عشق ظفر جی

کم بخت عشق ---- ظفرجی

جس قدر سودا دکاندار ادھار والے کو دیتا ہے....تھوڑا تھوڑا-
یا ....
جس طرع سیلاب زدگان کو سرکار چاول دیتی ہے- تھوڑے تھوڑے-
یا ....
جس قدر ہمارے دیس میں بجلی آتی ہے ..... تھوڑی تھوڑی-
یا ...
جس قدر ٹیوشن والا استاد روزانہ سبق دیتا ہے ..... تھوڑا تھوڑا-
بس ...
اس قدر ہی اس عاشق نامراد کو پیار مل رہا ہے تھوڑا تھوڑا-
قسطوں میں ..... ھومیو پیتھک دوا کے قطروں کی طرع ..... صبح شام ..... !!!
واہ رے ظالم محبوب تیرے کو اللہ پوچھے.....!!!!!!
پہلے خواب دکھائے ..... پھر خواب توڑے ....... وعدے کئے .......پھر وعدے توڑے .... دل لیا ، دل توڑا-

محبت تو خیر پرانی تھی کہ ہم بچپن سے ہی چاہتے تھے اس ظالم  کو.... لیکن عشق پچھلے دو سال سے شروع ہوا ... ایسے ہی بیٹھے بٹھائے پیٹ میں مروڑ ہوا- ایک حاذق طبیب کو دکھایا - اس نے پہلے تو ریح واء کا اندیشہ ظاہر کیا.... اگلے روز کولنج بتایا .... تیسرے  دن بم پھوڑا کہ نامعقول تجھے عشق ہو گیا ہے- نکل مطب سے- مجھے بھی بیمار کرے گا...... کہ آج کل یہ وبائ مرض ہے !!!

یوں ہم نے پہلے  طبیب سے "فراغت"  پائ  پھر عقل سے فارغ ہوئے اور اب گھر سے فارغ ہوئے پھرتے ہیں-  ہم نے ہر وہ کام بند کر دیا جو دنیا کرتی ہے اور ہر وہ کام شروع کردیا جو صرف عاشقوں کو ہی روا ہے-

ہر صاحب نصیحت ہمیں گدھا نظر آنے لگا اور ہر پاگل  "انٹیلیکچوئیل"  - ہم نے شہر کے سارے پتھر اکٹھے کئے پھر اپنے جیسے کاٹھ کے الو  !!! ہر ناصح کو تاک تاک کر پتھر مارا-کوتوالی کو کیل والے ڈنڈوں سے دھویا- ظالم سماج نے ہمارے راستے میں  کینٹینرز کھڑے کیے تو ہم نے انہیں خس و خاشاک کی طرع بہا دیا-

راستے  بند  کئے  دیتے  ہو   دیوانوں   کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے

پہلا سال تک تو "محبوب" کے خوشنما وعدوں ، شربت دیدار ، عیسی خیلوی کے نوحوں  اور ڈی جے بٹ کی دھنوں کی نذر ہوا- پھر عید پر وصل کا وعدہ ہوا- کرسی تو نہ ملی ہاں کرسی والے امام کے پیچھے نماز عید پڑھ کر ایمان سے ضرور "فراغت" پائ- پھر شہر شہر خچر کی طرع دوڑایا گیا- بمبئ سے گئ دلی ، دلی سے گئ پونم ، اور پونم سے گئ پٹنا......پھر بھی نہ ملا سجنا- فٹے منہ عاشقاں دا ....!!!!!

پھر اگلی عید کا وعدہ ہوا اور اب اگلے الیکشن کا وعدہ ہے ..... اگر سسر فوت نہ ہو گیا تو شبِ وصل پکی ہی سمجھو-

آپ ہی سوچئے- اگر عشق ایسا ہے تو شبِ وصل کتنی اندھیری ہو گی- خیر عشق کو اندھیروں سے کیا خوف ؟ یہ کم بخت خود بھی تو اندھا ہوتا ہے-

عشق   نے   غالب   نکما   کر   دیا
ورنہ  ہم  بھی  آدمی تھے کام کے

( دو ہزار 13 کے دھرنے کے دنوں میں لکھی گئ)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم