کھوجہ دار
دو صوفی ---- ظفرجی
ابھی اس رمضان کا ذکر ہے- پہلا روزہ تھا- بعد از افطار پیٹ کچھ گڑبڑا گیا- موشن جو شروع ہوئے تو نصف شب دورہ میاہ کی نذر ہوئ- ھم نے اندر کے مجتہد کو بیدار کیا اور فوراً کل کے کھوجے کی نیّت فرما لی-
ہوٹل میں ایک شریف النفس صوفی صاحب ہمارے روم میٹ تھے- انہیں بتانے کی بھی ہمّت نہ ہوئ کہ حضرت کل ہم کھوجہ فرماویں گے- صوفی صاحب نے سحری میں جگایا تو ھم ایک گلاس پانی پی کر سو گئے- صبح 7 بجے آنکھ کھلی- سوچا بڑی غلطی ہو گئ- اب کھائیں گے کہاں سے؟ اور اگر کچھ مل بھی گیا تو کھاتے ہوئے لگیں گے کیسے ؟؟
خیر اب جو دفتر پہنچے تو 10 بجے ہی بھوک پیاس نے آن گھیرا- روزے کا اپنا صبر ہوتا ہے اور کھوجے کا اپنا جبر- کئ بار دل کیا کہ ٹائلٹ میں جا کے لوٹے سے چند گھونٹ پی لیں لیکن بدنصیبی کی انتہا کہ ٹوائلٹ کی کنڈی خراب تھی- اوپر سے خوف کہ کسی روزے دار کو بھنک پڑ گئ تو خواہ مخواہ عزت خراب ہو گی-
دن گزارا خدا خدا کر کے- 1بجے کسی صد سالہ مریض کی طرح دفتر سے نکلے- حاجی عبدالغفور صاحب گاڑی نکال رہے تھے- انہوں نے ازراہ ترحم لفٹ دی کہ شاید روزہ لگا ہوا ہے- ھم دل ہی دل میں بڑبڑائے کہ ظالماں روزہ نہیں ، کھوجہ لگا ہے-خدا دشمن کو بھی نہ لگائے-
رستے میں ایک فروٹ کی ریہڑی دیکھ کر جی بھر آیا- حاجی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا حضرت یہیں اتار دیجئے- یہیں قریب سے ہوٹل کا رکشہ مل جائے گا-
فروٹ والا ہمیں دیکھتے ہی بچھ بچھ سا گیا- فروٹ سے مکھیاں اڑاتے ہوئے بولا چیکو آئے ہیں صاحب بڑے لاجواب- ھم نظریں چراتے ہوئے بولے رہنے دو- بس ایک تربوز فل سائز ذرا جلدی سے- اس نے جھٹ پونے دو سو کا دانہ تولا اور شاپر کےلئے ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگا- ہم نے کہا رہنے دو- ہم اس گناہ کو کندھے پہ ہی اٹھا لیں گے- پھر کچھ دور جا کر رکشہ کے انتظار میں کھڑے ہوگئے-
پی آئ ڈی سی کے قریب ایک کولڈ بار کھلا تھا- آنکھیں چھلک اٹھیں- فوراً رکشہ رکوایا اور وہیں بیٹھے بیٹھے آواز لگائ ایک وڈی بوتل پیپسی کی ذرا جلدی لانا- اس پر وہاں کھڑے چند گاہک متوجہ ہوئے اور سڑک پہ چلتا ایک فقیر ٹھٹھک کر رکا- ھم ہزیمت مٹانے کو بڑبڑائے آج گرمی نے انتہا کر دی ہے یارو- روزہ جان کو آ گیا ہے-
خدا خدا کر کے ہوٹل پہنچے- سیڑھیاں چڑھتے ہوئے قدم قدم لبوں پہ ایک ہی دعا تھی کہ صوفی غارت گر یا تو انتقال فرما چکے ہوں یا آج انہیں کوئ ایسی مشکل پیش آئے کہ افطار تک ادھر کا رخ نہ کریں- الحمدللہ دعا قبول ہوئ اور کمرہ مقفّل پایا-
بس پھر کیا تھا ، تالہ کھولا ، اندر سے کنڈی لگائ ، کھڑکیوں کے پردے چڑھائے-روشن دان بند کئے- چارپائ پہ آلتی پالتی ماری اور تربوز کھول کے بیٹھ گئے-
اس دوران اچانک ہی دروازہ زور سے بجا- ہم نے کھلے تربوز پہ تولیہ ڈالا اور یااللہ خیر پڑھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے- باہر خلاف توقع صوفی صاحب کھڑے تھے- ہاتھ میں مختلف النسل پھلوں کا جہازی سائز شاپر تھا-
سلام علیک کے بعد بولے ، آپ آج جلدی نہیں آ گئے ؟ ہم نے تاؤ کھا کے کہا اگر برا لگا ہو تو چلے چلتے ہیں- وہ ذرا دیر کو کھسیانے ہوئے پھر کہا نہیں ایسی کوئ بات نہیں- دراصل میں شوگر کا مریض ہوں اور روزے نہیں رکھ رہا- آپ کےلئے خواہ مخواہ زحمت کا باعث بنوں گا-
ہم نے تربوز پر سے تولیہ اٹھا کےدور پھینکا اور کہا آ عندلیب مل کے کریں چِیر پھاڑیاں- سبحان اللہ آج رب تعالی نے ایک کھوجے دار کی سن لی- روزہ دار کی دعا کا کیا مقام ہو گا ؟ اللہ اللہ-
قصّہ کوتاہ ، ھم اور صوفی چارپائ پہ آمنے سامنے بیٹھ گئے- خدا شاھد کبھی افطار نے بھی وہ لطف نہ دیا ہوگا جو اس روز "کھوج پھاڑ " نے دیا- دس منٹ کی شڑپ شڑپ کے بعد فضاء میں ایک سکوت سا طاری ہو گیا- کچھ ہی دیر میں کمرہ دو صوفیوں کے خراٹوں سے گونج رہا تھا-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں