تربوز ظفر جی ۔
تربوزیات --- ظفرجی
کل پیارے دوست نعیم علی کے ہاں افطار تھی- دن کو دو بجے ان کا فون آیا کہ قبلہ افطار میں کیا پسند فرمائیں گے- ہم نے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوئے کہا تربوز-
افطاری سے دس منٹ پہلے وہاں پہنچے تو ٹھنڈا ٹھار تربوز تیار تھا- بولے آج تربوز مارکیٹ 50 روپے پہ کھلی اور تربوز تک پہنچتے پہنچتے 60 روپے کلو پہ بند ہوئ-
میں نے کہا عید سے پہلے پہلے یہ جنت کا میوہ 100 روپے کی نفسیاتی حد عبور کر جائے گا- وجہ اس کی یہ ہے کہ کوئ پوچھنے والا نہیں- میاں صاب کے دور میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہوتی تھیں ، ریٹ لسٹ آویزاں ہوتی تھی ، جمعہ بازار اتوار بازار میں چھاپے پڑتے تھے ، اب تو شوروں کا دور ہے- یہ صرف شورمچا سکتے ہیں- انہیں کیا پتا کہ عوام پہ کیا گزر رہی ہے-
اس پر وہ تھوڑا جزبز ہوئے پھر پھڑک کر بولے بھیا ریڑھیوں پہ تو اتنا رش ہے کہ باری نہیں آ رہی- لوگ سو کلو بھی خریدنے کو تیار بیٹھے ہیں- اور تربوز بھی کتنا اعلی آ رہا ہے- دیکھو تو کالپی مصری کی طرح چمکتا ہے-
بہرحال اپنی لچھے دار باتوں سے اس" مرزا ظاہردار بیگ" نے تربوز کو "چھدامی کے چنے" بنا کر جو پیش کیا تو مجھ "کلیم" کو واقعی مزیدار معلوم ہوا-
نماز مغرب کے بعد بقیہ تربوز کے ہمراہ یوم تکبیر پر بحث ہوئ- فرمانے لگے اس تربوز کی ہی مثال لے لو ، اسے یہاں تک پہنچانے میں کسان آڑھتی مزدور آجر دکاندار سب ملوث ہیں- میاں کی جگہ چوھری شجاعت ہوتا تب بھی دھماکے ہو جاتے - یہ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے-
ہم نے کہا بجا ارشاد- اکیلا تو صرف ورلڈ کپ ہی جیتا جا سکتا ہے- باقی سارے کام ٹیم ورک سے ہوتے ہیں-
نماز عشاء کے بعد امید تھی کہ قورمہ یا بریانی لائیں گے ، لیکن ایک بار پھر تربوز اٹھائے سامنے آ بیٹھے- فرمانے لگے قائداعظم محمد علی جناح رح کی شخصیت میں ایک غالب چیز "کرزمہ" تھا ،لوگ انکی زبان نہیں سمجھتے تھے لیکن تقریر پر جھوم اٹھتے تھے- بھٹو صاحب کی شخصیت بھی کرزمیٹک تھی- اب کپتان کا کزرمہ سر چڑھ کر بول رہا ہے- میں نے کہا ٹھیک فرمایا فاقوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا-
رات کے 12 بج چکے تھے- میں نے جماہی لیتے ہوئے کہا بھائ بھوک لگی ہے- اب جو دال.دلیا پکا ہے لے آ-
فرمانے لگے ، سحری اپنے وقت پہ کرنا مستحب ہے- فی الحال پیٹ پہ تربوز باندھ کر گزارا کرو-
میں خاموشی سےاٹھ کر آگیا- بقیہ رات اسی طرح گزاری جیسے شوروں کا دورِ حکومت گزار رہے ہیں-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں