عمران لیگ
وزیرِ اعظم اور کیا کہتے ۔۔۔ ؟
اپُوزیشن جماعتوں کے حمایتی کل سے سونامی کی امریکہ میں نُمائش کے دوران ہمارے خان صاحب کی جانِب سے کی گئی تقریر پر شدید تنقید جاری رکھے ہُوئے ہیں، انکا کہنا ہے وزیرِاعظم نے کنٹینر تو چھوڑ دیا لیکن کنٹینر والی تقریر سینے سے لگا رکھی ہے جو وزیرِاعظم کی بجائے اپُوزیشن لیڈر کی تقریر ہے۔ بیشتر افراد کل سے اس بات پر تنقید کر رہے ہیں کہ خان صاحب نے امریکی سونامی میں بھی اپُوزیشن کو رگڑنے کا سلسلہ جاری کیوں رکھا۔
یہ سب لوگ ایک سادہ سی بات کا جواب دیں;
اگر وزیرِاعظم وہاں حسبِ معمول اپُوزیشن پر تنقید کی ڈُگڈگی نہ بجاتے تو کیا یہ بتاتے کہ میں ڈالر کی قیمت ایک روپے بڑھنے پر گزشتہ حکُومتوں کے لتّے لیا کرتا تھا، جلسوں میں پروجیکٹرز لگا کر اکنامِکس کے پروفیسرز کی طرح لوگوں کو گرافس اور ڈایاگرامز کے ذریعے اسکے نقصانات بتایا کرتا تھا لیکن افسوس کہ میں اپنی حکُومت میں ڈالر کو اکٹھے تیس روپے اوپر لے گیا جس سے روپوں میں قومی قرض بیٹھے بٹھائے ہزاروں ارب بڑھ گیا مجھے معاف کر دیجیے؟
اگر وزیرِاعظم وہاں حسبِ معمول اپُوزیشن پر تنقید کی ڈُگڈگی نہ بجاتے تو کیا یہ بتاتے کہ میں بائیس سال قوم کو خواب دکھاتا رہا کہ اگر آپ میرے جیسا وزیرِاعظم بنا لیں تو یہ سوچیے گا بھی مت کہ آپکا وزیرِاعظم مُلکوں مُلکوں بھیک مانگتا پھرے گا اور آئی ایم ایف جانے پر خُودکشی کو ترجیح دے گا, آپ نے مجھے سچا سمجھا تھا, لہٰذا مجھے معاف کر دیجیے کیونکہ میں سات ملکوں سے بھیک بھی لے چکا آئی ایف سے قرض بھی اور خودکشی بھی نہیں کر پایا میں آپ سے شرمندہ ہُوں۔
اگر وزیرِاعظم وہاں حسبِ معمول اپُوزیشن پر تنقید کی ڈُگڈگی نہ بجاتے تو کیا یہ بتاتے کہ میں پیٹرول، گیس، بجلی کی قیمت ایک روپے بڑھتی تو میں حکومتوں کا ناطقہ بند کر دیا کرتا تھا لیکن حکومت ملنے کے بعد ایک سال میں ہی میں ان کی قیمتوں میں تیس سے ستاسی فیصد تک اضافہ کر بیٹھا ہُوں اس کوتاہی پر مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وزیرِاعظم یہ کہتے کہ میں نے کسی کی ڈکٹیشن نہ لینے کا بارہا وعدہ ضرور کیا تھا لیکن آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر ضروریاتِ زندگی پر ٹیکسز کی بھرمار سے انکی غریب عوام تک رسائی مشکل تر کرنے کے گُناہ پر مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وہ یہ کہتے کہ میں نے ہمیشہ پُولیس ریفارمز کی بات کی لیکن اسکی طرف پہلا قدم بھی نہ بڑھا پایا اور ریفارمز کے نگران درانی کو بھی ہٹانے پر مجبور ہوا مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وہ یہ کہتے کہ میں کہا کرتا تھا وزیراعظم بنتے ہی امیرغریب سبھی بچوں کے لیے ایک نصابِ تعلیم لازم کر کے جی سی ایس سی نظام بند کر دونگا اس طرف ایک سال میں ایک قدم بھی نہیں بڑھا پایا ہُوں معاف کر دیجیے؟
کیا وہ یہ کہتے کہ میں کہا کرتا تھا کہ عوام ٹیکس نہ دیں تو سمجھ لیں کہ حکومت چور ہے, میں وزیراعظم بنا تو اسی قوم سے ٹیکس لے کر دکھاؤں گا, لیکن پچھلے سال سے بھی کم ٹیکس جمع کر پایا ہُوں معاف کر دیجیے ؟
اگر وزیرِاعظم وہاں حسبِ معمول اپُوزیشن پر تنقید کی ڈُگڈگی نہ بجاتے تو کیا یہ کہتے کہ وزارتِ خزانہ اور سٹیٹ بینک آئی ایم ایف سے درآمد شُدہ اُسکے ملازمین کے حوالے کرنے پر مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وہ یہ کہتے کہ پچھلی حکومت نے پانچ سال میں دس ہزار ارب روپے قرض لیا تھا میں نے گیارہ ماہ میں پانچ ہزار ارب لے لیا مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وہ یہ کہتے کہ آئی ایم ایف سے درآمد شُدہ میرا مشیرِ خزانہ بی بی سی کو بتا چکا ہے کہ ہم اگلے چار سال میں بتیس ارب ڈالز مزید قرض لیں گے جبکہ بائیس سال میں نے قرض کے خلاف ہزاروں لیکچرز دیے مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وہ یہ کہتے کہ کہ اس سال کا خسارہ پاکستان کی تاریخ کے کسی بھی دوسال کے خسارے کے مجموعے سے بھی زیادہ ہو گا مجھے معاف کر دیجیے؟
کیا وہ ہسپتالوں کا بجٹ کم کرنے پر معافی مانگتے؟
کیا وہ ہائیر ایجوکیشن کا بجٹ بیس ارب کم کرنے پر معافی مانگتے؟
کیا وہ مہنگائی کی شرح تین فیصد اوپر لے جانے, ترقی اور گروتھ کی شرح دو فیصد نیچے لانے, انفلیشن بڑھانے اور ان سب کے تناسُب سے بجٹ میں تنخواہ نہ بڑھانے پر معافی مانگتے؟
کیا وہ ایک سال میں دس لاکھ افراد کے بے روزگار ہو جانے اور بڑے پیمانے پر انڈسٹری بند ہو جانے پر معافی مانگتے؟
کیا وہ اس سال وعدے کے مطابق دس لاکھ گھر نہ بنا سکنے پر معافی مانگتے؟
کیا وہ سانحہ بارہ مئی، سانحہ بلدیہ فیکٹری اور بوری بند لاشوں کا کلچرمتعارف کروانے والی اُس ایم کیو ایم کو وزارتیں دینے پر معافی مانگتے جس کے خلاف انہوں نے بائیس سال جدوجہد کی تھی؟
کیا وہ ق لیگ کو شریکِ اقتدار کرنے پر معافی مانگتے جسکی کرپشن کے خلاف وہ ہزاروں لیکچرز دے چکے تھے؟
کیا وہ پچھلی حکومتوں کے مجرم وزیر مشیروں کو کابینہ میں اسی فیصد حصہ دینے پر معافی مانگتے؟
یہ لسٹ بہت ہی لمبی ہے مجھے بس یہ بتائیے کہ جب وزیرِاعظم کے پاس دکھانے کو ایسے ہی سینکڑوں گُناہ اور وعدہ خلافیوں کے علاوہ کوئی قابلِ تعریف عمل تھا ہی نہیں جو انہوں نے ایک سال میں کیا ہو تو وہ امریکہ بھر سے جمع ہُوئے شوکت خانم کے ڈونرز، اپنے کرکٹ فینز اور پی ٹی آئی کے اوورسیز کارکنوں کو کیا بتا کر خوش کرتے؟
بخُدا اُنکے پاس دکھانے اور بتانے کو بس دو ہی چیزیں تھی۔
دکھانے کو اپنی مردانہ وجاہت,
اور بتانے کو اپُوزیشن کے لیے طعنے اور دھمکیاں۔
خان صاحب نے اپنے پاس موجود آپشنز کی حد میں رہتے ہُوئے وہی کیا جو اُنکے لیے ممکن تھا۔
وہ مہاتیر محمد تو تھے نہیں کہ معافی مانگ کر لوگوں کے دلوں میں امر ہو جاتے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد بھی بہت سے ناقابل عمل وعدے کر کے حکومت میں آئے تھے لیکن جب حکومت میں آگئے اور ملک کو درپیش حقیقی مسائل کا علم ہوا تو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر انہوں نے عوام کے سامنے سچ بولا کہ ہم نے جب اپنا منشور تشکیل دیا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم جیت سکتے ہیں لہذا ہمارا منشور ایک ایسی اپوزیشن کا ناقابل عمل منشور تھا جسے حکومت میں نہیں آنا تھا لیکن اب جبکہ ہم حکومت میں ہیں میں آپکو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے منشور کے الفاظ پر عمل نہیں کر پائیں گے البتہ آپکو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہمارا جزبہ وہی رہے گا جو یہ منشور بناتے وقت تھا۔
بس اتنا سا سچ بولنے اور معذرت کرنے پر عوام نے ڈاکٹر مہاتیر محمد کو معاف کر دیا۔ سچ میں اتنی ہی طاقت ہے۔
عمران خان صاحب کو بھی ڈاکٹر مہاتیر محمد کی طرح کھلے دل سے عوام سے معافی مانگ کر سچ اگانے کی شروعات کرنی چاہیے۔ ترجیہات نئے سرے سے طے کرنا ہونگی۔ کاش خان صاحب جان پائیں کہ فوج انہیں انتخابی سپورٹ ہی دے سکتی تھی پبلک سپورٹ تو خود فوج کے پاس نہیں ہوتی ورنہ ہر مارشل لا میں نہ تو حبیب جالب جیسے لوگ پیدا ہوتے نہ انہیں پبلک سپورٹ میسر آتی۔
ابھی بھی وقت ہے کہ عمران خان صاحب فوجی سحر سے باہر نکلیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر ملک کی بنیاد اور ترجیہات بدلیں۔
اسکا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ اب ہمیں سیکورٹی سٹیٹ سے ویلفیئر سٹیٹ بننا ہوگا۔ ہمیں سوا چھے لاکھ افراد پر مشتمل مہنگی فوج کی بجائے صرف سوا لاکھ افراد پر مشتمل مؤثر فوج چاہیے کیونکہ اب ہم ایٹمی ہتھیار رکھنے والا ناقابل تسخیر ملک ہیں۔
اب ہمیں روائتی ہتھیاروں کی بجائے ڈسپینسریز تعلیم اور روزگار پر قومی وسائل خرچ کرنے ہونگے۔ خدا کی پناہ ایک آگسٹا بی نائنٹی آبدوز اتنی مہنگی ہے کہ اسکی قیمت جتنے پیسوں سے پنجاب کی ہر بیس ہزار کی آبادی کو ایک ڈسپنسری میسر آسکتی ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ہر پانچواں پاکستانی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے۔ اس سے پہلے کہ پاکستانیوں کی آخری امید بھی ٹوٹ جائے ہمیں سٹیٹ کا رخ بدلنا ہوگا۔ عمران خان صاحب سے گزارش ہے جیو نیوز کی اینی میٹڈ فلم ڈونکی کنگ ایک بار ضرور دیکھیں اس کارٹون مووی میں وہ پاکستان کے مسائل کا ابتدائی حل دیکھ سکتے ہیں۔۔محمد رضوان خالد چوھدری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں