عطر فروش ظفر جی
عطر فروش کا انجام --- ظفرجی
یہاں پرانی سبزی منڈی کے نزدیک ایک عطرفروش کی دُکان تھی-اس کی خباثت و بددیانتی کا شہرہ چہارسو تھا- دلی ثمرقند و بخارا سے لوگ آکر اس کے عطر سے پناہ مانگا کرتے تھے-
ایک روز حاتم کا وہاں سے گزر ہوا- وہ عطر فروش صدا لگا رہا تھا کہ جنت الفردوس لے لو ، باغ بہشت لے لو، کعبہ لے لو ، تیس روپے فی شیشی-
حاتم ٹھٹھک کر رُکا پھر اس گراں فروش سے کہا:
"تیس سال سے مجھے ایک خوشبوکی تلاش ہے- نام یاد نہیں- البتہ سوگند اس کی متعفن انگور کی دیسی شراب جیسی ہے ، گویا تین روز پرانی کھٹّی لسّی کو مٹّی کی چاٹی میں ڈال کر بھوسے کی دھڑ میں دبا دیا گیا ہو"
اس پر اس گراں فروش نے دھڑا دھڑ بوتلوں کے ڈھکن کھولنے شروع کئے اور دبا دب حاتم کی خلعت پہ عطر ملنے لگا-
بالاخر جب خلعت مردے کا کفن بن چکی تو وہ عطر فروش بولا اب بتائیے کیسی خوشبو ہے ؟ حاتم نے جواب دیا واللہ دماغ چکرا گیا ہے ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہے ، لیکن کھٹّی لسّی اور متعفن انگوری شراب کی خوشبو مفقود پاتا ہوں-
لیکن اس زاغ صفت نے ہار نہ مانی اور شوکیس سے "فواکحة" نام کا عطر نکال کر پیش کیا- حاتم نے زوردار چیخ ماری اور کہا واللہ یہی تو وہ خوشبوُ ہے ، جسے تیس برس سےتلاش کر رہا تھا اور ثمرقندو بخارا سے بھی نہ مل سکی-
بہرحال 30 روپےکی شیشی چار سو میں خرید کر حاتم اپنے وطن کو سدھارا- اس نے اس نئ خوشبو کا وہاں خوب چرچا کیا اور کئ مشتاقانِ عطور نے اسے سونگھنے کی سعادت حاصل کی-
ایک روز جب حاتم سو کر اٹھا تو لُٹیا ہی ڈوب چکی تھی- کیا دیکھتا ہے کہ عطر کی شیشی بھی سلامت ہے، اس میں عطر بھی موجود ہے ، لیکن خوشبو سرسوں کے تیل سی آ رہی ہے-
وہ سمجھا کہ شاید نَزلہ زکام کے بموجب قوت شامہ کمزور ہو چکی- برائے تحقیق صاحب خانہ کو سنگھایا ، اہل محلہ سے پوچھا ، سب نے ایک ہی جواب دیا کہ اس بوتل سے جن تو نکل سکتا ہے ، خوشبو نہیں-
چاروناچار حاتم منزلیں مارتا دوبارہ شہر آیا اور سیدھا اس فروش گاہ پہنچا- دیکھا تو اس فاسد عطر فروش کی دکان بند ہے- اس نے آس پڑوس سے دریافت کیا تو گرگ باراں دیدہ نے آبدیدہ احوال یوں سنایا کہ اس خائن کے گھر میں چھت والا ایک پنکھا تھا جس نے نیچے وہ شام کو پڑ کر سو جاتا تھا- ایک روز عذابِ الہی کا کوڑا یوں برسا کہ اس کا بجلی کا بل چوبیس ہزار روپے آ گیا- تب سے آج تک وہ کسی دمدار ستارے کی طرح محکمہء بجلی کے چکر کاٹ رہا ہے-
حاتم نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا ہائے افسوس کہ اس قوم کی بداعمالیوں کی وجہ سے نیک حاکم اٹھا لئے گئے اور حکومت جبریہ ، بے قدریہ و جیب کتریہ ان پہ مسلط کر دی گئ- اگر وہ خائن عطر میں سرسوں کا تیل نہ ملاتا تو آج نیک پادشاہ جیل میں سرسوں کی گھانڑیں نہ پیس رہے ہوتے-
اس پر انجمن عطر فروشاں نے بیک زبان کہا صاحب وہ خائن تو تیس سال سے قوم کو سرسوں کا تیل لگا رہا تھا- عذاب اتنی دیر سے کیوں آیا ؟
حاتم نے کہا ارے او بے خبر قوم ، امام صالح ہو تو مقتدیوں کی ٹوٹی پھوٹی بھی قبول ہو جاتی ہے- جب قوم باجماعت چور بن جائے تو عذاب آیا ہی کرتے ہیں-
اس پر گراں فروش چیں بہ چیں ہوئے- اس سے پہلے کہ حاتم کی ٹھکائ واجب ہو جاتی وہ وہاں سے رخصت ہوا اور اپنی جان بچانے پر ایک نیکی کا مستحق ٹھہرا-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں