سر سید (نعمان بخاری )

ڈیڑھ صدی کا قصہ - از قلم : محمد نعمان بخاری - (سر سید کی پیشن گوئی)
-----------------------------------------------
11مئی 1875ء،، یہ محمدڈن انگلو اورینٹل سکول کا سنگ بنیاد رکھنے سے چند روز پہلے کی ایک خنک شام تھی۔۔سر سید احمد خان گھاس پر بیٹھےاپنا سر جھکائے کچھ سوچنے میں محو تھے۔۔میں نے تخلیہ میں دراندازی کرتے ہوئےعرض کی، 'سر آپ عموماً مغموم رہتے ہیں، مگر آج میں آپکے چہرے پر قدرے زیادہ پریشانی محسوس کرتا ہوں'۔۔ سید صاحب نے چہرہ اٹھایا،، نمناک آنکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا کہ اپنے دوستوں ظفر جی اور محمد سمیع کو بُلاؤ،، یہ کہہ کر دوبارہ اپنا سر جھکا لیا۔۔میں نے اپنی انگشتری رگڑ کر ایک منتر پڑھا تو دونوں یک لخت آوارد ہوئے۔۔ظفر جی کے منہ پر صابن لگا ہوا تھا اور سر میں شیمپو کی جھاگ  نمایاں تھی، ہاتھ میں پانی کا لوٹا لئے،، پھٹا ہوا ٹراؤزر اور میلا بنیان زیبِ تن کئے میرے سامنے حواس باختہ کھڑے تھے۔۔سید سمیع کے ایک ہاتھ میں ردی کی گردآلود کتاب تھی اور دوسری میں چھڑی۔۔ بکھرے بال ، ایک پاؤں چپل کے بغیر اور کندھے پر بوسیدہ رومال انکی نفاست کی چغلی کھا رہا تھا۔۔دونوں نے آتے ہی میرے کان میں ملی جُلی خفت کا اظہار کیا کہ بُلانے سے پندرہ منٹ پہلے ایک مِس کال کرلیتے تو کم از کم ہمیں اس حالت میں نہ آنا پڑتا۔۔سر سید کو انکی آمد محسوس ہوئی تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ دونوں کو مصافحہ کیا اور ظفر جی سے مخاطب ہوئے:'برخوردار، لندن میں آپ سے میں نے اپنے ایک خواب کا ذکر کیا تھا،، شکر ہے کہ آپ اس کی تشہیر کرنا بھول گئے'۔۔ظفر جی سٹپٹائے لہجے میں کہنے لگے: ' وہ،، اچھا ،،ہاں،، یاد آیا سر،، دراصل میں اپنی دنیا کے دوسرے بکھیڑوں میں مست تھا، اور اسی دن میرا چھوٹو بھی بیمار پڑ گیا تھا،،تو ذہن سے نکل گیا ، جس پر معذرت'۔۔سر سید کہنے لگے: 'اچھا ہوا کہ یاد نہ رہا،، ویسے میں حیران ہوں کہ آپکو یہ راز چھپا کر نہ ہی پیٹ میں درد ہوا اور نہ ہی قبض'۔۔ظفر جی کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے بولے:' یعنی آج آپ نے مجھے اسی یاد دہانی کیلئے یاد فرمایا ہے؟'۔۔سید صاحب آنکھیں پونجھتے ہوئے بولے:'شاید مجھے بھی وہ خواب یاد نہ رہتا،، مگر گزشتہ رات ہاتف نے اس خواب کی تعمیل کا اشارہ دیا ہے، تو میں نے سوچا آپ تین نوجوانوں کی خدمات حاصل کرلی جائیں'۔۔ سید سمیع نے فوراً کہا:' جی سر، کیوں نہیں، آپ حکم کریں'۔۔سرسید بولے:'ظفر، آپ ایسا کرو ،آج رات شہر میں منادی کرا دو کہ ہمیں کل صبح تک پچاس آوارہ کتوں کی ضرورت ہے، تمام لوگ اپنی گلی محلے کے کتوں کو پکڑ کر یہاں سے سولہ میل دور بہرام پور کے جنگل میں آجائیں'۔۔ سید سمیع بات کاٹ کر بولے:' سر، اسکی کیا ضرورت ہے بھلا؟'۔۔ سر سید نے شفقت سے کہا:' سمیع بیٹا آپکو بات میں ٹانگ اڑانے کی بہت بُری بیماری ہے، اب میں یہ راز معاملے کے اختتام پر ہی منکشف کروں گا۔۔آپ یوں کرو کہ اپنے پچاس بالغ گدھے لے کر کل فجر کی نماز کے فوراً بعد جنگل میں پہنچ جانا،، یاد رکھنا، سُستی نہیں ہونی چاہئے، ساتھ میں تین عدد تیز دھار چھریاں بھی لیتے آنا، اور ہاں پانچ من سوکھی لکڑی کا بندوبست بھی لازم ہے، وہ انہی گدھوں پر لادتے آنا، یوں نہ ہو کہ اپنی کمر کو تکلیف دیتے رہو'۔۔سمیع صاحب اپنے منہ میں بُڑبڑانے لگے کہ خدا جانے کیا ماجرا ہے، شاید میرے ہی گدھوں کے گوشت کی دعوتِ شیراز مجھے ہی نہ کھانی پڑ جائے۔۔سر سید نے ظفر جی کو مخاطب کیا اور کہا:'لوگوں کو یہ بھی بتا دینا کہ فی کُتا چار آنے دئیے جائیں گے، اور فی گدھا تین آنے، اب آپ دونوں جاؤ شاباش'۔۔پھر سید صاحب مجھ سے کہنے لگے:'بخاری، آپ چھے سات صحت مند ہندو مزدور لے کر آؤ، فی مزدور آٹھ آنے مزدوری طے کرلینا بمع کدال،، ہمیں عشاء کے بعد یہاں سے روانہ ہونا ہے۔۔
قصہ مختصر، میں اور سرسید اپنے ساتھ چھ مزدوروں کو لئے راتوں رات جنگل کی طرف جانے کو تیار تھے۔۔ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سےمیں نے ایک شکرم کا بھی بندوبست کرلیا تھا تاکہ پیدل چل کر ہم تھک نہ جائیں۔۔آدھی رات کو ہم جنگل پہنچے۔۔ ہرطرف سناٹا تھا، کبھی کبھی گیدڑوں کے رونے کی آواز ماحول کا سکوت منتشر کرتی تھی۔۔سید صاحب نے مزدورں کو زمین پر پندرہ بائی پندرہ کا ایک چوکور نشان لگا دیا کہ یہاں گڑھا کھودیں جسکی گہرائی پانچ فٹ ہو۔۔مزدور آرڈر ملتے ہیں کام کو جُت گئے، اور ہم انکی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ اس راز کی مختلف پرتوں کو پلٹتے رہے۔۔صبح صادق تک گڑھا کھودا جا چکا تھا اور دور سے کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے ڈھینچنے کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔ جس سے ظاہر تھا کہ ظفر جی اور سمیع صاحب بس آئے ہی چاہتے ہیں،، اپنا مشن مکمل کرکے۔۔ تھوڑی دیر تک ہمارے سامنے پچاس کُتے اور پچاس گدھے آ موجود ہوئے۔۔سر سید نے تین مزدوروں کو لکڑیاں اُتار کر گڑھے میں پھینکنے کا کہا۔۔ اور باقی تینوں کے ہاتھ میں چھریاں تھما کر کتوں اور گدھوں کو حرام کرنے کا آرڈر دیا۔۔اس موقع پر سید سمیع کی لٹکی ہوئی معصوم صورت دیدنی تھی جسے دیکھ کرمیں آبدیدہ ہو گیا۔۔ظفر جی کتوں اور گدھوں کی رسیاں تھامنے کا فریضہ نبھا رہے تھے اور مزدور انکو دھڑا دھڑ قتلِ عام کرنے میں مشغول تھے۔۔میں گڑھے میں لکڑیوں کو ترتیب لگواتا رہا اور ٹسوے بہاتا رہا، پھر گڑھے میں آگ لگا دی گئی۔۔یہ کاروائی مکمل ہونے پر مزدوروں کو حکم ملا کہ خون میں لت تپ ان جانوروں کو دھکیل کر آگ میں ڈال دیا جائے۔۔ قریب آدھ گھنٹے بعد ہر طرف بدبودار دھواں تھا،، ہم سب دور کھڑے کپڑوں کے پلو سے منہ لپیٹے یہ ناری منظر دیکھ رہے تھے، ظفر جی نے میلی بنیان سے ناک ڈھانپ رکھا تھا، جبکہ سمیع صاحب سکتے کی کیفیت میں دھواں کے بھبھوکے اڑتے دیکھ رہے تھے ۔۔گھنٹے بھر کے بعد آگ ختم ہوگئی،، اب وہاں صرف راکھ اور ہڈیاں تھیں۔۔سرسید نے مزدوروں کو کہا کہ اب اس گڑھے کو مٹی سے بھر دیں۔۔ یہ کام مکمل ہونے پر سر سید نے ہم تینوں اور چھ مزدوروں کو ایک گروپ کی شکل میں بٹھا دیا اور خود کھڑے کھڑے ایک پُر آشوب اور جذباتی خطاب کرنے لگے:
'میرے ہم وطنو،، آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے میرے خواب کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔۔آپ لوگوں کو آپکی مزدوری اور انعام دینے سے پہلے میں اس معرکے کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔۔مجھے دوسری مرتبہ خواب میں یہ کام کرنے کا کہا گیا ہے جو کہ میں نے آپکے تعاون سے بخوبی نبھا دیا ہے۔۔نیز مجھے خواب میں ایک پیشن گوئی بھی بیان کرنے کا اشارہ ملا ہے۔۔پیشن گوئی یہ ہے کہ اب سے ٹھیک اٹھتر (78) برس بعد سن 1953 میں اس جگہ کی مٹی کو ہوا اُڑا کر کراچی لے جائیگی، جس کے خمیر سے ایک انسان نما جاندار پیدا کیا جائیگا۔۔جو بڑا ہو کر 1984 میں ایک پارٹی کی بنیاد رکھے گا، جو اُس کے حکم پر ملک میں خوب دنگا فساد اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرے گی۔۔پھر وہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرکے سلطنتِ برطانیہ میں پناہ گزیں ہو گا اور ایک نا معلوم آلے کے ذریعے ملک کے لوگوں کو اپنی بکواسات سے آلودہ کیا کرے گا۔۔وہ اس ملک کا بدترین دہشت گرد ہوگا'۔۔یہ کہتے ہوئے سرسید کی آواز روندھ گئی اور وہ ہچکیاں لینے لگے۔۔ہم سب نے بمشکل انہیں چُپ کرایا۔۔!!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری