ظفر جی
اسباب ---- ظفرجی
جنگ آزادی 1857ء کے بعد ھندوستانی مسلمان سخت ھزیمت میں مبتلا تھا- ایک طرف جنگ میں کام آنے والے ہزاروں شہداء کا غم دوسری طرف 5 سو سالہ مغل بادشاھت کا رسواء کن خاتمہ !!!
ان حالات میں سرسیّد نے برطانوی پارلیمنٹ کو مشورہ دیا کہ چونکہ " شاہ پرست" قوم کو فی الوقت کوئ بادشاہ میّسر نہیں ، سو دوبارہ بغاوت خارج از امکان نہیں- ان حالات میں ھندوستان کو "کمپنی بہادر" کی بجائے " ملکہء عالیہ" کی بادشاھی میں لایا جائے تا عوام کا غم ہلکا ہو اور اسے یقین ہو جائے کہ ہمارے سر پر بادشاہت کا سایہ ھنوذ قائم ہے-
یہ نسخہ کارگر رہا اور ھندوستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی بجائے ملکہء وکٹوریا کی تحویل میں دے دیا گیا- اور پھر وہ مشہور گانا دریافت ہوا:
سائیں میریا جگنی کہندی آ
جیہڑا نام کوئین دا لیندی آ
الہ آباد کے ایک مشہور دعائیہ جلسے میں سرسیّد کی وہ دُعا تاریخ کا حصّہ بن گئ کہ خدایا ہم سے بڑی بھول ہوئ ، ہم نعمتِ فرنگ کی قدر نہ کر سکے- اس گناہ کا وبال ہم پر شورش کی صورت پڑا- ھم تجھ سے معافی چاھتے ہیں- خدایا ملکہء عالیہ دامت برکاتھم کا سایہ تاقیامت ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھنا "
جے آئ ٹی نے میاں صاحب کے ساتھ وہی کچھ کیا ہے جو ڈیڑھ صدّی پہلے لال قلعہ میں قائم فرنگی کورٹ نے بہادر شاہ ظفر کے ساتھ کیا تھا- فرق صرف یہ ہے کہ اس بار کوئین بچ گئ ہے-
محترمہ کلثوم نواز کی صورت قوم کو ملکہء عالیہ میّسر آتی ہے کہ نہیں ، اس کا فیصلہ NA120 کرے گا- اگر یہ تیر نشانے پہ جا لگا تو سمجھ لیجئے میاں کی قربانی قبول ہو گئ- اس کے بعد وہ چاہے "رنگون" میں رہیں یا پاکستان میں تاحیات " بادشاہ" ہی رہیں گے-
اگر مطلوبہ نتائج میسر نہ ہوئے تو "مرہٹے" پِھر سر اُٹھا سکتے ہیں- ملک میں بدامنی ہو گی اور اندیشہ ایک اور "بغاوتِ ھند" کا ہے- جس کے اسباب ڈھونڈنے کو کوئ سرسیّد تو میسّر نہیں البتہ حافظ صفوان سے ضرور استفادہ کیا جا سکتا ہے-
آگے آگے دیکھئے ......
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں