عصر حاضر کی متنازعہ ترین کتاب: تاریخ کی موت از فرانسس فوکویاما
                                      ==============
      سطور ھذا میرے فہم و ادارک کی بے بسی و عاجزی اور ان سے ابھرنے والے مایوسی کا نتیجہ ہیں. دوہزار تین سے کئی بار اس کتاب کو پڑھ رہا ہوں کچھ سمجھ نہیں اراہا. گزشتہ کئی دن سے اسے آخری بار پڑھنے کا قصد کیا. میں روزانہ دوسو سے چارسو تک صفحات پڑھتا ہوں، معمول کے کاموں اور واک وغیرہ کے علاوہ. آج چوتھی دن ہے. اس کی وجہ سے واک بھی چھوڑی ہے مگر یہ  354 صفحات ختم نہیں ھورہے، نہ کچھ پلے پڑ رہا ہے.
   سموئل ھنٹگٹن کی تہذیبوں کے تصادم Clash of Civilizations کے تعاقب میں ایرانی صدر سید محمد خاتمی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو سال دو ہزار چار کو تہذیبوں کے درمیان گفتگو "گفتگوئے تمدنہا یا Dialogue Among Civilizations کا سال مقرر کرنے کا کہا جیسے کوفی عنان نے منظور کیا. ایران میں اس کیلئے ایک باقاعدہ سکریٹریٹ، مرکز گفتگوئے تمدنہا قائم کی گئی. پاکستان سے راقم اس کا نمائندہ چنا گیا. عمر بلکل اکیس سال تھی. ایران کے سابق نائب صدر، سابق وزیر ثقافت اور عالمی شہرت کے سکالر و فلسفی عطاء اللہ مہاجرانی اس کا سربراہ تھا. ان کے دفتر میں مختلف امور پر ان سے سوالات پوچھ رہا تھا. ایک سوال یہ کیا کہ  ایکسلنسی، آج کی دنیا میں ایک ژرف نگاہ ھمہ جہت اور پختہ فکر سکالر بننے کیلئے کونسی کتاب بطور آخری نصاب کے لازمی ھے؟ بے ساختہ جواب دیا، " فرانسس فوکویاما کی خاتمہ تاریخ. Fukuyama's End of History!"
     مہاجرانی کا مطلب ھرگز یہ نہیں تھا کہ کوئی فوکویاما پڑھے بغیر عالم نہیں بن سکتا. بلکہ فوکویاما کی کتاب کی اہمیت پر تاکید کر رہے تھے. واپسی پر تب سے اب تک میں فوکویاما کے پیچھے پڑا ھوں، قابل گرفت ھی نہیں. پاکستان کے تمام نام نہاد دانشوروں، صحافیوں، اینکر پرسنز سے جب بھی اس آفاقی  نابغے بارے پوچھتا ہوں، نام تک سے بے خبر ھوتے ہیں. خود بار بار پڑھتا ہوں اور ھر بار کتاب کے کامل ادراک سے قاصر رہتا ہوں...... مدرسے کے ایک ملا زادہ، اور راولپنڈی کے راجہ بازار کے آئس فیکٹری میں بطور مزدور اپنے آغاز جوانی، جو کہ علمی و ذھنی لحاظ سے سب سے تشکیل دہندہ دور ھوتا ھے، کو برباد کرنے والے کی کیا فہم و ادراک ھوگی!
         فرانسس فوکویاما کی خاتمہ تاریخ 1992 کو شائع ھوئی تھی. اب تک اس پر چالیس ہزار سے زائد تحقیقی مقالات لکھے گئے ہیں اور یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ بحثوں اور علمی تنازعات کو جنم دے چکی ھے. فلسفہ، معاشیات، سیاسیات، نفسیات، خارجہ امور اور عالمی سیاست پر اتنے اختصار اور جامعیت کے ساتھ کسی اور نے نہیں لکھا.
          کتاب کی موضوع بحث صرف یہ ھے کہ بطور ایک سیاسی نظام کے لبرل جمہوریت Liberal Democracy دنیا کی آخری نظام ھے. لبرل جمہوریت کے بعد، سوشلزم، مارکسزم، اور تمام مذہبی سیاسی نظریات ھمشہ کیلئے دفن ھوگئے ہیں . تاریخ میں چھوٹے بڑے واقعات ھونگے. حکومتیں تشکیل پائنگے، ختم ہونگے، شخصیات ابھریں گے، مریں گے. تاہم کوئی اور نظام نہیں آئے گی اور یوں عالمی تاریخ کی سفر ھمیشہ کیلئے رک جائے گی.
     تاریخ کی موت کا اولین تصور جرمن فلسفی ھیگل نے پیش کیا تھا. ھیگل کے بقول 1806 کے جنگ جینا کے بعد مزید تاریخ کی تشکیل ناممکن ھے. فرانسس فوکویاما کی تصنیف میں سب سے زیادہ ھیگل کا نام ذکر ھوا ھے. اور تمام کتاب ایک گونہ ھیگل کے فلسفیانہ نظام کی جدید تشریح ھے. ھیگل کا مشہور قول ھے کہ اس کے فلسفے کو کوئی نہیں سمجھ سکا. ایک بندہ سمجھ سکا وہ بھی غلط. ھیگل کے بعد کوجیو Kojeve نے پیرس میں ھیگل پر اپنے لیکچرز میں ھیگل کے قضیے کو حل کیا تاہم خود کوجیو ایک قضیہ بن گیا. فوکویاما نے ھیگل اور کوجیو دونوں کو حل کیا. فوکویاما کے ھیگل کے تشریحات سے مجھے ایسا لگا جیسے فوکویاما خود ھیگل کی ایک نئی جنم ھو.
     ھیگل کی ایک بنیادی تصور Thymos کی ھے. Thymos یونانی لفظ ھے جس کی معنی ھے  Demnd for Recognition یا انسان  کی یہ خواہش کے باقی انسان اس کو تسلیم کریں. حیاتیاتی تقاضے Biological Demands ھر جاندار میں ھوتے ہیں. جو خاصہ انسان کو باقی جانداروں سے ممتاز کرتی ھے وہ یہی Thymos ھے، تسلیم ھونے کی احساس. اور بقول ھیگل انسان کی زندگی اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے تسلیم کرانے کی ایک مسلسل جدوجہد struggle for recognition ھے. جنسی تعلق بھی اسی احساس سے وجود لیتی ھے. محض جنسی تسکین تو انسان تنہا بھی کرسکتا ھے. تاہم ایک دوسرے انسان کی وجود ضروری ھے جو اس تسلیم کرنے کی   احساس کی تشفی کرسکیں. ھیگل اس انسانی خواہش کی خواہش Desire for men's desires کہتا ھے. جب انسان کی اس احساس کی تکمیل نہ ھو تو نتیجتاً اظہار کے احساس کو غصہ کہا جاتا ھے. Recognition of Worth کیلئے فوکویاما کے بقول درست لفظ Dignity یا وقار ھے. اور اس سے محرومی کے شکل کیلئے درست لفظ In-dignity یعنی وقار سے محرومی ھوگی جس کی رد عمل indignation یعنی غصہ ھوگی. اگر انسان میں خود یہ اھلیت نہ تو مذکورہ احساس کو شرم کہا جاتا ھے.(ناقص اردو کی بناء پر میں درست الفاظ کے استعمال سے قاصر ہوں. معذرت). Thymos جب حد سے تجاوز کرے تو انسان میں Megatholamia کا ظہور ھوتا. اس کی معنی ھے To be recognised as superior یا برتر تسلیم کیا جانا. بادشاہوں اور جرنیلوں میں دوسرے ممالک کو فتح کرنے کی اصل محرک یہی احساس ھوتی ھے کہ ایک دنیا ان کو تسلیم کرے. جبکہ اسی Thymos کی ایک  شکل Isothymia یا مساوی تسلیم ھونے To be recognised as equal کی خواہش ھے.
       تسلیم ھونے کی یہ احساس  Thymos انسان کی وجہ الوجود ھے. جاری باشد.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری