عاشقی
میں جذبہ دل کی یہ الٹی تاثیر دیکھ رہا ہوں کہ جتنا پاس کھینچتا ہوں آپ اتنے دورکھنچتے چلے جارہے ہیں، جوں جوں آپ کی طرف میرا التفات بڑھتا جاتا ہے توں توں آپ مجھ سے اجتناب و احتراز برتتے جاتے ہیں جیسے جیسے میں قرب کی منازل طے کرتا آرہا ہوں ویسے ویسے آپ بُعد کے مراحل طے کرتے جارہے ہیں۔
اگر کاتب تقدیر نے میری خوشیوں کو آپ کے التفاتِ ناز سے وابستہ و مشروط کر ہی دیا ہے تو مجھے اس ناکردہ گناہ کی اتنی بڑی سزا آپ کیوں دے رہے ہیں؟
مانا کے ایک مجبور و مقہور و مہجور عاشق کی آہ بے اثر اور نالہ نارسا ہوتا ہے تاہم مکافات عمل کا قانون تو اٹل ہے فَاَیْنَ الْمَفَرُّ؟
کیا آپ کو داور محشر کے حضور جوابدہی سے ڈر نہیں لگتا کہ وہ اس ستم کی مکافات پر قادر ہے۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ہر ایرا غیرہ نتھو خیرا و ایں و آں تمہاری نظرِ عنایت کا حقدار ٹھہرتا ہے اور میں تیرہ بخت وسیہ نصیب و زبوں طالع تمہارے در کا" رشتہ در گردن افگندہ "غلام ہوکر بھی تمہارے التفات و توجہ سے محروم رہتا ہوں اور پھر ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ اگر کبھی بموجبِ
"دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں"
میں شکوہ سنجِ بے التفاتی و عدم توجہی ہوتا ہوں تو یہ امر بھی آپ کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے!
میں ایک سے زائد بار یہ کہہ چکا ہوں کہ آپ وہ وقت نہ آنے دیں کہ آپ کی ناراضی کے ڈر سے بے شمار سخن ہائے گفتنی،ناگفتہ رہ جائیں،لیکن اب آپ نے انتہائی اہم معاملات میں بھی میرے لیے لب بستگی کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔
آپ ہی بتائیں کہ کیا کروں؟کچھ کہتا ہوں تو رہی سہی عزت خاک میں ملنے کا اندیشہ ہے اور چپ رہتا ہوں تو آپ کے نقصان کا خطرہ ہے۔
میں تو انتہائی غور و خوض کے بعد اس فیصلے تک پہنچا ہوں کہ معرضِ بیان میں بولنا ہی چاہیے،بھاڑ میں جائے عزت و وقار،یہ عاشقی کی توہین ہے کہ عزتِ سادات کے چلےجانے کے ڈر سے عاشقی کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں