دنیا کی قدیم دہشت گرد
Press question mark to see available shortcut keys
SIGN IN
دنیا کی قدیم خفیہ ترین دہشت گرد تنظیم فری میسن کی خون آشام کاروائیاں پارٹ ساتواں ۔۔!
::::::::::::::::::
اِن کا حقیقی معبود کون ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں ایک فری میسنری پروفیسر عبدالحلیم الیاس خوری کی کتاب سے ملتا ہے۔ وہ ساری خدائی کو اپنے آپ پر قیاس کرتے ہوئے رقم طراز ہے کہ "ایسا کوئی شخص باقی نہیں جو اللہ اور خلود ونفس پر ایمان رکھتا ہو، ماسوائے احمقوں اور دیوانوں کے۔ اے قارئین! میسنری ہو جاؤ یا اللہ پر ایمان رکھنے والوں میں رہو۔ " ایک اور جگہ موصوف رقم طراز ہیں کہ "حقیقی خدا و معبود صرف مادہ ہے۔ " (الماسونیہ ذالک المجہول، ص 43)
یہ بات تو ہم شروع دن سے جانتے اور بیان کرتے آرہے ہیں کہ یہ تحریک صرف شیطانی اور دجّالی مقاصد کی تکمیل کے ایجنڈے پر کام کرتی ہے، تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کے ظاہر کی طرح اس کے باطن میں شیطان اور دجّال کی محبت کے بجائے ایک اللہ کی محبت ہو؟
یہاں نوواردوں کو درجوں میں ترقی در ترقی کے ساتھ اپنے مذہبی عقائد سے جانتے بوجھتے اور ہنسی خوشی ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور جب نادیدہ خدا کو ردّ کرکے وہ ایک مادہ پرست تنظیم کا حصہ بنتا ہے اور تفریح طبع کے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کا دل بہک نہ جائے احساس گناہ کی وجہ سے یو اس کو مادے کو ہی حقیقی معبود اور اللہ ماننے کا درس ازبر کیا جاتا ہے۔
آپ لوگ مشعال، سلمان حیدر اور وقاص گورایہ جیسے انسانوں کی صورت میں مادہ پرست یا مادے کو بطور اللہ اور معبود ماننے والوں کو اپنے حواس خمسہ سے پورے ہوش و حواس کے ساتھ دیکھ چکے ہیں۔ بہرحال، مادہ پرستی یا مختصراََ الحاد ہی اس تنظیم کی بقا کا راز اور بنیادی عقائد کی جڑ ہے۔
دین سے جنگ
فری میسن کے ارکان کا الحاد، ارتداد، خدا کے انکار، شیطان پر ایمان، اور مادے کو معبود سمجھنا تو ان کے خود کے وثائق اور قدیم دستاویزات سے معلوم ہوگیا۔ لیکن اسی پر بس نہیں بلکہ تمام ادیان عالم کے احترام کا دعویٰ کرنیوالوں کا ذاتی اور اندرونی رویّہ یہ ہے کہ وہ دین کے سخت دشمن اور دین کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے ایسٹرن فرینچ کے دستور پر پہلے ہی نمبر کے تحت لکھا ہے کہ "فری میسن کا کوئی دین نہیں ہے اور نہ ہی اس کے قانون میں شرائع دینیہ کا دخول اسے پسند ہے۔ " دوسرے نمبر کے تحت لکھا ہے کہ "وہ کسی ممبر کو شریعت کی اتباع پر مجبور نہیں کرتے، جو چاہے کرے، اسے دین کے سلسلہ میں یہ خود اختیاری حاصل ہے کہ دین میں سے کوئی پسندیدہ کام کرنا چاہے تو کرے یا سب کام چھوڑدے۔ "
1856ء میں فرانس میں ان کا یہ بلیٹن نشر کیا گیا "ہمارے اور ادیان کے مابین جنگ بند نہیں ہو سکتی اور ہم اس وقت تک دم نہیں لیں گے جب تک کہ تمام معابد و عبادت گاہوں کو بند نہیں کردیا جاتا۔ " 1923ء کے ایک بلیٹن میں یہ نشر کیا گیا کہ "اہل دین تمام دنیا پر تسلط حاصل کرنا چاہتے ہیں ہمیں تمام ادیان کے خلاف جنگ کرنے میں کوئی تردد اور پس وپیش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دین ہی انسانیت کے حقیقی دشمن ہیں۔۔۔۔۔۔
1900ء میں بلغراد میں ہونے والی ان کی عالمی کانفرنس میں ایک مقرر نے یہ تک کہہ دیا کہ "ہم اہل دین اور ان کے معابد و عبادت گاہوں پر فتح پالینے پر ہی اکتفا نہیں کریں گے بلکہ ہماری اساسی غرض تو ان سب کے وجود کو نیست ونابود کرنا ہے۔ "
جیسا کہ اوپر موجود سبھی بیانیے ایک ہی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ادیان کا حترام تو ان کا مظہر ہے مگر ادیان کو مدغم کیے بغیر یہ ان کا نام ونشان نہیں مٹا سکتے ایک ایک کرکے۔ اور یہ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ آخر یہ لوگ اصلیت میں کیا ہیں اور ان کا مقصد اس سب جھمیلے سے کیا ہے؟ تو دوستو! جان لو کہ یہودی خود بھی ان کا شکار ہیں کہ وہ اہل کتاب بھی ہیں اور اہل دین بھی اور یہ تنظیم زیادہ گہرے نقوش درجہ بہ درجہ جن مذاہب پر نقش کرہی ہے وہ یہودیت، اسلام، عیسائیت، بدھ مت، ہندومت، جین مت، کنفیوشس مت اور دیگر سبھی غیر معروف ادیان عالم۔ تو اگر یہودیت بھی ان کا شکار ایک اولین فریق ہے تو یہ دراصل کون لوگ ہیں؟
تو جناب صہیونیت کی اصلاح ہی اصل میں ان پر فٹ ہے چونکہ ان کے مقاصد اور نظریات زیادہ تر یہودی متھالوجی سے ملتے بلکہ اکثر مشترک ہیں تو یہ لوگ یہودی صہیونی کے نام سے جانے جاتے ہیں عرف عام میں فری میسنری کے علاوہ۔
عدم اخلاق ۔۔۔۔۔۔۔
اپنے موٹو حریت، مساوات اور اخوت کے برعکس ان میں اخلاقی اقدار ناپید ہیں۔ نہ اراکین کو حیرت وآزادی نصیب ہے، نہ کالے، گورے، مرد، عورت میں مساوات وبرابری، حتی کہ کالے رنگ والے کو وہ رکنیت ہی نہیں دیتے ماسوائے سپیشل کیسز میں۔ اور رہ گئی اخوت تو وہ فری میسنریوں کے مابین باہمی حد تک ہی ہے۔
عریانیت و بے حیائی ۔۔۔۔۔۔
عریانیت و بے حیائی تو ان کے ہاں ایک طرح سے روز کا معمول ہے۔ کلبوں میں ننگے ڈانس کرنا، سواحل پر ننگے نہانا ان کے ہاں باعث عار وشرم نہیں۔ اس سلسلہ کی مثال کے لیے فرانسیسی میسنریوں کے سردار اور فرانس کے ایک وزیراعظم لبون بلوم کی کتاب "شادی" جسے میسنریوں نے نشر کیا اور پھر اس کے کئی زبانوں میں ترجمے کیے۔ اسے پڑھنے کے بعداندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی غلیظ ترین، فحش اور عریاں کتاب ہے۔
اس کا مولف 1939ء سے 1946ء تک فرانس کا وزیراعظم تھا۔ ان کے مابین باہمی اخوت اس حد تک ہے کہ اپنے میسنری بھائی یا تحریک کی راہ میں دین، وطن، باپ، ماں، خاوند، بیوی یا اولاد چاہے کوئی بھی آجائے وہ فوقیت صرف میسنری ساتھی اور تحریک کو ہی دیں گے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے "حقیقہ الماسونیہ" ڈھائی سو بڑی تقطیع کے صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے شائع کی ہے ۔
فری میسن کی پوری تاریخ، میسنری قائدین کے بیانات، ان کی دستاویزات اور رموزو اشارات (Code words) اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ تحریک یہودی النسل ہے۔ اس کی ولادت و نشات عہد موسیٰ میں ہوئی یا عہد مابعد میں۔ یہ یہودی فکر کی حامل اور یہودیوں کی خطرناک خفیہ سازش ہے۔
اس بات کے درجنوں ثبوت حقیقت کو واشگاف کرتے ہیں کہ یہ تحریک بنت الفکر یہودی ہے۔ ان تمام دلائل و بیانات اور دستاویزات کا یہاں نقل کرنا ممکن نہیں۔
صرف یہ ذہن نشین رکھیں کہ شروع میں تمام ادیان اور اہل ادیان کے احترام و تکریم پر زور دینے والی 33درجات پر مشتمل اس تحریک کے 18 ویں درجے میں جاکر انجیل اور قرآن غائب ہوجاتے ہیں اور ان کی اپنی مخصوص تعلیمات ہی رہ جاتی ہیں اور 33 ویں درجے کے بعد ان کے چیف باس اور اس درجے تک پہنچنے والے نئے رکن کے مابین جو مکالمہ دہرایا جاتا ہے۔ وہی ان کے عقائد ونظریات کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔
مکالمہ یوں شروع ہوتا ہے:
س۔ تونے کس چیز پر قسم کھائی؟
ج۔ تورات پر!
س۔ کیا اس کے علاوہ بھی تو کسی کتاب کو جانتا ہے؟
ج۔ ہاں، قرآن اور انجیل ہیں۔ یہ ایمان سے خارج اور انسانیت سے نکلے ہوئے لوگوں کی کتابیں ہیں اور میرا ایمان ہے کہ محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم اور مسیح علیہ السلام ہمارے عقیدے کے سخت دشمن ہیں۔
س۔ کیا تو ان دونوں کتابوں پر ایمان رکھتا ہے۔
ج۔ ہرگز نہیں ! میں صرف تورات پر ایمان رکھتا ہوں، جو صحیح کتاب ہے اور جو موسٰی علیہ السلام پر اتاری گئی تھی۔
س۔ دین اسلام اور دین مسیح کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟
ج۔ دین مسیح کی تعلیمات تو تورات سے اخذ کی گئیں ہیں اور دین اسلام کی تعلیمات تورات اور انجیل سے ماخوذ ہیں۔
س۔ کیا اصل، فرع سے افضل ہے؟
ج۔ بے شک اصل فرع سے افصل ہے۔
ہیکل میں موسٰی و ہارون کی دو تقویریں یا مورتیاں رکھی ہوتی ہیں ان کی طرف اشارہ کرکے پوچھا جاتا ہے
س۔ یہ کون ہیں؟
ج۔ یہ موسٰی علیہ السلام ہیں۔
س۔ یہ کون ہیں؟
ج۔ یہ ہارون علیہ السلام ہیں۔
س۔ کیا تو ان کے علاوہ کسی پر ایمان رکھتا ہے؟
ج۔ ہرگز نہیں۔
س۔ تب تو ان دونوں کے علاوہ پر لعنت بھیج اور علاوہ وہ ہیں جو ان کے بعد آئے۔
قارئین اس بے ہودہ سوال کا جواب میں پڑھ کر اس قدر بے چین ہوا ہوں کہ بیان نہیں کرسکتا مگر وہ الفاظ ایسے ہیں کہ میرا قلم اور ضمیر گوارا نہیں کرتے کہ آپ لوگوں کو اس کی آگاہی ہو یا من وعن سوال کا جواب پڑھ کر آپ کی روح بھی بے چین ہو اور غصہ آئے جس کو آپ کسی پر اتار نہ سکیں اور نہ ہی پی سکیں۔ بہرحال سوال ہی اس کے بے ہودہ جواب کا واضح اشارہ ہے کہ وہ کیا کہنا اور پوچھنا چاہتے ہیں۔
بہرحال، آپ حضرات نے اگر کسی ملعون شاتم رسول بلاگر کا فیس بکی بلاگ دیکھا ہو تو بالکل وہی الفاظ اس سوال کے جواب میں فری میسنری ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ پھر بھی اگر آپ کو اس بکواس سوال کا جواب جاننے یا پڑھنے کی جستجو ہو تو اس مکالمے کے اختتام پر میں اس کتاب کا حوالہ درج کرہا ہوں جس سے یہ مکالمہ میں نے نقل کیا ہے۔
س۔ تیرا رب کون ہے؟
ج۔ میرا رب وہ ہے جو اسرائیل کا رب ہے اور اسرائیل کی تائید کرنے والا ہے۔ (حقیقتہ الماسونیہ، 42۔ 45)
اس تحریک کی جڑیں ماضی سے لے کر حال اور اب مستقبل میں بھی بہت گہری ہیں۔ اس تحریک کے ان گنت چھوٹے بڑے جان لیوا اور خطرناک انسانیت و مذہب کش کارنامے ہیں۔ ہم سب کی تفصیل یہاں لکھنے اور اکٹھی کرنے بیٹھ جائیں تو ایک پوری لائبریری اس کے متعلق مواد سے پر ہوجائے۔
لیکن آپ کی تجسس طبع کی خاطر میں یہاں کچھ ماضی کے پر وثوق واقعات پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ آپ کو اس تحریک یا تنظیم کے متعلق جو غلط فہمی یا خوش فہمی ہے کہ یہ من گھڑت مولویانہ قصے ہیں تو وہ دور ہوجائے۔
آغاز سے لے کر آج تک اس کے نام بدلے مگر مقاصد وہی رہے۔ جبکہ پرانا نام اس کو اس قدر موافق آیا کہ آج یہ دو حصوں میں بٹ کر بھی ایک ہی شمار کی جاتی ہے اور اس کے نئے نام سے زیادہ عوام اس کے پرانے یعنی اسرائیل کے قیام تک لیا جانے والا نام ہی لیتی اور پکارتی ہے۔
جی بالکل یہ تنظیم اسرائیل کے قیام اور دنیا میں مذہبی تصادم کی روح رواں ہے۔ آج لوگ اس تنظیم کی جدید اور سرکاری شکل موساد اور شین بیٹ سے واقف ہیں مگر میں آپ قارئین کو بتاتا چلوں کہ یہ دونوں ایجنسیاں اور اسرائیلی پارلیمنٹ و سینیٹ اس تنظیم کے ہی زیر سایہ ہیں اور یہ تنظیم ایک نادیدہ حکومت کی سرپرست اعلیٰ اور ایک کونسل کی شکل میں اسرائیل کی جڑوں میں بیٹھی ہے۔
اس تنظیم نے بہت سست روی مگر فعالیت کے ساتھ اس دنیا کا نقشہ اپنی مرضی سے ترتیب دیا ہے۔ دن رات اس کے موجودہ زعما اور کارکن دیوار گریہ پر خوش وخضوع کے ساتھ رو رو کر مسیح الدجال کی آمد کی مناجات اور دعائیں کرتے ہیں۔
اب میں آپ کو وہ دستاویزی ثبوت کی کچھ تفصیل بتاؤں گا جس نے اس تنظیم اور اس کے مقاصد اور کارناموں سے گزشتہ صدی میں پردہ اٹھایا۔
آپ میں سے کئی حضرات نے فری میسن، الومیناٹی، دجال، سب کو دیکھتی ایک آنکھ، پرزم اور برمودا ٹرائی اینگل کی تفصیلات سنی ہوں گی اور شاید آپ یہودی پروٹوکولز (Zion Protocols) سے بھی واقفیت ہو۔ تو میں آپ کو بتادوں کہ اوپر یا اس سے پہلے بیان کردہ ساری معلومات کا راز طشت ازبام کرنے والی خفیہ دستاویزات یہی یہودی پروٹوکولز ہیں۔
ڈاکٹر ای مارسڈن نے گزشتہ صدی میں اسے کسی خفیہ ذرائع سے لے کر مزید تفصیلات شامل کرکے دنیا کے سامنے شائع کردیا تھا جس کا اردو ترجمہ محمد یحییٰ خان نے 2004 میں پاکستان میں متعارف کروایا۔ میں آپ کی تشفی کے لیے یہاں ان پروٹوکولز کے عنوان درج کرہا ہوں، تفصیل اور تجزیہ کسی نئے سلسلے کے ساتھ لے کر حاضر ہوں گا۔ ان شاء اللہ۔ یہودی پروٹوکولز کل ملاکر 24 ہیں جو ایک کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔
بنیادی نظریہ
عملی اقدام
فتح کے طریقے
مذہب پر مادے کی فوقیت
حصول اقتدار کی تکنیک
عالمی جنگیں
عبوری حکومت
دوبارہ تعلیم کی ضرورت
آمریت اور جدید ترقی
اقتدار کے لیے تیاری
کلیت پسند ریاست
پریس پر کنٹرول
اہم راہیں
مذہب کے خلاف جنگ
مستبدانہ دباؤ
برین واشنگ
اتھارٹی کا غلط استعمال
مخالفین کی گرفتاریاں
حاکم اورمحکوم
مالیتی پروگرام
قرضے اور سرمایہ
قوت زر
اطاعت پر آمادگی
حکمران کی اہلیت
ان پروٹوکولز کا مطالعہ اور تجزیہ وقتاً فوقتاً یہود بالخصوص فری میسن کے ماضی اور حال کے منصوبوں کا آئینہ دار ہے اور مستقبل کے حالات کو بھی سمجھنے میں مدد دیتا رہے گا۔
فری میسن اور یہودیوں کے ان پروٹوکولز کو پڑھ کر بھی کوئی اس غلط فہمی میں ہے کہ یہ تحریک کوئی من گھڑت کہانی ہے یا ان کا وجود سرے سے ہے ہی نہیں تو اس انسان کو ضرور دماغی علاج کی اشد ضرورت ہے یا پھر تجدید ایمان ہی کافی ہے۔
جو لوگ اس کے اس تاریخی بلکہ یوٹرن کارنامے سے واقف نہیں تو وہ سپئر مین ٹموتھی کا ایک مضمون مطالعہ کرلیں جس نے ٹائی ٹینک جہاز کے ڈوبنے یا یوں کہیں کہ اس کے ڈوبنے کے ڈرامے کے پیچھے موجود تاریخ کی بہت بڑی سازش اور اس کی کڑیاں ڈھونڈ کر اس ون ورلڈ آرڈر اور عالمی حکومت کے قیام کے مقاصد بیان کیے ہیں۔
!!•••✦✿{ ثمرؔغازی }✿✦•••!!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں