تربیت اطفال ۔ عارف خٹک

"تربیت"

محترم رعایت اللہ فاروقی صاب کے آج کل بچوں والے تربیتی سیشن پڑھ پڑھ کر میری بیگم ایک اور بچے کی فرمائش کرنے لگی ہیں۔کہ اسے دوسرا بچہ چاہیئے۔ مگر میں نے بیگم سے دوسری شادی کی اجازت مانگی ہے۔کہ دوسری سے پیدا کرکے میں خود ایسی ہی دیکھ بھال کروں گا۔جیسے فاروقی صاب اپنے پوتے کی کررہے ہیں۔
بیگم کی باتیں(سنسر کرکے)بات جب تربیت پر آگئی۔تو وہ بولی،کہ بلاشُبہ ہم دونوں اب کی بار ایسا کُچھ بالکل بھی نہیں کریں گے۔جو ہم نے سنیال، نہال اور میشال کی دفعہ کیا۔ نئے بچے کی نفسیات  پہلے جانچیں گے۔پھر اُس کو باقی شعور دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں اور سمجھائیں گے،کہ دیکھو بیٹا ماں باپ کی ناک میں اُنگلیاں نہیں ڈالی جاتیں۔ بلکہ اُنگلی تو کہیں بھی نہیں ڈالی جاتی۔اسی طرح آپ بھی میرے ساتھ ساتھ بچے کی تربیت اچھے خطوط پر کرتے رہا کیجئیے۔
بیگم کو کہا کہ مومن صرف ایک بار اور ایک سوراخ سے ڈسا جاتا ہے مگر تم نے پچھلے تیرہ سالوں سے ان ان سوراخوں سے مجھے ڈسا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ بھروسہ ایک بار ٹوٹتا ہے مگر یہاں میرے بھروسے صروف ٹوٹے ہی نہیں بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر ان کا ریپ ہوتا ایا ہے۔
بیگم کو مزید موٹیویٹ کرتے ہوئے فاروقی صاب کا تازہ ترین مضمون دکھایا۔ جس میں واضح طور پر یہ لکھا ہے۔کہ دُنیا میں بچوں کی زیادہ تر اموات ماں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ دُودھ پلاتے وقت ماں سو جاتی ہے۔ اور بچہ سینے تلے آکر شہید ہوجاتا ہے۔ جو کہ  ایک تلخ حقیقت ہے۔ آپ نے تو چاروں کو بوتل پلا کر بڑا کیا ہے۔تبھی تو میرے بچے ابھی سے کسی اور کے سینے تلے آکر شہید ہونے کے لئے آہیں بھر رہے ہیں۔ لہٰذا دوسری شادی کرکے اب یہ کام مجھے بذاتِ خود کرنا پڑے گا۔ بچہ رہے یا نا رہے۔لیکن تصور کی آنکھ سے شہادت کے عظیم مرتبے پر کم از کم میں خود کو فائز ہوتے ہوئے ضرور دیکھ رہا ہوں۔

انشاءاللہ شہادت اپنی منزل ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم