ٹوپی

ٹوپی والا ---- ظفرجی

فروری 2013 کے اُس پار کا دور بہت ہی پر سکون تھا- پرانی انارکلی کے پیچھے ہمارا ٹوپی مسواک کا دھندہ تھا- صبح سویرے آئے ، نماز پڑھی نہ پڑھی ، ٹوپی سر پر ضرور دھری ، پھر عطر پھلیل ، تسبیحات ، ہاشمی سرمہ اور ٹوپیاں سجا کر بیٹھ گئے- شام تک پانچ سات گاہک پھانس ہی لیتے تھے-
پھر ایک روز قوم کی مت ماری گئ- صدیوں سے بے ہوش لارڈ امران کو اچانک ہوش آیا ، اس نے دو قومی نظریے کا نعرہ لگا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے قوم پٹواری اور انصافی میں تقسیم ہو گئ-
ملک میں جگہ جگہ سیاست ورانہ فسادات شروع ہو گئے- دوسری طرف بھانت بھانت کے سرخے ، لبرلز غامدین اور ملاحدئے ھنڈیا ابلتی دیکھ کر اپنے اپنے آلو ابالنے چلے آئے- سفید ٹوپیوں کا رواج ختم ہونے لگا اور تین رنگی ٹوپیوں کی مانگ بڑھنے لگی- غامدین ملک سے مسواک کا خاتمہ کر کےٹوتھ پیسٹ رائج کرنے کے منصوبے بنانے لگے- غرض کہ فقیروں کا دھندہ چوپٹ ہو گیا اور شریفوں کا جینا دوبھر !!!
انہی دنوں میری دکان سے گزر استاد Riayatullah Farooqui صاحب کا ہوا- انہوں نے میری حالت پر رحم کھاتے ہوئے فرمایا " آپ پیچھے سے شریف اور آگے سے شیخ لگتے ہو- ملک عرب میں مسواکوں کی خوب مانگ ہے- کہو تو ویزا لگوا دوں-
میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ مسواک کا تھیلا اٹھایا اور اُستاد کے پیچھے پیچھے چل پڑا-
عرب آ کر میری کایا ہی پلٹ گئ- میں نے مسواک سے انساپیوں کی کمر کھجانے کے کئ کامیاب تجربات گئے- یوں کچھ ریال ملنے لگے اور گزر بسر اچھی ہونے لگی- آہستہ آہستہ میں دانشوری کی سیڑھیاں بھی چڑھنے لگا-
ایک دن غلطی سے کسی مولوی کی کمر کھجا بیٹھا- جواب میں بہت سے مولویوں نے مل کر مجھے دھویا- تجربے سے ثابت ہوا کہ سب کی خارش کا علاج ایک مسواک سے ممکن نہیں-
میں نے دو اھداف مقرر کئے- سیاسی تقسیم کو قومی تقسیم بننے سے بچا کر قوم کو بحیثیت پاکستانی ایک پلیٹ فارم پر لانا- یہ کام مینڈک تولنے کے مترادف تھا- چنانچہ اعشاریہ 5 فیصد کامیابی ملی- دوسرا ھدف مسلکی شناخت ختم کر کے سب کو مسلمان بنانا تھا- اس چکر میں اپنی بھی ٹوپی بھی لٹوا بیٹھا سو اب لگڑ بگڑ بنا پھرتا ہوں-
دھرنا مشرف کی باعزت رہائ کےلئے ایک مداری تماشا ہے، یہ بات میں نے اس وقت لکھی جب میں ابھی دانشور بھی نہ بنا تھا- میں نے لارڈ امران کے "سیاست کے اصغر خان" بننے کی پشین گوئ بھی فرمائ تھی لیکن شاید مؤکلات دھوکا کھا گئے اور لارڈ کی بجائے ھمدرد حسینی Asghar Aliبن گیا-
بہرحال حالات کافی بدل چکے ہیں- انساپی بھی سیانڑیں ہو چکے ہیں اور شرفاء بھی لمبی تان  چکے ہیں- لارڈ امران اب محض ایک "ڈراوا" ہے جسے چڑیاں اڑانے کےلئے کھیت میں تو لٹکایا جا سکتا ہے ، حکومت گرانے کےلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا-
لمبے اسٹیٹس لکھنے کا فیدہ کچھ نہیں-  ہمارے زمانے میں بستی بھر کےلئے ایک آدھ دانشور ہی کافی تھا ، اب داڑھی کھجاؤ تو چار گرتے ہیں-
قصّہ مختصر نیا پاکستان منٹو کے "نیا قانون" کا چربہ تھا جو ناکام ہو چکا- وہی لوٹ گھسوٹ ہے- ڈار کے ڈر سے اپنی ساری دولت لیاری ندی میں دفن کر کے مسواک ٹوپی کی دکان دوبارہ کھول چکا ہوں-
ہمارے ہاں ریشمی ، اونی اور نائلون سے بنی ٹوپیاں ، مکے مدینے سے ٹچ شدہ تسبیحاں ، اصلی کوہ نور سرمہ ، حرمین عطر اور کیکر کی مسواک بازار سے بارعایت دستیاب ہے-
او کاکا .... او ویر ........ سائز دس ... ٹوپی دا !!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم