مراقبہ

پچھلے سال لاہور کینٹ میں رہنے والی ایک عزیزہ کے ہاں جانا ہوا جن کی بھتیجی ایک بڑی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ بھائی حافظ Asim Hassanبھی میرے ہمراہ تھے۔ اس طالبہ سے لسانیات اور ادبیات کے حوالے سے باتیں ہوئیں کہ لسانیات کا ثقافت سے علاقہ کم ہی رہ جاتا ہے جب کہ ادبیات میں بے حد رچاؤ اور رساؤ ہے اور اس میں سماجی ضرورت کے موضوعات پر کار آمد بحثیں کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ لسانیات کو صرف ضرورت کی حد تک پڑھنا چاہیے اور ادبیات سے زیادہ مس رکھنا چاہیے۔

دوسری بات تصورِ خدا کے بارے میں تھی جس سے آج کا ذہن سامنے آیا کہ پڑھے لکھے لوگ اس خدا کے بارے میں کیا اور کیسا تصور رکھتے ہیں جو انسان کے انسان پر بدترین مظالم دیکھتا ہے اور صرف دیکھتا رہتا ہے۔ اس طویل گفتگو میں جو کارل مارکس اور چارلس ڈارون کے نظریات اور مغرب میں صنعتی انقلاب کے بعد والے تصورِ خدا سے چلتی چلتی آج مذہب کے نام پر مسلمانوں کے مسلمانوں کے ہاتھوں مرتا دیکھنے (اور کچھ نہ کرنے) والے خدا اور بنتِ حوا پر یلغار کرنے والے درندوں سے اعراض نہ کرنے والے خدا کے وجود اور اس کی قدرت و طاقت کے بارے میں کھلی کھلی باتوں تک آئی، کئی کام کی باتیں ہوئیں۔ شیطان کے اینٹی گاڈ ہونے کے تصور کا ذکر بھی ہوا۔

ہم نے اس طالبہ سے عرض کیا کہ انسان کو تنہائی میں پوری توجہ سے اپنے مقاصد پر غور کرنا چاہیے یا نہیں، یا بالفاظِ دیگر انسانی زندگی میں مراقبہ (seclusion) کی کیا اہمیت ہے؟ جواب ملا کہ اس سے انسان کے اندر اپنی قوتِ فکر کو مجتمع کرنے میں مدد ملتی ہے جس سے خیالات میں پختگی آتی ہے۔ پوچھا کہ دن میں کتنی مرتبہ یہ مراقبہ کرنا چاہیے، جس کا جواب ملا کہ کم سے کم دو تین مرتبہ۔ اس پر عرض کیا کہ فکری انتشار کا زیادہ شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو یہ مراقبہ نہیں کرتے۔ اللہ نے انسان کو بنایا ہے اور اسے ذہنی یکسوئی کے لیے نماز کا عطیہ دیا ہے۔ فوراً سوال ہوا کہ ہم لوگ تو اس بارے میں بھی شک رکھتے ہیں کہ کوئی اللہ ہے بھی یا نہیں، کیونکہ اگر اللہ ہوتا اور اس کی کوئی قوت طاقت ہوتی تو وہ مصر اور شام میں درندگیاں کرنے والوں اور نہتی عورت کا سر اینٹوں سے کچل دینے والوں کا کچھ تو کرتا۔ اس پر اس طالبہ سے عرض کیا کہ ایک لمحے کو فرض کیے لیتے ہیں کہ اللہ موجود نہیں ہے اور کائنات کا نظام الل ٹپ چل رہا ہے، تب بھی مراقبہ کی ضرورت تو ہر سلیم الفطرت آدمی کو ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اثبات میں پاکر یہ بات کی کہ جب انسان کسی مرکزی محورِ سوچ کے بغیر مراقبہ کرے اور ایک ہی وقت میں کئی انسان بغیر کسی مرکزی محور کے بغیر الگ الگ مراقبہ کر رہے ہوں تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ جواب ملا کہ ہر انسان اپنی اپنی سوچ پر پختہ ہوتا جائے گا۔ اس نکتے پر عرض کیا کہ جب یوں بہت سے لوگ اپنی اپنی سوچ پر پختہ ہوجائیں گے تو کیا اس سے عظیم تر انتشار کی شکل نہیں بن جائے گی؟ اس کا جواب بہر حال ہاں میں تھا۔ اس پر عرض کیا کہ اس کا حل یہ ہے کہ بہت سارے لوگ مل کر ایک ہی بات کو سوچیں یعنی سوچ کا رخ ایک ہی رکھیں۔ اور ہم مسلمانوں پر اللہ کا کرم ہے کہ ہمیں دن میں کئی بار اجتماعی مراقبے کی کیفیت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہم مسلمانوں کی خیر اسی میں ہے کہ ہم اجتماعی نماز کی پابندی کریں۔

اس پر وہ طالبہ کہنے لگی کہ میں تو کبھی کبھی اپنی نماز پڑھ لیتی ہوں صرف اس نیت سے کہ اچھی ایکسرسائز ہوجاتی ہے، لیکن آپ نے یہ جو مراقبے والی بات بتائی ہے یہ میرے دل کو لگی ہے، اس لیے سوچ رہی ہوں کہ دو تین وقت نماز کے نام پر ٹکریں مارنے کی بجائے نماز میں ذرا مراقبہ کرلیا کروں۔ عرض کیا کہ تم اپنی خالہ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوجایا کرو۔ اکیلا آدمی کوئی نیکی نہیں کرسکتا کیونکہ اینٹی گاڈ اسے اچک لیتا ہے۔ اس پر ہماری ڈیل ہوگئی۔

اسے کچھ اور الم غلم انگریزی کتب پڑھنے کو بتایا اور کسی چیز کے مطالعے سے نہیں روکا اور عرض کیا کہ بقیہ سوالات پر پھر کسی روز بات کریں گے۔ مجھے اللہ سے قوی امید کے کہ جس انسان کا سر اس کے سامنے جھکتا ہے وہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔

یہی بات ابھی ابھی Qari Hanif Dar کے ایک کومنٹ میں پڑھی ہے جس میں انھوں نے اپنے بھتیجے سے کہا تھا کہ تم سب بھائی مل کر اپنے تایا کو نماز میں مسجد میں لے جایا کرو۔ ان کے مریض کا مرض وہ نہیں تھا جو اس طالبہ کا تھا لیکن علاج نماز ہی بتایا گیا، اور نماز بھی باجماعت۔ بے شک نماز میں دنیا اور آخرت کی کامیابی چھپی ہوئی ہے۔ میں نے بھی یہی کوشش کی کہ اس بندیِ خدا کو جماعت کی صورت میں اللہ کے سامنے کھڑا کردوں۔ اللہ توفیق عطا فرمائے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری