معشوقہ پنجاب۔ ظفر جی

معشوقہء پنجاب--(10)--ظفرجی

ٹھرّی .......حصّہ اوّل

تلونڈی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا-
یہاں سوفیصد مکانات کچّے تھے جن کی چھتیں سرکنڈے اور گھاس پھوس سے بنی ہوئ تھیں- یہاں کے زیادہ تر لوگ بھیڑ بکریاں پال کر گزارا کرتے تھے- 1750ء میں شاندار علی خان یہاں کا مقدم تھا- شاندار کے زیر تسلط تلونڈی ، ٹھینگ موڑ ، سوڈیوال ، اور ججل کے دیہات تھے- وہ یہاں سے لگان وصول کرتا- اور وصولیے سے اپنا حصہ بچا کر باقی مال عامل کو بھجوا دیتا....عامل اپنا حصہ الگ کرتا اور بقایا منصب دار کو سونپ دیتا- منصب دار غریب کی اس پونجی سے مزید رس نکال کر بّچا کُھچا لیموں مغل حکمران محمد شاہ رنگیلا کے قدموں میں جا پھینکتا-
ہمارے آنے سے پہلے تلونڈی میں ایک وارداتِ عشق ہو گئ-
عشق کافر جانے کہاں سے منہ اٹھائے غریبوں کی اس بستی میں آن وارد ہوا...اور ایک غریب چرواہے کے دل میں ڈیرے ڈال دیے-
جہاں صبح شام بھیڑ بکریوں کی "میں میں" سنائ دیتی ہو وہاں عشق کی " تُوں تُوں" کون سُنتا ہے....گاؤں کے سادہ دل لوگ چیچک ، کوڑھ اور عشق تینوں سے خدا کی پناہ مانگا کرتے تھے کہ اس دور میں یہ لاعلاج امراض تھے-
سلیم چرواہا پہلی ہی نظر میں" ٹھرّی" کے عشق میں گرفتار ہوا- ٹھری گامو کُمہار کی اکلوتی بیٹی تھی-
اس دن برکھا خوب برسی اور سبزے نے نیا پیرہن پہنا- فضاء دھریک کے پھولوں اور سوندی مٹّی کی خوشبو سے مہک رہی تھی -آسمان پر قوس قزح نمودار ہو چکی تھی- اس عاشقانہ موسم میں سلیم گھاٹ پر بکریوں کو پانی پلا رہا تھا....اور ٹھری وہاں بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی-
دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے رہے-
اس دور میں عشق کے بھی کچھ قاعدے ضابطے اور اصول ہوا کرتے تھے- عشق نے ابھی ٹھّرک کا مکروہ لباس نہیں پہنا تھا- نہ ہی عاشق ہوس پرست ہوا کرتے تھے-  عاشق اور معشوق آپس میں بِالواسطہ بہت کم بات چیت کرتے- بس نظریں ملتیں ، دل دھڑکتے ، مسکراہٹ اور شرماہٹ کا مقابلہ ہوتا....اور نتیجتاً عشق کا جن آدم بو آدم بو کرتا بوتل سے باہر آن نکلتا-
عاشق زندہ رہتا تو گلیوں میں پڑے تنکوں سے بھی ہلکا ہوتا- مرجاتا تو عظمت کا پہاڑ بن جاتا-
ناکام عشق دنیا کی نظر میں کامیاب تصوّر کیا جاتا تھا- شاعر ایسے عاشقوں کو سر پر اٹھالیتے....نگر نگر ان کے قصیدے گاتے- درباری شعراء سچّے عاشقوں کے قصّے بادشاہوں کو سنا کر نقد انعام وصولتے- امیر کا عشق اسے بھکاری بنا دیتا....اور غریب کا عشق اسے زیر زمین پہنچا دیتا....سچّا عاشق ترکے میں شاعروں اور مغنیوں کےلئے پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری چھوڑ کر مرتا ....زندہ رہتا تو اپنی ذات کی نفی کرکے عشق حقیقی کا مسافر بن جاتا-
زندہ عاشق یا تو کان چھدوا کر جوگی بن جاتے یا صوفی بن کر عشق حقیقی کی سیڑھیاں چڑھنے لگتے-
سلیم گھاٹ سے پلٹا تو اس کی دنیا رنگین ہو چکی تھی- گھاٹ سے لےکر گھر تک وہ خود کو ایسا بادشاہ تصوّر کرتا آیا جس کے آگے ہرنوں کا غول بھاگ رہا ہو- اسے آک کا پودا گلاب اور سرکنڈے کا پودا موتیا نظر آ رہا تھا- گھر آکر سب سے پہلے اس نے بالٹی بھر پانی میں اپنی شکل دیکھی-
اب وہ روز گھاٹ پر جاتا لیکن ٹھرّی کا دیدار صرف جمعرات کو ہی نصیب ہوسکتا تھا- بھیڑ بکریاں تو سدا کی پیاسی ہوتی ہیں لیکن کپڑے تو روز روز نہیں دھلتے-
ایک دن درد عشق کچھ زیادہ ہی بڑھا تو وہ ہمت کرکے گامو کمہار کے دروازے پر جا کھڑا ہوا- گھر میں ٹھرّی اکیلی تھی-
عشق نے باہر سے آواز دی " گھر وچ کائ ہے کہ کوئ ناں ؟؟"
پردے سے حُسن نے سوال کیا  " کہڑا ایں ؟؟"
عِشق نے جواب دیا " سلیم ....."
حسن نے پوچھا " کہڑا سلیم ؟؟ "
عشق بولا " سلیم ...........پھتّو دا پُتّر"
اب حسن پر شرمانا واجب تھا....سو وہ خوب شرمایا- دروازے کی اوٹ سے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا گیا..." مریں چھیتی دس ...کی چاہی دا ای ؟ "
عشق نے اپنا مدعا بتایا- حسن نے حامی بھرلی- چنانچہ واپسی پر سلیم کے ہاتھ میں ایک سٹینڈرڈ سائز کا کورا گھڑا تھا- محبّت کی پہلی نشانی-
کچھ دن تو سلیم گھڑے پر دوہڑے ماہیے گا کر عشق کی آگ ٹھنڈی کرتا رہا....لیکن الاؤ تھا کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا اور جلانے کو سوائے دل کے اور کچھ بھی نہ تھا-
ایک دن اس کے ابّے پھتّو نے اسے گھڑے سمیت رنگے ہاتھوں پکڑ لیا-
"جولاہے دا پُتّر ہوکے مراثیاں آلے کم....کجھ شرم کر حیاء کر" پھتّو نے گھڑا اس کے ہاتھ سے لیکر دور پھینکا تو وہ پھڑاک کر کے ٹوٹا-
سلیم نے صاف صاف ابّے کو اپنے عشق سے آگاہ کر دیا- غریب پھتّو کے اوسان خطا ہو گئے-
اس دور میں جوتے صرف امراء پہنتے تھے چنانچہ غرباء بچّوں کی پٹائ کےلئے توت کی سوٹی استعمال کرتے تھے-
جی بھر کے سوٹیاں کھانے کے بعد عشق نے موت کو گلے لگانےکی دھمکی دیدی- عاشق کے پاس اس دور میں یہی آخری ہتھیار ہوتا تھا.....موت کی دھمکی-
نوراں اور پَھتُّو اگلے ہی دن بیٹے کی خوشی مانگنے گامو کُبھار کے پاس جا پہنچے- گامُو بیچارہ پہلے ہی بیٹی کے بوجھ تلے کراہ رہا تھا- بیس بکریوں اور پندرہ بھیڑوں کے اکلوتے وارث کا رشتہ آیا تو اس کے مردہ جسم میں جان سی دوڑ گئ-
اس نے مہمانوں کو ست بسم اللہ کہا ، ستو کا شربت پلایا اور اگلے چاند کی ست تاریخ شادی کےلئے مقرر کر دی-
سلیم اس کے بعد کبھی گھاٹ کی طرف نہ گیا- وہ وصال کے لطف سے زیادہ ہجر کے درد میں خوش تھا کہ مردانگی کا رعب و دبدبہ قائم رہے- ٹھری اب اس کے گھڑے کی مچھلی تھی- چاند کو اپنے سُونے آنگن میں اتارنے کےلئے اسے اگلے چاند کا برابر انتظار تھا-
ٹھرّی برابر ہر جمعراتے گھاٹ پر کپڑے دھوتی رہی- وہ بھی اگلے چاند کے انتظار میں روز اک سورج غروب کرتی تھی-
اگلے چاند میں ابھی کئ سورج باقی تھے کہ اماوس کی گہری رات چھاگئ-
ہوا یوں کہ مقدم کا ایک ہرکارا نصیب خان کپاس کی چنائ دیکھنے تلونڈی آنکلا- واپسی پر وہ گھاٹ سے گھوڑی کو پانی پلانے رکّا- اس نے آنکھ بھر کر ٹھرّی کو دیکھا اور ہزار جان سے فدا ہوگیا- ٹھرّی اپنے کام میں مگن تھی- نصیب خان نے صرف اتنا ہی پوچھا " او کاکی...تیرے باپو کا کیا نام ہے.. ؟؟"
ٹھری اس اچانک افتاد سے گھبرا اٹھی اور پھڑپھڑاتے لبوں سے بولی..." گلام....گامو......گامو کُبھار"
نصیب گھوڑی کو ایڑھ لگاتا لوٹ گیا- اس بار وہ وصولیے کے ساتھ ساتھ  ایک عدد ٹھرّی بھی وصولنے کا ارادہ کرچکا تھا-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری