کو پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے کلاؤڈ پرنٹر کو استعمال کریں گے اور یوں آپ کے گھر یا دفتر کے پرنٹر سے اُس فائل کا پرنٹ نکل آئے گا۔

جدید ویب براؤزرز بھی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی طرف بڑھ چکے ہیں؛ جیساکہ گوگل کروم یا فائرفوکس۔ کروم یا فائرفوکس ویب براؤزر استعمال کرتے ہوئے اگر آپ لاگ ان ہوجائیں تو آپ کا تمام ڈیٹا synchronize ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً آپ اپنے گھر کا کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے ویب براؤزر میں اگر کسی ویب سائٹ پر اپنی اکاؤنٹ تفصیلات (اسمِ صارف، پاس ورڈ وغیرہ) محفوظ کرتے ہیں تو دوسرے کسی کمپیوٹر پر بھی جب آپ اُس براؤزر میں لاگ ان ہوں گے تو تمام محفوظ کردہ تفصیلات وہاں بھی دست یاب ہوں گی۔ یا اگر آپ اپنے ویب براؤزر میں کوئی ایپلی کیشن یا ایڈآن نصب کرتے ہیں تو آپ کے زیرِ استعمال تمام کمپیوٹرز کے ویب براؤزر پر وہ تمام دستیاب ہوں گے۔ اسی طرح اگر آپ آپریٹنگ سسٹم دوبارہ نصب کرتے ہیں تو آپ کو اپنے ویب براؤزر کی ترتیب ایک بار پھر سے چھیڑنی نہیں پڑے گی بلکہ آپ کا براؤزر پہلے والی حالت ہی میں آپ کو واپس دست یاب ہوگا۔

تو پھر انتظار کیسا؟ آئیں اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے استفادہ کریں۔ اور ہاں! کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے بادلوں میں ہونے والی کمپیوٹنگ مراد لینے والے بھولے بھالے افراد کی اصلاح بھی کردیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری