ماں ۔ظفر جی
رینو ویشن ---- ظفرجی
فوٹو شاپ سیکھی تو بزرگانِ عہد رفتہ کی نایاب ، دھندلی ، بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کو "زندہ" کرنے کا جنون سوار ہو گیا- فوٹو رینوویشن پروجیکٹ کے تحت دادا جی ، دادی جان ، چچا جان سب کو رنگین کر دیا-
ایک روز پرانی پیٹی سے اماں جی کی تصویر مل گئ- جانے کس دور کی تھی- کھیت میں چارہ کاٹتے شاید بھائ نے بنائ تھی- سر پہ وہی میلی چادر ، ہاتھ میں درانتی- احساسِ تفاخر سے چمکتا ہوا چہرہ-
فوراً دوکان پہ جا کے اسکین کرایا اور کلر پیلٹ کھول کے بیٹھ گیا- کافی مشکل پروجیکٹ تھا- ایک ایک چیز زوم کر کے رنگین کرنا پڑی- بالاخر تصویر تیار ہو گئ- چائے کی چسکی لیتے ہوئے تنقیدی نظروں سے پروجیکٹ کو دیکھا تو نگاہ جوتوں پہ آ کے ٹھہر گئ-
وہی پرانی پلاسٹک کی جوتی جسے اماں گرگابی کہتی تھیں- ان دنوں بازار سے ساٹھ ستر کی آتی تھی- کئ بار کہا اماں پاؤں کا سائز ہی بتا دو ، تمہیں پیر محل کی چپل لا کر دوں-
ماں ہنس پڑتی- الٹا مذاق بناتی کہ اسے دیکھو ماں کےلئے پیرمحل کی جوتی لائے گا ؟ کیوں ؟ میں نے کون سا ولایت جانا ہے- کھیت میں ہی تو پہننے ہیں- اور ویسے بھی پلاسٹک کی گرگابی کھیت میں خوب چلتی ہے- خواہ مخواہ پیسے ضائع نہ کیا کرو-
میں نے کلر پیلٹ سے ڈارک گرے برش سیلیکٹ کیا اور اماں کے جوتوں کو چمکانے لگا- پھر اچانک جیسے تصویر دھندلی ہونے لگی-
گرگابی ؟ آہ ؟ ماؤس پہ میری گرفت ڈھیلی پڑ گئ- گلہ رندھنے لگا-ماں تو نے زندگی گرگابی میں گزار دی اور میں تم سے پاؤں کا سائز ہی پوچھتا رہ گیا ؟؟ آخر لے کے کیوں نہیں آیا- بھلے پھینک دیتی- میں اٹھا کے پھر پہناتا- آخر ضد کر کے تو پہنا سکتا تھا ناں ماں ؟؟
میں واقعی بہت ظالم ہوں- جانے کس مٹی سے بنا ہوں- جس ماں کےلئے زندگی بھر ایک اچھا جوُتا نہ لا سکا ، آج اس کے جوتوں کو فوٹوشاپ کر کے چمکا رہا ہوں ؟؟ مجھ جیسا ڈھیٹ شاید زمانے نے نہ دیکھا ہو گا-
دو آنسو میری آنکھوں سے ٹپکے اور میں رینوویشن پروجیکٹ بند کر کے سسکیاں لینے لگا-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں