موبائیل بند

کُھل گئ  ------  ظفر جی

کراچی میں آج موبائل سائلنٹ ڈے پورے مذھبی جوش و خروش سے منایا گیا- اس موقع پر امن عامہ کے پیش نظر صبح 8 بجے سے لیکر رات 10 بجے تک موبائیل سروس معطل رہی-

مشہور دانشور ، ادیب اور نقاد ظفرجی نے یہ دن اپنی جرابیں دھوتے ہوئے گزارا- روزنامہ فساد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جرابوں کے دس جوڑے ہیں ، اور اتفاق سے ہر جراب کا رنگ جدا ہے- موبیل سروس بند ہونے کی وجہ سے انہوں نے سب کو دھو دھو کر یک رنگا کر دیا ہے-

ابو اصفہانی روڈ پر  مشہور اسکالر ظفر نقوی نے بتایا کہ حکومت نے چہلم کے دوران تمام مکتبہء فکر کے موبائل بند کر کے اتحاد بین المسلمین کی ایک عمدہ مثال قائم کی ہے- انہوں نے تمام بڑی موبائیل کمپنیوں سے ایسے موبائل متعارف کرانے پر زور دیا جو محرم کے دوران خود بخود ساکت ہو جائیں ، یا کم از کم انکی بیٹری ہی فیل ہو جائے-

برنس روڈ پر  طوطئ پاکستان علامہ ظفر قادری نے حکومتی اقدام کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ربیع الاول میں بھی موبائیل سروس معطل  رکھی جائے گی تاکہ لوگ یکسو ہو کر گلہائے عقیدت سماعت فرما سکیں-

کورٹ روڈ پر فضیلت الشیخ جناب ظفر سلفی نے حکومت سے شکوہ کیا کہ گزشتہ سال مرید کے کانفرنس کے دوران موبائیل سروس معطل نہ کر کے حکومت نے روائتی تعصب کا مظاہرہ کیا ہے-

پٹیل پاڑہ میں موبائیل چھیننے والے ایک گروہ کے سرغنہ "ظفر کے ٹو " نے بتایا کہ آج کا دن شدید مندی کا دن تھا کیونکہ اکثر حضرات موبائل لے کر ہی نہیں نکلے- انہوں نےحکومت سے درخواست کی کہ ایسی بندش کو وقت سے پہلے مشتہر نہ کیا جائے-

بوہری بازار میں  سیکیورٹی گارڈ ظفری خان  نے موبائیل کو الٹتے پلٹتے ہوئے  ہمارے نمائندے  سے کہا:
"اچّا اچا پیچے سے بند اے .... ام سمجا آگے سے بند اے ...... اب کھُل گئ ہے :p

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری