فوتگی کھانا
جمعراتا --- ظفرجی
ہم باپ بیٹا موٹر سائیکل پہ 2 چک گئے- وہاں بڑی فوتگی ہوئ تھی- بابا جی جانتے تھے کہ میں جمعراتے کا کھانا بڑے شوق سے کھاتا ہوں- دسترخوان پہ بیٹھے تو وہ وگاریوں کو بلا بلا کر کہ رہے تھے کہ ایس منڈے دی پلیٹ وچ بوہتا سالن پاؤ ، اے قطر چوں آیا اے- اساں تے نت مرنے بھگتانے-
ہرے بھرے کھیتوں سےگزرتے جب ھم واپس ہو رہے تو انہوں نے کہا اب علاقے میں کوئ بھی فوتگی ہوئی تو آپ کو ہی بھیجوں گا- ہمارا کیا ہے ، ہم تو آئے روز ہی کھاتے ہیں- میں نے ہنستے ہوئے کہا اندازاً کتنی فوتگیاں ہونگی ؟ بولے فکر نہ کر ، تیری چھٹی اچھی گزر جائے گی-
اتفاق سے اگلے ہی روز اپنے گاؤں میں فوتگی ہو گئ- بابا جی کا پیغام آیا کہ فوراً پہنچو- یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا- میں نے کہا بابا بس کریں میں جمعراتے کا اتنا بھی شوقین نہیں ہوں- بولے جا جا نخرے نہ کر- فاتحہ پڑھ آنا- اور کھانا بھی کھا آنا-
سردیاں تھیں- آس پاس کے گاؤں میں فوتگیوں پہ فوتگیاں ہونے لگیں- بابا ہر بار مجھے ہی بھگاتے- مجھ میں انکار کا یارا نہ تھا لیکن سچی بات یہ تھی کہ میں ایک جیسے مرغن کھانوں سے بیزار ہوتا گیا اور بنی اسرائیل کی طرح تھوم ککڑی پیاز کی آرزو کرنے لگا-
بالاخر ایک روز میں نے اوکاڑے کےلئے سامان باندھ ہی لیا-
بابا جی کو خبر ہوئ تو بولے کہاں جاتے ہو- یہی تو موسم ہے- کئ بڈھوں کی ٹکٹ کٹنے والی ہے- رک جاؤ کچھ جمعراتے کھاتے جاؤ- میں نے کہا بس بابا اب پیٹ کو یارا نہیں- اوکاڑہ جا کر پورا ہفتہ دال کھاؤں گا- کہنے لگے بس ایک رات اور رک جاؤ- شاید کوئ اچھا جمعراتا مل جائے-
بڑے مزے کی رات تھی- 11 بجے تک ہم خوش گپیوں میں مگن رہے- اس دوران مجھے بھوک نے ستایا تو ملحقہ گھر سے پراٹھوں کا بلاوہ آ گیا- واپس آیا تو حالات بدل چکے تھے- بابا جی کو دمّہ کا اٹیک ہواتھا- پرانے مریض تھے- ھم نے نوبیلائزر لگایا- انہیلر دیا- بہتیرے جتن کئے مگر افاقہ نہ ہوا- مجھے یقین ہو گیا کہ بابا جی کس جمعراتے کی بات کر رہے تھے-
انا للہ و انا الیہ راجعون
بابا جی مدفون ہوئے تو دیگوں کی گڑگڑاھٹ میرے سروں پہ ہتھوڑے برسانے لگی- جی چاہتا نائ سمیت خوان اٹھا کر گھر سے باہر پھینکوں - مگر یہ ناممکن تھا- جن کے ہاں کئ سالوں سے جمعراتا کھاتے آ رہے تھے وہ سب آن دھمکے- بال بچوں سمیت- دور دور سے برادریاں آئیں- تیجا ، جمعراتا ، چالیسواں- اپنی تو واٹ لگ گئ-
اس کے بعد جمعراتے کا کھانا جیسے مجھ پہ حرام ہوگیا- کھانا تو کجا دھراڑیوں اور قصوری میتھی والے اس شوربے سے بھی نفرت ہو گئ جو اس موقع پہ پکایا جاتا ہے اور جو کبھی میری مرغوب غذا تھی-
ھم بھی کتنے سادہ ہیں- دوسروں کے حلوے گوشت دھراڑیاں مانجھتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ہم پہ بھی کبھی جمعراتا وارد ہو سکتا ہے- حالانکہ یہ اٹل دن ہر ذی نفس کو سزاوار ہے- ہر شخص کو ایک دن جمعراتا کھلانا ہے- ہاں سوائے مولوی کے ، اس نےصرف کھانا ہے-
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں