خدائی پتھر

علی مرتضیٰ کے نام

لالہ جی ایک ملحد کا سوال ہے کہ:

"خدا ایسا بھاری پتھر بنا سکتا ہے؟
جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے…!

پہلے ایک ضروری وضاحت:
یہ ایک ٹرِکی سوال ہے جس میں خدا کی قدرت کو مدنظر رکھ کے ایسا پتھر بنا سکنے کا اقرار کرلیں تو اس کی اٹھا سکنے کی قدرت کا خودبخود انکار ہوجاتا ہے، اگر اٹھا سکنے کا اقرار کرلیں تو بنا سکنے کی قدرت کی نفی ہو جاتی ہے اور اگر ان دونوں باتوں کے شر سے دامن بچانے کیلئے خاموش ہو جائیں تو ایک لادین کی عقل کے سامنے لاجواب ہونے کی شرمندگی گلے پڑ جاتی ہے۔

ہم خدا کے ان لاڈلوں کے پیروکار ہیں جنہیں پہاڑی میں سے اونٹنی برآمد کرنے کیلئے پہاڑی کیساتھ اونٹوں کا جماع نہیں کرانا پڑتا، بلکہ اپنا وقار اور وضو برقرار رکھتے ہوئے صرف ایک آواز دے دیں تو اونٹنی برآمد ہو جاتی ہے، آگ میں اترنے کیلئے کوئی کیمیکل نہیں ملنا پڑتا، لاٹھی کا سانپ بنانے کیلئے بائیوانجینئرنگ نہیں کرنی پڑتی، نہ چاند کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے سیڑھی اور کٹر درکار ہوتا ہے بلکہ ان کا کہہ دینا ہی کفالت کر جاتا ہے، اسلئے کہنا ہمارا بھی بیکار نہیں جاتا۔

تو کہنا یہ ہے کہ جس بندے کی عقل کیمطابق خدا کا وجود ہی نہ ہو اس بندے کا لاموجود کی قدرت پر سوال اٹھانا عقلمندی کی نشانی ہے؟

قدرت تو صرف اسی کی موضوع بحث ہو سکتی ہے جو موجود ہو، آپ کی عقل خدا کی قدرت پر سوال اٹھاتی ہے تو کیا اس کی موجودگی کو مانتی ہے؟

آپ کی عقل جس کی موجودگی کو نہیں مانتی، اس کی قدرت پر سوال کرکے وہ عقل کہلانے کی حقدار ہے؟

جس ٹکٹکی پر آپ ہمیں چڑھانا چاہتے ہیں ہم نے اسی ٹکٹکی پر آپ کو چڑھا دیا ہے، اب نیچے اترنا ہے تو شرمندہ ہوں نہ ہوں مگر سب سے پہلے یہ فیصلہ کیجئے کہ آپ کی عقل خدا کے انکار کے معاملے میں غلطی پر ہے یا اقرار کے معاملے میں کیونکہ قدرت پر سوال تو اقرار کئے بغیر نہیں ہو سکتا۔

اب یہ مت کہنا کہ بالفرض ہوتا تو کیا یہ قدرت ہوتی؟ اس کا جواب مل جائے تو شائد ہم بھی ایمان لے آئیں، اس طرح کی پنچائیت کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری طرف بالفرض کا کوئی سین نہیں ہوتا، ہم کسی ایک بات کے قائل ہیں، ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا۔

ہمارے مطابق یقیناً ہوتا ہے تو کیا ہمارے حساب سے یہ قدرت ہوگی؟

ہمیں اس نے جتنے کام دے رکھے ہیں ان میں یہ بات سوچنے کی ہمیں فرصت ہی نہیں، فرصت ہو بھی تو ہم ایسے بیکار سوال نہیں سوچتے جن کا جواب کسی ایک طرف خدا کی تکذیب کرتا ہو۔

ہمیں اس بات کا جواب سوچنا چاہئے کہ نہیں؟
اس کا جواب اسی سوال میں پوشیدہ ہے جس میں آپ اپنی عقل کی صحت کا اقرار کریں گے تو آپ کا سوال بے معنی ہو جائے گا، سوال کی صحت کا اقرار کریں گے تو خدا کا اقرار لازم ہوجائے گا، خدا کا اقرار کریں گے تو اپنے عقیدے سے پھرنا لازم آجائے گا، اور خاموش رہیں گے تو پھر ہمارا سامنا کیسے کریں گے، اب جو کرنا ہے کیجئے۔

آپ پھرنے پر راضی ہو جائیں تو ہم اپنے عقیدے سے پھرنے پر پھر بھی راضی نہ ہوں گے کیونکہ ہمیں پتا ہے جو کتاب اس نے لکھ کے دی ہے وہ اتنی بھاری ہے کہ پہاڑوں پر اتارتا تو پہاڑ اس کی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہو جاتے، لیکن وہی کتاب اس نے چار چھ فٹ کے انسانوں کے تین چار انچ کے دل پر اترنا آسان بنا رکھی ہے، یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے اور ہمیں اتنی دلیل بھی کافی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری