ظفر جی ملک پور کاپیر
ملک پور کاپِیر --- ظفرجی
گاؤں میں نئے پیر صاحب کی دُھم پڑ گئ ہے- عوام کالاعلام پرانے پیر کے کِلّے تُڑا کر نئے آستانے کی طرف بھاگ اٹھے ہیں- یوں گاؤں آج کل اس ٹی وی کمرشل کا سِین پیش کر رہا ہے جس میں مُنڈے کڑیاں بڈھے بڈھیاں فور جی بنڈل کے حصول کےلئے ، نامعلوم سمت ، انھے واء بھاگتے دکھائ دیتے ہیں-
ایک کروڑ چوّی لاکھ پیغمبر بنی اسرائیل پہ اترے ، اور کوئ سوا کروڑ پیر " ملک پوُر " اتر چکے ہیں- مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے- صحت کے مسائل سب سے زیادہ ہیں- جو ایک آدھ عطائ میاں صاحب کے دور سے چلا آتا تھا ، نئے پاکستان کی نظر ہوا- حکومت نے بھی عزم کر رکھا ہے کہ سہولت دو نہ دو ، جُگاڑ ضرور چھین لو- ظالموں ، سال میں دو چار مریض مارتا تھا تو کیا ہوا ، سیکڑوں ٹھیک بھی تو کرتا تھا-
علاج کے وسائل نہ ہونے کے سبب جملہ بیماریوں کو نظربد ، جادو ٹونہ اور جنّات کے سر منڈھ دیا جاتا ہے- وہم کی آکاس بیل کو لاشعور کی جھاڑی سے اتارنے کےلئے جھاڑ پھونک کی ضرورت پڑتی ہے- یوں حالات کسی نئے پیر فقیر کی راہ ہموار کرتے ہیں ، پیچھے جس کے مسیت کا مُلّاں " ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولاھم یحزنون " کا کتبہ اٹھائے چلتا ہے-
اس بار جو پیر صاحب وارد ہوئے ان کی بابت زبانی طیّور کی معلوم پڑا کہ واقعی " کرنی والے" ہیں- کئ لاچار ، لاعلاج بیمار دستی شفاء یاب ہو چکے ہیں- جنّات نکالنے میں یدِ طولی رکھتے ہیں- جس طرف سے گزرتے ہیں ، لاعلاج مریض چارپائیاں چھوڑ کر چوکڑیاں بھرتے نظر آتے ہیں-
سخت تجسّس ہوا کہ آخر کو اکیسویں صدّی مین کون قطب نازل ہو گیا جو دمِ عیسی اور یدبیضاء ، دونوں ہمراہ لئے پھرتا ہے- شوق زیارتِ درویش ہوا اور بندہ روبرو زوجہء نیک فطرت کے پیش ہوا کہ گاؤں جانے کو دو یوم کی رخصت چاھئے-
وہ اللہ کی بندی ہاتھ جوڑ کے بولی ایتھے ای مَر- بُہتے نوسرباز پھرتے ہیں ، کیوں لٹتے ہو- ھم نے جلتی پہ تیل ڈالا کہ وہابیوں میں تو کوئ پیر پیدا ہونے سے رہا ، مستعار لینے میں کیس حرج ہے؟ آخر کو بندہ فیوض وبرکات سمیٹنے کہاں جائے- وارث جی بھی کہ گئے ہیں کہ
فقر کُل جہان دا آسرا ہے
تابع فقر دے پیر امیر سائیں
بادشاہ سچّا رب عالماں دا
فقر اوسدے ہین وزیر سائیں
لیکن اس گستاخن کا جواب تھا کہ پہلے معلوم کرو روزے نماز کا پابند بھی ہے کہ نہیں- ھم نے کہا روزے نماز کا پیری فقیری سے کیا تعلق ؟ یہ تو مولوی کے کسب ہیں کہ جاڑے میں ٹھنڈے پانی سے گٹے گوڈے دھوئے اور رمضان میں بھوکا پیاسا مرے - پیر بادشاہ کا کام ہاتھ پھیر کے دعا دینا ہوتا ہے- دعا فقیراں ، رحم اللہ- اللہ اللہ خیر صلّہ-
خیر بحث سے اعمال برباد ہوتے ہیں-جب بات بگڑتی دیکھی تو روک سکو تو روک لو کا ورد کرتے ہوئے گاڑی نکالی- چھوٹے کو ساتھ لیا اور " قلعہء زوجیت" تڑا کے بھاگے- کوئ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کر کے شام تک بخیر و خوبی گاؤں پہنچ ہی گئے- صحافت واقعی بہت مشکل کام ہے-
گاؤں میں ہر طرف نئے بابے کے تذکرے تھے- ہر گلی ، ہر چوک چوراہے پہ ایک ہی بات چل رہی تھی کہ بہت کرنی والا بابا ہے- گاؤں کے تو بھاگ جاگ اٹھے ہیں-
ھم بھی چائے شربت پی کر آستانے کو سدھارے- وہاں ہو کا عالم تھا- ایک مقرب خاص حویلی سے برامد ہوا اور اطلاع دی کہ دن کو مستورات نے رش کیا تو بابا سائیں جلال میں آ گئے- ہمراہ مریدین کے ، Vitz میں بیٹھ کے کس سمت کو نکلے ہیں ، کچھ خبر نہیں-
بہرحال ھم نے کوشش جاری رکھی اور رات گئے اس خلیفہ کا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو پیر صاحب کی Vitz چلاتا تھا- انہوں نے بتایا کہ لیّہ بھکر کو عازمِ سفر ہوئے تھے ، اب ٹوبہ ٹیک سنگھ پہ عشائیہ تناول فرما رہے ہیں- شب جس گھڑی بھی آمد ہوئ ، آپ کو مس کال دیں گے- آ کے دم چُھو کرا لینا-
ھم بستر پہ لوٹنے لگے ، اوپر رم جھم جاری اور بجلی کبھی آئے ، کبھی جائے- موبائل کی بیٹری بیٹھنے لگی- کوئ گیارہ بجے خلیفہ کی کال آئ کہ پیر صاحب آ گئے ہیں- خاموشی سے ڈیرے پہ آ جاؤ - ذرا بھی کھڑکا کیا تو پورا پِنڈ جاگ جائے گا-
ھم بِلّی کی طرح خامشی سے اُٹھے- پھر چھوٹے کو اٹھایا- وہ بولا پاپا کہاں جانا ہے- ھم نے کہا بے فکر رہو- اسکول نہیں جا رہے- بابا جی کے پاس چلیں ہیں دم کروانے- تاکہ آپ کو سکون کی نیند آئے اور ھم بھی سکون سے سو سکیں-
ملک پور کا پِیر 2 --
نصف شب ، سخت سردی ، کڑکتی بجلی اور برستی رِم جھم میں ہم بھیگتے بھگاتے آستانہ شریف پہنچے-
یہ ایک بہت بڑی حویلی تھی- صحن میں کچھ گھوڑے اور کُتّے بندھے تھے-تاریخ گواہ ہے کہ مذکورہ دونوں ممالیہ جانور ہمیشہ سے درویشوں کے "ڈیسک ٹاپ" پہ موجود رہے ہیں-
ھم نے دستک دی- خلیفہ نے دروازہ کھوُلا تو دھویں کے مرغولے باھر کو لپکے- واضح ہو کہ آگ اور دھواں بھی درویشی کی اھم صفت ہے- سگریٹ یا چرس کا دھواں مجذوبیت کی جبکہ چیڑ ، بیار اور صندل کا دُخان جلالی بزرگوں کی نشانی ہے-
کمرے میں الاؤ خوُب روشن تھا- گرد اس کے چارپائیوں پہ کوئ درجن بھر درویش آگ سیک رہے تھے- دھویں میں پیر صاحب کو تلاش کرنا امر مشکل تھا- خلیفہ رہنمائ نہ کرتے تو ھم اس سخی تک کبھی نہ پہنچ پاتے جو ان سب میں بلا کا صحت مند اور پُرنور دکھائ پڑتا تھا- یقیناً یہی پیر صاحب تھے جو صدیوں سے امّت کی بلائیں ٹال رہے ہیں-
ان کی عمر کم و بیش 45 سال تھی اور وہ چارپائ کی بجائے صوفہ نشین تھے- چہرے پہ ہلکی پھلکی داڑھی اور سر مشین سے منڈھا ہوا تھا- یہ جان کر یک گونہ اطمینان ہوا کہ ھم عمر ہیں ، صد شُکر کہ منصبِ پیری پر پر یوُتھ تعیّنات ہوئ اور نوّے سالہ سنیاسی باووں سے قوم کی جان چھُوٹی-
ھم نے با ادب سلام کیا اور بچّے کو آگے بڑھا کے حنفی اسٹائل قیام یعنی ناف پہ ہاتھ باندھے کھڑے ہو گئے-مقصود تھا کہ بابا جی خود ہی جن بھوُت کی تشخیص فرما کر اسے لائن حاضر کر دیں-
ھم گاؤں کے لوگ عموماً ایسے حکیم یا پیر کو پسند کرتے ہیں جو بندے کو دیکھتے ہی اس کی تمام بیماریاں بتلا دے- جِن بھوُت پری چھلاوہ بصُورتِ مُرید ہاتھ باندھے زمین پہ ناک رگڑتا دکھائ دے- رہے ڈاکٹرز تو بیچارے سو ٹیسٹ کر کے بھی بیماری کا سراغ لگانے میں ناکام رہتے ہیں- جِن بھوت تو بہت اوپر کی بات ہے-
پیر صاحب نے ایک نظر بچّےکو دیکھا پھر بنا کسی تصنع اور بناوٹ کے ہم سے مخاطب ہوئے:
" کیا تھیا ہے کاکے کُوں ؟ " (بچّے کو کیا ہوا ہے)
حیرت ہوئ کہ عموماً پیر صاحبان زائر کا بائیو ڈیٹا پہلے ہی ناپ لیتے ہیں-علم غیب کی کًنجی ہی سائل کی جیب کا تالا کھولتی ہے- مجھے لگا کہ یا تو پیر صاحب نوآموز ہیں ، یا پھر پیری کا کوئ نیا برانڈ مارکیٹ میں متعارف ہوا ہے-
ملک پور میں پِیری کے چار برانڈ شروع ہی سے مشہور ہیں- پہلے نمبر پر خاندانی پیر ہیں جو نسل در نسل چلتے ہیں- ان کےمریدین بھی نسل در نسل ہی انہیں بھگتتے ہیں- اس سلسلے میں زاھد ، فاسق ، عاقل ،جاھل ہر قسم کا پیر قابلِ قبول ہوتا ہے-
دوسرے نمبر پہ مذھبی پیر ہیں جو عرس ، میلاد ، گیارہویں کے جلسوں میں نظر آتے ہیں- یہ روزے نمازوں کے پابند ہوتے ہیں چنانچہ خلقت جمع کرنے کو اشتہارات کے محتاج رہتے ہیں- یہاں ریش سفید ، پگڑی عمامہ ، سرمہ ، تسبیح ، ذکر اذکار سے مرید کو باندھا جاتا ہے-
تیسرے نمبر پہ کرامتی پیر ہیں جو کسی ایک کرامت کی وجہ سے اچانک پیر بن جاتے ہیں , اور عوام عمر بھر اس کرامت کا خراج ادا کرتے رہتے ہیں- ان سے دم درود جھاڑ پھونک کرانے والے اکثر ڈرے سہمے رہتے ہیں- مجال ہے کوئ کہے کہ آرام نہیں آیا- اس کلمہء باطل کی محفلِ حق میں کوئ گنجائش نہیں-
چوتھے نمبر پر زندہ پیر ہیں- یہ عالم عدم سے عالمِ خواب میں تشریف لاتے ہیں- چنانچہ کسی شریف زادے کو خوابی اشارے میں اپنی نامعلوم قبر کا پتہ بتلا دیتے ہیں- صاحبِ خواب اس بات کا چرچا کرتا ہے- عقیدت مند خوابی نقشہ کے مطابق قبرِ مسروقہ دریافت کرتے ہیں اور بالاخر وہاں مزار بنا کر دم لیتے ہیں-
پیر صاحب ہماری طرف متوجّہ تھے اور میں ان کے سراپے میں کھویا ہوا تھا- انہوں نے دوبارہ دریافت فرمایا " کیا تھیا ہے کاکے کوں ؟ میں نے سرائیکی میں مختصرا سمجھایا کہ " چھوہر تھوڑا کملہ اے" یعنی بچہ تھوڑا سا بھولا ہے-
انہوں نے بچّے سے کچھ سوالات کئے مثلاّ نام کیا ہے ؟ ابے دا نام کیا ہے ؟ کہڑی کلاس وچ پڑھدا ایں ؟ بچے نے اپنے مخصوص انداز میں ڈھیلے ڈھالے جوابات دئے- اس کے بعد پیر صاحب نے بچّے کو پاس بٹھا کر کمر تھپتھپائ اور فرمایا اے بلکل ٹھیک اے ، بولو سبحان اللہ-
اس پر درویشوں نے صدا لگائ " سبحان اللہ "
پھر مجھ سے فرمایا
" ایس نال مٹھیاں مٹھیاں گالاں کرو تے کل سویرے وَل گِھن کے آؤ ، ہُن تساں کوْں اجازت اے"
خلیفہ ہمارے ساتھ گیٹ تک آئے اور فرمایا بچّے سے میٹھی میٹھی باتیں کریں اور کل صبح 9 بجے دوبارہ لے کر آئیں- اب آپ کو اجازت ہے-
ہلکی پھلکی برسات ہنوز جاری تھی- رات کی تاریکی میں جب ھم باپ بیٹا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے واپس لوٹ رہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ بچپن میں ابا حضور بھی مجھے ایک درویش کے پاس لے گئے تھے- اس نے میرا ہاتھ دیکھ کر باباجی سے کہا تھا یہ بہت حساس بچّہ ہے- اس سے ہمیشہ نرمی سے بات کرنا- اس وظیفہ پر اماں ابا نے تاحیات عمل کیا تب جا کے ہمارے اندر کا ڈرا سہما بچّہ دانشور بننے میں کامیاب ہوا-
مجھے شدّت سے احساس ہوا کہ میں خود آج تک پِیر کیوں نہ بن سکا- کم از کم اپنے بیٹے کا پِیر ہی بن جاتا-اس کے ساتھ میٹھی میٹھی باتوں سے کس شیطان مردود نے مجھے روکے رکھا ؟
ملک پور کا پِیر 3 ---- ظفرجی
اگلے روز صبح 9 بجے ھم نے خلیفہ کو فون کیا- انہوں نے بتایا کہ آستانے پہ بہت رش ہے- کھوّے سے کھوّا چھِلتا ہے لیکن چونکہ آپ کی اپائنٹمنٹ طے ہے ، اس لئے جلد ملاقات کرا دی جائے گی-
ھم شاداں و فرحاں آستانہء عالیہ پہنچے - یہ ایک کسان کا ڈیرہ تھا جسے آستانے کا شرف حاصل ہو چکا تھا- ڈیرے سے باھر سڑک پر کوئ دو درجن موٹر سائیکل اور تین چار کاریں کھڑی ہوئ تھیں-
اندر صحن میں چارپائیاں بچھی تھیں- جن پر مختلف الامراض لوگ آنکھوں میں امید کے چراغ جلائے ، باری کے منتظر تھے- دوسرا گیٹ خواتین کےلئے مخصوص تھا- ایک قنات لگا کر پردہ کا خاطرخواہ انتظام کیا گیا تھا-
یہ وہ گاؤں ہے جس نے تبدیلی کی امید پر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا- تبدیلی کے بلڈوزر نے پہلے ان کے تھڑے ، چھّپر اور ورانڈے گرائے ، پھر جعلی ڈاکٹروں ، عطائیوں اور حکیموں کا جڑ سےخاتمہ کر کے عوام کو پیروں فقیروں کے حوالے کر دیا-
اب یہی پیر فقیر ملنگ قلندر اس لاچار بیمار جنتا کی آخری امید ہیں- سرکاری ھسپتال یہاں سے سات آٹھ کلومیٹر دور ایک دوسرے گاؤں میں ہے اور وہاں کے ڈاکٹر کمپوڈرز کسی تیسرے گاؤں میں پرائیویٹ کلینک چلاتے ہیں-
پیر صاحب دور سے ہی نظر آ گئے- وہ ایک عام سی تہمد باندھے ، سفید چادر اوڑھے کھڑے تھے ، جیسے حاجی احرام پہنتے ہیں- پردے کے دوسری طرف خواتین کا جمّ غفیر تھا اور اس طرف پیر صاحب منت سماجت کر کے سمجھا رہے تھے کہ صحت بیماری رب سائیں دے ہتھ اے ، اپنیاں اپنیاں گھراں کوُں جاؤ ، سبحان اللہ پڑھو ، درود شریف پڑھو ، غیبت ، حسد ، کینہ چھوڑ ڈیو ، اللہ کُوں یاد کرو ، سب ٹھیک تھی ویسی-
لیکن خواتین کو کون روکے- ہر کوئ اپنا دیرینہ مسئلہ فی الفور حل کرانے کو بے چین تھی- وہی حالت جو رنگ پور کھیڑا کی مستورات کی وارث شاہ نے لکھی کہ:
کوئ آکھدی رزق دا پیا گھاٹا
کوئ سک اولاد سکائیاں نی
کوئ آکھدی بُرا ہے سس سوھرا
نت کرے ننان لڑائیاں نی
کوئ آکھدی پُت پردیس گیا
ڈھِلاں اوسنے کاس توں لائیاں نی
کوئ درانیاں تے جٹھانیاں نی
کوئ دیوراں بوہت ستائیاں نی
احاطہ چڑیاگھر کا منظر پیش کر رہا تھا- انسانوں کے علاوہ گھوڑے ، خچّر ، کُتّے ، مُرغ ، کبوُتر سب اپنی اپنی چہل دکھلا رہے تھے-میں بچّے کا دِل لبھانے کو جانوروں کی طرف چلا آیا-
ایک درویش جو گھوڑے کی سیوا کر رہا تھا آہستہ آہستہ میرے قریب ہوا اور بڑے فخر سے بتایا کہ پیر صاحب کی اصل کرامت مظلوم جانوروں کو آزاد کرانا ہے- یہ گھوڑا حال ہی میں آزاد ہوا ہے- اس کا مالک اسے یکّے میں جوتتا تھا ، مارتا تھا ، پیٹتا تھا ، کھانے کو کچھ نہ دیتا تھا ، پیر صاحب نے آزاد کرا کے آستانے کی زینت بنا لیا ہے- بس یوں سمجھئے کہ پہلے یہ ایک مظلوم گھوڑا تھا ، اب پیر صاحب کا "گھوڑا شریف " بن چکا ہے-
میں نے کہا تو اس میں اچھنبے کی کیا بات ہے- 70 سال سے اس ملک کے قطب اقطاب گھوڑوں کو شریف بناتے آئے ہیں- بس پیر تگڑا ، اور بندہ گھوڑا ہونا چاھئے-
اس نے سمجھی نا سمجھی میں سر ہلا کر بات کی تصدیق کی- آگے بڑھے تو چارپائی کے پائے سے ایک بدنسلہ قسم کا کتّا بندھا ہوا تھا- درویش نے کہا یہ کُتّا لاچار تھا ، بیمار تھا ، زندگی سے بیزار تھا-سردی میں ٹھٹھرتا ، سکڑتا پھرتا تھا ، پیر صاحب نے اسے پہچان دی ، عزت دی ، مقام دیا ، اب یہ آوارہ نہیں ، پیر صاحب کا "سگ شریف" ہے-
ھم ہاتھ پھیرنے کو قریب ہوئے تو سگ نے زور کی ہف کی- ہم پھُڑک کر ہٹّے تو درویش نے کہا خیال کیجئے ، ابھی پوری طرح شریف نہیں ہوا- ھم نے کہا اس کی رسّی ذرا ٹائٹ رکھنا ، کسی شریف کو کاٹ نہ لے-
اس اثناء میں درویش کو کسی سینئر درویش نےبُلا لیا- ورانڈے کے ستون سے ایک اصیل مرغ بندھا تھا- میں نے بچے کو بتایا کہ بیٹا یہ ایک یتیم برائلر مرغ تھا ، حرام خون سے بنی فِیڈ پر پلتا تھا ، قصائ اس کی تاک میں تھا ، پیر صاحب نے آزاد کرا کے اصیل بنا دیا- بچّہ پہلے تو کھلکھلا کے ہنسا پھر کبوتروں کی طرف اشارہ کر کے بولا بابا وہ پہلے کوّے تھے ناں -- !!
پیر صاحب حلقہء مستورات سے حلقہء مریدات کی طرف آ چکے تھے- کئ پیرانِ مرد اپنی اپنی چارپاؤں سے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ نگاہِ التفات پڑے اور بدنی و مالی آفات و بلیّات کا خاتمہ ہو- دیکھتے ہی دیکھتے ایک قطار سی بن گئ- ہم باپ بیٹا بھی جلدی سے قطار میں گھس گئے گویا ڈائیوو کی ٹکٹ لینے کھڑے ہوں-
ایک بزرگ عمر رسیدہ ، کوئ ستر کے لگ بھگ سب سےآگے تھے- پیر صاحب نے پوچھا بابا کیا مسئلہ ہے- وہ بولے کھانسی اور بغلم ہے ، سر چکراتا ہے ، جوڑوں میں درد رہتا ہے ، نظر کمزور ہے ، سنائ بھی کم دیتا ہے ، ہاتھ بھی کانپتے ہیں- ڈاکٹر کہتے ہیں بواسیر ہے-
پیر صاحب نے بابا کا سینہ تھپتھپایا گویا پرانی گاڑی کی باڈی چیک کر رہے ہوں- پھر رنجیدہ ہو کر کہا بابا جی اساں دُعا ضرور کرساں ، پر جوانی ولا کے ڈیونڑاں ساڈے وس دا روگ نئیں-
خلیفہ نے اسٹیل کا لوٹا آگے بڑھایا ، پیر صاحب صاحب نے ہاتھ دھوئے- یہ اشارہ تھا کہ دعا ہو چکی اور مسروقہ بیماریاں پانی میں بہا دی گئیں- اس کے بعد پیر صاحب باقی مریضوں کو ادھورا چھوڑ کر گھوڑے کی طرف چلے گئے-
ستر سالہ بابا نا امید سا ہو کر باہر جانے لگا-میں نے سوچا افسوس کہ اس نے غلط مرشد پکڑا- پِیر بیچارہ جوانی بھلا کیسے لوٹا سکتا ہے ، ہاں حکیم شیراں والے کے پاس جاتا تو جوانی واپس لانے کا کوئ نہ کوئ کُشتہ ضرور پکڑا دیتے- ---- !!!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں