الو ظ ج
آخر بجلی پھر چلی گئ-
دس منٹ بعد UPS بھی ٹوُں کر گیا- بے چارہ کرے بھی کیا ؟ اندر کچھ جائے گا تو باہر نکلے گا- میں بستر سے اٹھا ، سگریٹ تلاش کی اور باہر صحن میں آ کر بیٹھ گیا- کوئ پنج ست سو مچھّر میرے پیچھے تھا- میں سگریٹ کے کش لگا لگا کر ان پر پھوُنکنے لگا-
گھر کے سامنے بجلی کی تاریں گزرتی ہیں- وہاں دو اُلّو آن بیٹھے اور اونچی اونچی آوازوں میں کوئ بے سُرا راگ الاپنا شروع کر دیا-
میں غوروفکر کرنے لگا کہ اُلّو کیا کہ رہے ہیں- کافی غوروخوض کے باوجود میں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا- ظاہر ہے "گو نواز گو" تو نہیں کہ سکتے کہ نواز شریف تو جا چُکا- "شیر اک واری فیر" کا نعرہ بھی بعید از قیاس ہے کہ مذکورہ نعرہ لگاتے ہوئے قدرے آگے جھُکنا پڑتا ہے-اس صورت میں اُلّو اپنا توازن کیسے قائم رکھ سکتے ہیں ؟
" گو نظام گو" کہنا اس لئے غلط ہے کہ نظام ہمیں چھوڑ کر آخر جائے گا بھی کہاں ؟ دنیا میں کوئ ملک ایسا ہے جو اس نظام کو پناہ دے سکے ؟
-"صاف چلی شفاف چلی" بھی نہیں کہ سکتے کہ عمران خان کے گیارہ نکات میں بجلی پوری کرنے کا یا نئے ڈیم بنانے کا کوئ وعدہ وعید شامل نہیں-
سوچتے سوچتے دماغ تھک گیا مگر کوئ سرا ہاتھ میں نہ آیا اس سے پہلے کہ میں مزید غوروفکر کرتا ، اچانک بجلی آ گئ اور میں واپس بستر پر آ کر لیٹ گیا-
ویسے دوستو کیا خیال ہے اُلو کیا کہ رہے تھے ؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں