ینگ ڈاکوٹر ۔ڈاکٹر (ظفر جی ۔)
بلڈ پریشر --- ظفرجی
رکشہ کڑکڑاتا ہوا ایک وسیع و عریض حویلی میں داخل ہوا- اندر خوب چہل پہل تھی- تین منزلہ پرشکوہ عمارت پر انگریزی میں لکھا ہوا بورڈ طبی سائنس کی جدّت طرازی پر مہر بہ لب تھا " نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کراچی "
رکشے کی پچھلی الماری سے وقت کا عظیم دانشور ظفرجی برامد ہوا- ڈرائیور کو پچاس کا نوٹ پھڑا کر اس نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کاش تو میرا فیس بکی فرینڈ ہوتا ، میرے مقام و مرتبہ سے آگاہ ہوتا تو آج پچاس کا نقصان تو نہ دیتا-
وقت کی بے رحمی اور زمانے کی بےثباتی دیکھئے - ہزاروں کی بھِیڑ میں ایک بھی نہ تھا جو اس مرجع خلائق کی دست بوسی کرتا ، کوئ مرمریں ہاتھ آٹوگراف کو بڑھتا ، کوئ بچہ اپنی ماں سے چپک کے کہتا " ممّا ممّا -- وہ دیکھو ، جمعہ کی سیلفی والے انکل آئے ہیں "
ازبسکہ دنیا کی بے خبری و بے قدری کا نوحہ پڑھتے ہوئے ھم استقبالیہ کی طرف بڑھے جہاں شیشے پہ "اسلام علیکم " کے الفاظ یوں کُندہ تھے ، جیسے کراچی کے اجتماعی مذبح خانوں میں دائمی "اللہ اکبر" لکھ دیا جاتا ہے ، کہ بار بار تکبیر کی زحمت سے بچا جا سکے-
ایک ادھیڑ عمر خاتون استقبالئے پر براجمان تھیں- ہم نے قریب جا کر کہا:
" خواہرِ محترم ، بلند فشار خون کا مسئلہ درپیش ہے ، کسی اچھّے طبیب سے تشخیص کروا دیجئے "
اس اردوئے معلًی پر وہ مہا خاتون ششدر رہ گئیں ، پھر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا:
پرابلم کیا ہے انکل ؟
ھم نے کہا انکل نہیں ، برادرِ صغیر ہیں آپ کے- بلڈپریشر زیادہ ہے ، چیک کروا دیجئے--!!
اس پر وہ مزید پریشان ہوئیں پھر کہا آپ کاؤنٹر نمبر 2 پہ چلے جائیے -- فورًا -
پھر جمیل نام کے کسی صاحب کو انٹرکام پہ ہدایت دی کہ ان صاحب کو بلڈ پریشر ہے ، جلدی سے ان کا فارم بنا دو-
ایک صاحب ، کاؤنٹر کے پیچھے سے برامد ہوئے ، سر سے گنجے ، رنگت سیاہ ، آنکھوں پہ نظر کا چشمہ- نام جمیل- کمپیوٹر کی اسکرین جھانکتے ہوئے بولے آپ کا نام ؟ والد کا نام ، مستقل پتہ ، عارضی پتہ ، پیچھے خاندان میں کوئ وارث ، کراچی میں کوئ جان پہچان وغیرہ وغیرہ- سوالنامہ پُر ہو چکا تو ایک فارم اور کارڈ تھماتے ہوئے کہا ، ای سی جی کروائیے فوراً --- بغلی کمرے سے ---
ای سی جی والے ہنرمند نے ہمیں لٹایا اور چھوٹے چھوٹے گڈوئے جسم پہ چپکانے لگا- سینے پہ اگے جنگل کی وجہ سے گڈوئے اچھل کر ادھر ادھر ہو جاتے- وہ غریب پھر چپکا کر مشین کی طرف متوجہ ہوتا تو یہ مینڈک کی طرح پھدک کر پھر الگ ہو جاتے- اب ہر سینہ عارف خٹک کا سینہ تو نہیں ہوتا ناں کہ بارش کا قطرہ بھی گرے تو بنا لکیر چھوڑے زمین پہ آ گرے-
بہرحال اس افراتفری میں ایک پھریرا پکڑا کر بتلایا گیا کہ ای سی جی ہو چکا اور بالکل شفاف ہے- کمرہ نمبر A میں جائیے ، ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر اجمل آپ کےمنتظر ہیں-
ھم حیران ہوئے کہ یا وحشت یہ کیسا ھسپتال ہے- نہ روپیہ نہ ٹکا- مفت ہی مفت میں ای سی جی- اور ڈاکٹرز بھی دو دو- خدا خیر کرے- تب کسی جہاندیدہ پٹواری کی طرح پوچھا کہ ڈاکٹر اجمل کی کیا فیس ہے اور ڈاکٹر اکمل کتنے میں پڑیں گے ؟
وہ بولا NIVCD میں سب کچھ فری ہے- پورے کراچی میں ہماری موبائیل یونٹس ہیں- آپ کو کہیں بھی دل کا مسئلہ ہو ، قریبی موبائیل یونٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں- بنا کسی فیس کے-
بہرحال یقین نہ آیا اور سو واہمے دل میں لئے ڈرتا جھجھکتا ڈاکٹر روم میں داخل ہوا- یہ پانچ بائ پانچ کا ایک چھوٹا سا کھوپچہ تھا جس میں دو ینگ ڈاکٹرز اور ایک اولڈ ٹیبل بمشکل گھسائے گئے تھے- اندر جا کر سلام کیا اور کسی بنچ ، موڑھے ، چوکڑی کی تلاش میں نظر دوڑائ ، اس پر ایک ینگ ڈاکٹر جو شاید ڈاکٹر اکمل تھے ، یہ بھی ممکن ہے اجمل ہوں ، بولے ، جی انکل ، کیا مسئلہ ہے ؟
زھر کا گھونٹ بھر کے کہا بلڈ پریشر رہتا ہے-
بولے کتنا رہتا ہے انکل ؟
ہونٹ بھینچ کے کہا کچھ دیر پہلے تو 140 تھا اب شاید ڈیڑھ سو سے اوپر ہو ، آپ چیک کر لیجئے-
کہنے لگے ٹھیک ہے جو آپ نے بتا دیا وہی ہو گا ، کوئ دوائ وغیرہ بھی کھا رہے ہیں ؟
میں نے کہا بی پی تو چیک کیجئے-
فرمایا اس کی ضرورت نہیں ہاں تو دوائ کونسی کھا رہے ہیں آپ ؟
بتایا کہ فلاں فلاں دوائ لیتا ہوں لیکن فرق نہیں پڑ رہا-
کہنے لگے دوائ تو اچھی ہے- برابر جاری رکھئے- اور پرہیز بھی کیجئے- چکن ، بیف ، فرائڈ ، کوک ، تمباکو سب سے بچئے-
اس کے ساتھ ہی وہ دونوں کرسی سے اٹھے- ان میں سے ایک بولا ، یار روز ھم ہی دیر سے نکلتے ہیں ، دوسرے نے کہا اچھا انکل اب ہمارا چھٹی کا ٹائم ہو گیا-
میں نے حیرت اور پریشانی سے کہا میرا کیا ہو گا ؟؟
ان میں سے ایک بولا - فکر کی ضرورت نہیں- دوائ کھاتے رہئے اور افاقہ نہ ہو تو ڈوز ڈبل کر دیجئے ، فی الحال رستہ چھوڑیے-
اس ڈربہ کلینک میں رستہ کیا چھوڑتا ، مجبوراً باھر ہی نکلنا پڑا- نہ نکلتا تو شاید روند کے گزر جاتے- ینگ ڈاکٹرز تھے- باھر آکر دیکھا تو ان میں سے ایک لنگڑا کے چل رہا ہے-
میں ذرا تیز قدم بڑھا کر اس "لنگ ڈاکٹر" کے قریب ہوا اور کہا زرداری صاحب کی قسم ، آپ واقعی خیر اندیش ڈاکٹر ہیں ، آپ کے قیمتی مشورے من و عن مانوں گا- براہ کرم مجھے گائیڈ کر دیجئے کہ اصل ڈاکٹر مطلب پروفیسر ٹائپ ڈاکٹرز کہاں بیٹھتے ہیں-
اس نے کہا اگر پیسوں سے جیب بھاری ہو رہی ہے تو دوسری منزل پہ چلے جائیے- بس وہاں اے سی لگا ہے ، اور یہاں پنکھا- لٹنا ہے تو لُٹ لو-
میں نے کہا ہاں ، آج میں جی بھر کے لُٹنا چاھتا ہوں- لیکن شرط یہ ہے کہ رہزن ، صاحبِ جاہ و حشمت ہو-
وہ مجھے عجیب نظروں سے گھورتا ہوا باھر چلا گیا اور میں کسی معزز "ڈاکوٹر" کی تلاش میں اوپری منزل کی سیڑھیاں چڑھنے لگا-
اگلی قسط فیر کدی :D
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں