ظفر جی
جیب پر دھیان -- ظفرجی
نصف شبی میں اچانک گھررررل کی آواز سے میری آنکھ کھُل گئ-
میں جو نیند آور دوا لیکر سونے کا عادی ہوں ، پریشان ہو کر بیٹھ گیا کہ یا الہی یہ آدھی رات کو آرا کس نے چلا دیا-
بعد از بسیار تحقیق وجہ اس سمع خراشی کی موبائل کا وائبریٹر ٹھہرا- میں ہمیشہ اس شیطانی آلے کا مونہہ بند کر کے سوتا ہوں- کل شاید وائبریشن پہ لگا رہ گیا- لکڑی کے ٹیبل نے ڈایافرام کا کام کیا اور یوں موبائیل کا وائبریٹر ، جنریٹر بن گیا-
یہ گھررررل دراصل ایک میسیج تھا- ان بوکس کھولا کہ یا خدایا اس وقت کس کی موت ہو گئ- معلوم ہوا کہ حکومت جبریہ و جیب کتریہ کا ایک ارجنٹ پیغام آیا ہے:
" تمام موبائل ڈیوائسز بشمول غیر تصدیق شدہ جو 15 جنوری 2019 تک موبائل نیٹ ورک پر زیر استعمال ہونگے،انکی سروس جاری رہیں گی اورغیر تصدیق شدہ موبائل ڈیوائسز کو زیر استعمال موبائل نمبروں کے ساتھ منسلک کردیا جائیگا"
اب رب ہی جانے اس لکھنوی اردو پیغام کا اصل مطلب کیا ہے اور رات کے ہچھلے پہر ایک بلڈ پریشری بڈھے کو جگا کر یہ خبر دینے کی کیا ضرورت تھی کہ تصدیق شدہ موبائل 15 جنوری کو بند نہیں کئے جا رہے ، اور غیر تصدیق شدہ موبائل کو زیر استعمال موبائل نمبروں کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے-
اس بدخبری کے بعد سونے کی بڑی کوشش کی مگر ایک سوال دماغ سے چپک کر رہ گیا کہ اگر موبائل کی تصدیق سم کے ذریعے ممکن تھی تو قوم کی جیبوں پر رجسٹریشن کے نام پہ ڈاکہ کیوں ڈالا گیا ؟ دن میں پانچ بار آپ ہی پیغام بھیجتے تھے کہ موبائل رجسٹر کروا لو ، ورنہ بند کر دئے جائیں گے اور اب لوُٹ لاٹ کے مونہہ صاف کر کے فرما رہے ہو کہ غیرتصدیق شدہ موبائلوں کو تصدیق شدہ سموں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے-
طریقہء واردات ایسا ہے کہ مجھ جیسا دس جمات پاس پٹواری بھی دھوکا کھا جائے- نومبر میں موبائیل رجسٹرکرانے کو پہلے ایک IME نمبر بھیجا ، جواب آیا آپ کا بیلنس کم ہے ، حالانکہ پیکیج موجود تھا- پھر یو فون والوں سے 30 روپے سود پر ادھار لیکر دوبارہ میسیج بھیجا- پانچ روپے کٹ گئے اور جواب آیا آپ کا IME نمبر غلط ہے- دو بارہ اچھی طرح مغز کھپائ کر کے نمبر بھیجا تب جا کر موبائل کی تصدیق ہوئ حالانکہ یہ ایک اسمگل شدہ موبائل ہے- ابھی فیکٹری ری سیٹ کر دوں تو صرف جنوبی افریقہ کی سم ہی اٹھائے گا-
اپنا برسوں پرانا لکھا ایک جملہ یاد آ گیا کہ ن لیگ آپ کو بڑے کانوں والا جانور کھلا رہی ہے ، پی ٹی آئ آپ کو کن کٹا جانور کھلائے گی وہ بھی کچا-
احباب پٹواریاں و مولبیاں سے گزارش ہے کہ جہاں تک ہو سکے سرکاری عیاری پیغامات سے پرہیز فرمائیں- پہلے ڈیم کے نام پر دس دس بٹورے، پھر موبائل تصدیق کے نام پر ، آگے کیا کرتے ہیں رب ہی جانے- جیب کاٹنے کے سوا دھندہ جو کوئ نہیں-
پیسے شلوار کی جیب میں رکھیں تاکہ جائے تو " سارا مال " جائے یوں قسطوں میں لٹنے کا فائدہ ؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں