تلخ مزدور ظفر جی
مزدور ، دوسرا رُخ --- ظفرجی
مرحوم عاصم علی شاہ صاحب سے ہماری پرانی یاد اللہ تھی- کسی دور میں وہ کروڑپتّی ٹھیکیدار ہوا کرتے تھے- بعد میں گردشِ دوراں کا شکار ہو کر ہم جیسے سیکڑہ پتی بن گئے-کیا خوُب زمانہ تھا جب ھم ان کی ہم رکابی میں خرگوش کا شکار کیا کرتے تھے-
مارچ 2012ء کی ایک پربہار شام ہم 24 الف راوی کے قریب شکار کھیل رہے تھے کہ ہمارا گزر ایک قبرستان سے ہوا- حسبِ دستور ہم لوگ وہاں دُعا کےلئے کھڑے ہو گئے- میں نے دیکھا کہ شاہ جی زمان و مکاں سے لاتعلق کچھ دور مونہہ پھیرے کھڑے ہیں-
دعا کے بعد میں نے تجسس سے مجبور ہو کر پوچھا شاہ جی خیریت ہے ؟ اہل قبور کےلئے دعا کیوں نہیں فرمائ-
ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولے دعا تو کر دیتا ، مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں اس قبرستان میں کوئ مزدور نہ دفن ہو ، اور میری دُعا سے اس کی مغفرت نہ ہو جائے-
میں نے ہنسی روکتے ہوئے اس پر اسرار حیلےکی وضاحت چاھی تو بولے:
"تم جانتے ہی ہو کہ میں ایک کروڑ پتّی ٹھیکیدار تھا- یہ جو آج تین کپڑوں میں پھر رہا ہوں ، سب مزدوروں کا کیا دھرا ہے- میں نے بلوچستان میں کوئلے کی کانوں کا ٹھیکہ لیا تھا- مجھے اس شعبے کا زیادہ تجربہ نہ تھا- تاہم جو مزدور میّسر آئےان میں سے ہر ایک کا دعوی تھا کہ وہ پاتال میں گھس کر کوئلہ نکال سکتا ہے- میں نے ان پہ اعتبار کر لیا- یہ لوگ کھدائ میں جُت گئے- وہ ہر بار مجھے یقین دلاتے کہ اس کھدائ میں کوئلہ ضرور نکلے گا- مگر نکلتا کیا ؟ صرف پتّھر-
وہاں مشہور تھا کہ جس مقام پہ کوئلہ ہو وہاں پہلی کھدائ پہ خاص قسم کی کیڑیاں دکھائ دیتی ہیں- یہ عیّار لوگ جانے کہاں سے کیڑیاں اٹھا اٹھا کر مجھے لا دکھاتے کہ صاحب بس اس کھدائ میں کوئلہ نکلا ہی نکلا- یوں کھدائیاں کرتے کرتے سارا پیسہ برباد ہو گیا- مجھے اپنے جیسا ملنگ کر کے یہ کسی اور ٹھیکیدار کو چمٹ گئے اور میں ٹنڈ منڈ درخت کی مانند کھڑے کا کھڑا رہ گیا-
بہرحال جیسے تیسے کر کے کچھ مزید روپے جمع کئے-سوچا جمع پونجی سے اپنا مکان بنوا لوں- یہاں پھر مزدور سے واسطہ تھا- مستری سے ٹھیکہ مکایا تو میٹیریل ناقص لگانے لگا ، دیہاڑی مکائ تو کام لمبا کھینچنے لگا- گھر کیا بننا تھا ، بمشکل ڈھانچہ ہی کھڑا ہو سکا- ادھر میری جیب خالی ہوئ ، ادھر مزدور مستری کسی اور کو ٹنڈ منڈ کرنے چلے گئے-
انسان آخر بھاگ کے کہاں جائے ؟ ہر جگہ مزدور پھن پھیلائے کھڑا ہے- کہیں الیکٹریشن کی صورت ، کہیں مکینک کا روپ دھارے - گاڑی ٹھیک کرانے جاؤ تو ایک نقص نکال کر دس خرابیاں ڈال دیگا- ٹی وی ٹھیک کرانے جاؤ ، فیوز یا تار کا مسئلہ ہو گا ، بولے گا سرکٹ جل گیا ہے- اس لئے بھائ میں تو مزدوروں سے کنارہ کرتا ہوں- بس چلے تو جنّت کے رستے میں کھڑا ہو جاؤں کہ خبردار جو کوئ مزدور ادھر سے گزرا-
کوشش کرو کہ خود مزدور بن جاؤ- دو چار اوزار گھر پہ رکھ لو اور اپنا چھوٹا موٹا کام خود کیا کرو- ناتجربہ کاری سے چھوٹا موٹا نقصان بھی ہو جائے تو پرواہ نہیں- مزدور پہ تکیہ کرو گے تو ایک دن میری طرح خرگوش کا شکار ہی کر رہے ہو گے-
ہیں تلخ بہت بندہء مزور سے متاثرہ کے اوقات 😣
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں