ظفر جی عمر رفتہ
پند و نساہ ---- ظفرجی
اپنی انچاسویں برسی کی دیگ کھڑکھڑاتے ہوئے سوگوار ہوں کہ وقت کیوں بیت گیا- کیا ہی اچھا ہوتا کہ عمر کی سوئ 22 سے 25 تک ہی گھومتی رہتی- کیا سوچ تھی یار- کیا جزبات و احساسات تھے-نماز پڑھتے تھے تو اس کا لطف آتا تھا ، گناہ کرتے تھے تو اس کا مزہ آتا تھا-
دن جو پکھیروُ ہوتے سونے کے پنجرے میں قید کر کے موتی کے دانے دیتا اور گلے سے رکھتا لگائے-
یاد نہ جائے ، بیتے دنوں کی
لڑکپن میں ایک شعر لکھا تھا کہ:
آج اس گل کو جو نم دیکھا تو احساس ہوا
حسن کچھ اور نکھر آتا ہے برسات کے بعد
کہاں بارش کے قطروں کو زلفِ محبوب سے ٹپکانے کی آرزو اور کہاں آج بادل دیکھتے ہی واویلہ کہ منجیاں اندر کر لوؤ ، کنیاں آیاں جے-
کبھی پرس میں تصویرِ جاناں لگائے پھرتے تھے ابھی بجلی گیس کے بِل اٹھائے پھرتے ہیں- تیس روپے ، عطر کی شیشی پہ لٹانا کتنا پرلطف تھا ، تیس روپے کی دہی لانا کتنا مشکل ہے- ہینڈ بیگ میں کبھی پھول ، رقعے ، ڈائریاں ، محبت نامے ہوا کرتے تھے ، آج سفُوفِ مغلظ یونانی ، کشتہء مُوصلی سفید اور خمیرہ گاؤزبان بھرا ہے اور آؤٹ پٹ --- ؟؟ صرف "مردانہ باتیں " -
خیر ، عمر رفتہ تھی گزر گئ- قصّہ پاک ہوا- اک موسم تھا ، بیت گیا- وقت نے رلایا بھی بہت اور سکھایا بھی بہت - وہ سب کچھ جو بزرگوں سے سن کر سوچا کرتے تھے کہ بڈھے کا دماغ چل گیا ہے ، جب حرف بہ حرف سامنے آیا تو اپنا دماغ چلنے لگا- اب وہ بڈھے کہاں - چیدہ چیدہ سے ملاقات ہوتی ہے ، محرم شریف میں ، قبروں کی لپائ کرتے ہوئے-
پندو نساہ کو جی چاھتا ہے پھر سوچتے ہیں لوگ سن کر نس نہ جائیں- ہم نے کون سا عبرت پکڑی تھی جو اور پکڑیں گے- نوجوان ٹھٹھا کریں گے کہ بڈھے وار نصیحتاں کردا ایں پاندا ہوئیں گا جوانی ایچ ہنیر سوھنیاں-
اقوالِ زریں سمجھ کر پڑھئے یا اقوالِ ظفری ، یہ 12 مدنی پھول میری 49 سالہ زندگی کا نچوڑ ہیں- کامیابی کی کنجی- ناکامی کا جڑ سے خاتمہ- دکان مکان پہ لٹکانے سے رزق میں برکت آئے- گھر میں دُھونی دینے سے ہر مخلوق (ماسوائے زوجہ) جن بھوت چڑیل سایہ چھلاوہ تابع فرمان بن جائے- ملنے کاپتہ- دواخانہ خاص شیراں والا ملک پور ، کسووال-
اقوالِ ظفری
نمبر 1- دن کے اجالے میں لوگوں کےلئے باعث خیر بنو کیونکہ شر تو سوئے ہوئے بھی خراٹوں ، ریح اور پاد کی صورت جاری رہتا ہے-
2- نیّت عمل کا بیج ہے ، نیّت درست رکھو تاکہ پھل میٹھا آئے- بدنیّتی خربوزے کو تُمبہ اور بندے کو دُنبہ بنا دیتی ہے-
3- اگر تمہارے پاس دو اچھی چیزیں ہوں تو ان میں بہتر والی چیز بھائ کو دو ، وہ شک کرے تو بدل دو- پھر بھی شک کرے تو بھائ بدل لو-
4- گندگی دیکھ کر بڑبڑاتے ہوئے واپس مت پلٹو- کنڈی لگاؤ- صفائ کرو ، اور فخر کرو کہ تم ایک ریفارمر ہو-
5- رواجی دعاؤں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار خدا سے دو گھڑی دل کی بات بھی کر لیا کرو- وہ روز تمہاری راہ دیکھتا ہے اور تم امام کے پیچھے چھپے رہتے ہو-
6- سکھ چاھتے ہو تو خدا اور بیوی دونوں کو راضی رکھو - نہ تم خدا کی سلطنت سے بھاگ سکتے ہو نہ بیوی کی سلطنت (گھر) سے-
7- مسکراہٹ سو کامیابیاں لاتی ہے ، اور درشتگی ایک سو ایک ناکامیاں-
8- مسلمان بھائ کی کامیابی پر مسکراؤ چاھے انگلیوں سے اپنی باچھیں چیِرنی ہی کیوں نہ پڑیں-
9- تنگ دست رہنا چاھتے ہو تو بس کنڈکٹر ، رکشہ ڈرائیور اور ٹھیلے والے سے روز جھگڑا کیا کرو-
10- سیّد زادوں کا احترام کرو ، فقیر کو مت دھتکارو ، ہو سکتا ہے وہ اصلی ہوں-
11- دور سے آتی عورت کو دیکھ کر نظر جھکا لو اور رستہ چھوڑ دو- ہو سکتا ہے آپ کی بیوی ہو-
12- ڈاکو ، چور ، پولیس اور وکیل سے بچنا چاھتے ہو تو رزقِ حلال پر قناعت کرو کیونکہ مچھر ، مکھی ، کھٹمل ، بچّھو ہمیشہ گندگی پر آتے ہیں-
جیو ہزاروں سال- جن احباب نے ان بکس میں وِش کیا ان کےلئے بے شمار نیک تمنائیں-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں