مرنڈا

السیفی الجمة مع فضائل المیروندا

مرنڈا سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور "مور+انڈا" کی بگڑی ہوئ شکل ہے- قدیم رومن بادشاہ ناشتے میں مور کے ہاف فرائ انڈے کھایا کرتے تھے جبکہ عوام مرنڈا کھا کر شکرانہ ادا کرتی تھی-

"دی لاسٹ مغل آن ارتھ" میں لکھا ہے کہ مغل بادشاہ امساک کےلئے مرنڈا تناول کرتے تھے- بابر نے جس اژدھے سے نو گھنٹے کشتی کی اس نے مرنڈا کھا رکھا تھا- تیمورلنگ نے مرنڈے کےلئے دوپہری دیوا بال کے دلّی لوُٹی-  ایسٹ انڈیا کمپنی ھندوستان میں مرنڈا لینے آئ تھی- پاکستان میں ہمیشہ مرنڈا دیکر جمہوریت بحال ہوئ- میاں صاحب مرنڈا نہ کھلانے پر ناہل ہوئے اور کپتان مرنڈا کھلا کر وزیراعظم بنا-

گربھ شاستر میں لکھا ہے کہ وسط ایشیا کے پٹواری بروز جمعہ مرنڈا کھانا متبرک سمجھتے ہیں- اس سے ھڈیاں مظبوط اور دماغ موٹا ہوتا ہے- برگر کھانے والا یوتھی آپ کو شیئر کرنے سے روکے گا ;)

جمعہ مبارک

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم