امریکہ کی تباہی = دنیا کی تباہی ۔
یہ دعا ہے کہ بد دعا؟
گزشتہ دنوں ایک بڑی مذہبی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے مولوی صاحب نے فرمایا کہ امریکہ اپنے زوال کیطرف تیزی سے گامزن ھے. امریکی معیشت دیوالیہ ھے اور امریکی دفاعی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ دیوالیہ معیشت سے دفاع پر کیا تباہ کن اثرات پڑیں گے. قائد ملت اسلامیہ کے بقول یہ امت مسلمہ کی بد دعاؤں کا نتیجہ ھے.
مولوی کی سیاست امریکہ پر لعنت کے بغیر وجود نہیں پاسکتی. مذکورہ قائد ملت اسلامیہ نے ایک نجی محفل میں راقم کو کہا خدا امریکی اقتدار کو زوال سے بچائے. ھماری سیاسی زندگی کی روح اس سے ہے. مدرسہ کارڈ سیاست میں وقعت نہیں رکھتی. ھم تو مؤمنین کی لہو امریکہ دشمنی ھی سے گرما کے ووٹ لیتے ہیں اور اسلام آباد پہنچتے ہیں.
ھمارے گھر کے نزدیک مسجد میں دیوبندی مولوی ھر روز جمعہ کی وعظ کے آخر میں رو رو کے دعا کرتے ہیں "یا اللہ امریکہ نیست و نابود اور تباہ برباد کر". امریکی حوالے سے نیست و نابود کے ترکیب کی کثرت استعمال سے اب شریر لڑکے ان کو "نیست و نابود استاجی" کہتے ہیں. ایک اور شیخ القرآن صاب ھر رات قرآنی آیات کی تفسیر امریکی عروج و زوال کی رو سے کرتے ہیں. چند سال قبل ایک سادہ لوح مقتدی نے پوچھاکہ " امریکی ذکر قرآن کی کتنے سورتوں میں ھے؟"
ساری امت خود فراموشی کے عالم میں امریکی تباہی کے خبط میں مبتلا ھے. سیاسی بزرجمہر اور میڈیا پر قابض نجومی روزانہ نئے اعداد و شمار کے ساتھ سیاسی علم رمل و علم جفر سے امریکی زوال کے تازہ اور انوکھے پیشگوئیاں کرتے ہیں. سال دو ہزار دس، گیارہ میں اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک میں لیکچر کیلئے جار رہا تھا. ہاتھ میں انگریزی اخبار میں گزشتہ روز کی امریکی بجٹ تھی. لیکچر میں امریکی افغان پالیسی کے استحکام پر بات کی. سوال و جواب کے دوران پاکستانی شدت پسند و جنگجو جماعتوں کے گاڈ فادر جرنل حمید گل کی بیٹی عظمیٰ گل نے طنزیہ انداز میں کہا، "رشید صاب، آپ امریکی پالیسیوں بارے مبالغہ آمیز بات کر رہے ہیں. امریکہ تباہ ھو رہی. مسلمہ امہ کی آزار لگ گئی ھے اسے. دیکھیں امریکی معیشت اور دفاع کی کیا حالت زار ھے." اخبار میں گزشتہ روز کی دفاعی بجٹ کی سرخی دکھائی........ 650 ارب ڈالرز! دنیا میں دوسری نمبر پر دفاعی بجٹ برطانیہ کی تھی.... 50 ارب ڈالرز. یہ روس اور چین تو شمار و قطار میں بھی نہیں تھے. پوچھا، محترمہ، کیا ملت اسلامیہ کی بدعا اور آزار کی یہ نتیجہ ھے کی ایک امریکی دفاعی بجٹ تمام دنیا کے ممالک کے مجموعی دفاعی بجٹ سے زیادہ ھے؟
2001 میں امریکی دفاعی بجٹ 250 ارب ڈالرز تھی جو دنیا کے پندرہ ترقی یافتہ ترین ممالک بشمول چین کے اجتماعی بجٹ سے زیادہ تھی. اس کے بعد والے سال اسمیں چالیس فیصد اضافہ ھوا. دوھزار آٹھ امریکی دفاعی بجٹ ساری دنیا کی اجتماعی بجٹ سے آگے گئی. عراق اور افغانستان پر کھربوں لگائے گئے ڈالرز اس کے علاوہ تھے. امسال امریکی دفاعی بجٹ 639.1بلین ڈالرز ھے جبکہ کل بجٹ 3.8 کھرب ڈالرز.
امریکہ دنیا کی واحد ملک ھے جس کے پاس ھوائی جہاز رکھنے والے 13 بحری بیڑے ہیں جبکہ باقی دنیا کے پاس ایک بھی نہیں. پاکستانی دفاعی تجزیہ نگاروں نے ایک سینٹ کام CENTCOM یا سنٹرل کمانڈ کا نام سنا ھے اور انکے خیال میں یہ شاید تمام امریکی فوج پر مشتمل ھے . سینٹ کام صرف مڈل ایسٹ اور کچھ افریقی اور ایشیائی ممالک کیلئے قائم کی گئی ھے. اس کے علاوہ بحرالکاہل کیلئے PACAOM، یوروپ کیلئے EUROCOM، اور لاطینی امریکہ کیلئے NORTHCOM الگ الگ عسکری ادارے ہیں. گزشتہ دنوں میں پینٹاگون کے انتہائی تربیت یافتہ Special Operation Forces کے لسانی ماہرین کے فارسی، عربی جاننے والے فوجیوں کے بارے میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا. تعجب کی انتہا نہ رہی جب ان کی مقامی بولیوں اور ادبیات بارے ان کی مہارت دیکھی.
ایک امریکی صدر کے سرکاری طیارے کی مثال دنیا میں نہیں. دوسرے عجیب و غریب کمالات کے علاوہ صدارتی طیارے میں امریکی صدر کیلئے مخصوص سیٹ ھے. اگر دوران سفر اس طیارے میں آگ لگ گئی یا کچھ اور حادثہ پیش آیا تھا سیٹ کے نیچے ایک بٹن لگی ھے جو صرف صدر صاحب کو معلوم ھوتی ھے. اس کو دباتے ہی یہ سیٹ جہاز سے الگ ہوکر خود ایک طیارہ بن جائے گی اور صدر صاب کو صحیح سلامت امریکہ میں ایک خاص جگہ پہنچائے گی.
ملٹری ایڈ Military Aid کی شکل میں امریکہ سالانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مجاھد فوج کی 47 فی صد بجٹ ادا کرتی. انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کی مد میں 62 فی صد ھر سال امریکہ بہادر سے پاکستانی اداروں کو ملتے ہیں. اگر یہ امداد روک جائیں تو پاک فوجی اور لمبرون کے افسران کی تنخواہیں 20 دن میں روک جائیں گے.
تاہم مذہبی اور جہادی کرامت والے بضد ہیں کہ ان کی بد دعائیں امریکہ کو لگ گئے ہیں. یہ اگر بددعا کے نتائج ہیں تو دعا کے کیا ھوتے!
مذھبی رہنما کے مذکورہ بیان پر میں نے اپنے پختہ فکر دوست، نابغہ روزگار سیاسی مدبر اور بلوچستان کے سابق وزیر صحت شمس کاکڑ Shams Kakar کی رائے دریافت کی تو انہوں نے ایک جملہ میں میری مشکل حل کی. فرمایا، "ھمیں کارکن کی تشفی بھی کرنی ھوتی ھے. اور کارکن کو سمجھانا نہیں، ورغلانا ھوتا ھے!"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں