سفر ظفر جی
وسیلہء ظفر --- ظفرجی
کل سے یقیناً میرے دائیں کندھے والا فرشتہ بہت مصروف رہا ہو گا- وجہ اس کی یہ ہے کہ میں اس کی پیاری مخلوق کے ساتھ ہوں-
اسٹیشن کے لکڑیلے بنچ پہ ہم ایک دوسرے میں کھُب کے بیٹھے تھے- گاڑی اتنی لیٹ تھی کہ ٹریکر بھی اسے کھوجنے میں ناکام ٹھہرے- ہمارے ساتھ بیٹھا ایک مزدور صورت لڑکا کسمسایا اور بڑی لجاجت سے بولا چچا پانی کہاں سے ملے گا ؟
ہم چچا کہنے کا گناہ اسے معاف کرتے ہوئے اٹھے- سخی ویڈنگ کنٹریکٹر سے ایکیوفینا کی بوتل اور ڈسپوزیبل گلاس لا کر اسے پیش کیا- اس نے حیرت او استنجاب سے ہمیں دیکھا اور غٹاغٹ پی گیا- الحمدللہ ایک گھونٹ کے بدلے ہزاروں نیکیاں-
تعارف ہوا- بڑی خیر والا لڑکا تھا-رنگ و روغن کا کام جانتا تھا- رحیم یار خان کا تھا- پیدا ہوا تو ماں باپ میں طلاق ہو گئ- 15 سال کا ہوا تو پیٹ کراچی لے آیا- ٹھیکیداروں کی منافقت اور ڈپٹ سے عاجز تھا- اس کا جی بہلانے کو گفتگو کی- اس کے فن کو سراھا- کئ نادر معلومات بھی ملیں مثلاً نیلسن ، گوبیز اور جوتن بہترین پینٹ ہیں- وال گرافی اور ٹیکسچرنگ پر بھی گفتگو ہوئ- ھم عنقریب اپنے گھر کو رنگ کرانے والے ہیں-
سوا دس والی گاڑی ساڑھے گیارہ بجے پہنچی- اسٹیشن پہ محشر بپا ہو گیا- ہر کوئ پہلے گھسنے کی جدوجہد میں تھا- اس موقع پہ صبر سے کام لیکر نیکی کمائ- سب سے آخر میں سوار ہوئے اور گھسٹ گھسٹ کر سیٹ تک پہنچے-
سیٹ سے "بے سیٹوں" کو اٹھا کر بلاشرکت مالک بننے کا اپنا نشہ ہے- لیکن ھم نے جس قدر ہو سکا یتامی و مساکین کو جگہ دی- کیا ہوا کہ رات اکڑوں بیٹھ کے گزارنا پڑی- کئ بار نفس پلیت نے کہا بھی کہ ان بے سیٹوں کو بُتھا کر نیچے پھینکو- برتھ کھول کے سو جاؤ لیکن ہر بار کہا نہیں- یہ رب کی مخلوق ہے- اشرف المخلوقات- وہ روز ہمیں چارپائ پہ سلاتا ہے- ایک رات اوروں کےلئے بیٹھ گئے تو کیا ہوا-
کئ مسافر آپس میں لڑے بھڑے- ہر بار اٹھ کر چھڑایا- یارو کیا کرتے ہو ؟ کبھی اول درجے والوں کو بھی لڑتے دیکھا ہے ؟ کیسے مل بانٹ کے کھاتے ہیں ؟ اسی لئے تو اوًل درجے میں بیٹھے ہیں- جس روز تھرڈ ورلڈ میں اتفاق ہو گیا ، تھرڈ کلاس ڈبہ بھی ختم ہو جائے گا-
وعظ و نصیحت رات بھر جاری رہا- سحری کے وقت کھوجے کی اہمیت پر روشنی ڈالی- ایک مولوی جان کا دشمن ہو گیا- بولا ایہہ کتھّے لکھیا ؟ بڑے پیار سے سمجھایا کہ بابا رب سائیں ہمارے لئے مشکل نہیں آسانی چاھتا ہے- کھوجہء مسافری اسی کی لائ ہوئ ایمنسٹی اسکیم ہے- اس سے فائدہ اٹھاؤ- زمانہء امن میں لوٹا دیں گے ہم کہاں بھاگے جا رہے ہیں-
میں صبح کے معاملات کا بڑا عادی ہوں- آنکھ کھلی تو دستی بیگ غائب تھا- ذرا دیر کو پریشانی ہوئ پھر دیکھا کہ سامنے کوئ مزدور تکیہ بنائے لیٹا ہے- بڑے اخلاق اور مروت سے کہا بھائ اگر ناراض نہ ہوں تو صابن اور ٹوتھ پیسٹ نکال لوں ؟
بوگی سرکاری ہسپتال کے برامدے کا منظر پیش کر رہی تھی- مرد عورتیں بچے بُڈھے سب ایک دوسرے میں پیوست تھے- چائے جوس برگر بریانی والے انہیں لتاڑ لتاڑ کے عاجز آچکے تھے- اوپر سے ٹرین کی تپتی چھت- یعنی وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ-
حمام جانا سوکوس کا سفر بن گیا- تکلیف معاف ، تکلیف معاف- یہاں مطاف کے قواعد پر عمل کیا کہ کوئ کچلہ نہ جائے- بہتوں نے کہا حاجی صاب وہاں پانی نہیں ہے- حمام پہنچے تو معلوم پڑا کہ سچ کہتے تھے- اس سے پہلے کہ نامراد پلٹتے پیچھے سے آواز آئ:
" ٹھنڈی بوتل اے"-
چالیس کی بوتل خرید کی اور حمام میں گھس گئے- ٹھنڈے ٹھار منرل واٹر سے غسل کیا- سبحان اللہ العظیم- کیڑے کو پتھر میں رزق دینے والا ریل کے حمام میں منرل واٹر بھی دے سکتا ہے- فریش ہو کر باہر نکلے- واپسی پہ پھر وہی تکلیف معاف تکلیف معاف- اور ہر مسافر کا سوال کہ پانی آ رہا ہے چچا ؟؟
مثنوی و معنوی لحاظ سے ھم آج بھی 1860ء میں جی رہے ہیں- فرق یہ ہے کہ اس زمانے کی ٹرین میں تھرڈ کلاسیوں کےلئے فرش پہ گھاس بچھتی تھی آج وہ سخت فرش پہ لیٹے ہیں- ستر سال سے ہم سانپ سیڑھی کا کھیل کھیل رہے ہیں- ریل کےلئے گزشتہ دور سیڑھی کا تھا تو آج وہ زمانہ ڈنگ ٹپاؤ سے گزر رہی ہے-
اب اس بے تکے اوھام کا ازالہ کہ صاحب آپ تو اپنے تائیں بڑے رئیس بنے پھرتے ہو- تھرڈ کلاس میں سفر کیوں؟ تو نیکوکارو اگر فرسٹ کلاس میں بیٹھتا تو اتنی نیکیاں کما سکتا تھا ؟ کھوجے کا لطف اٹھا سکتا تھا ؟ ایسا کلاسک مضمون لکھ سکتا تھا ؟ نہیں ناں ؟ اسی سفر کو تو وسیلہء ظفر کہا گیا ہے-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں