جسم مثالی
"جسم مثالی ” یا Aura
ارتقاءِ حيات
8 سال ago
Nتھامپسن اسپتال (لندن)کے ماہر برقیاتڈاکٹر والٹر جے کلنزکیلشیم کےفاسورنٹ سلفائد پر
شعاعوں کے بارے میں تجربات کر رہے تھےکہ انہیں یہ خیال آیا کہ جسم انسانی سے جوشعاعیں خارج ہوتی ہیں ان کی چھان بین کی جائے ۔
ڈاکٹر والٹر کو صرف یہ علم تھا کہ حرارت کے علاوہ جسم انسانی سے جو انرجی خارج ہوتی ہے اس کا تعلق پائیں سرخ (انفراریڈ)سے ہے۔انہوں نے ایک ایسا فوٹو گرافی پردہ(فلم)تیار کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے جسم انسانی سےنکلنے والے "ہالہ نور”کا مطالعہ کیا جا سکے۔چنانچہ انہوں نے مختلف کیمیاوئی محلولوں سے فلموں کو رنگا مگر ناکامی ہوئی۔انسانی جسم سے نکلنے والی پائیں سرخ شعائیں کسی پردے پر نظر نہ آسکیں۔آخر انہوں نے کولتار کے
کیمیاوی مواد سےکیمیا کو رنگنے کا ایک کیمیاوی مسالا تیار کیا اور شیشے کی ایک سکرین پر پہلے جے لے ٹن اورکول ڈین نامی مرکباتا کا ایک استر تیار کیا۔ اس کے بعد اپنی مشہور اسکرین کو ایجاد کیا،جسے ما بعد النفسیات مین "آسٹرل باڈی” یوگ میں شکما شریر اور اور تصوف میں جسم مثالی کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر والٹر نے اپنی کتاب"ہیومن ایٹماسفیر " میں نہایت تفصیل کے ساتھ انسان کے ہالہ نور پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی جسم سے توانائی کا جو اخراج (تابکاری ،ریڈی ایشن)ہوتا ہے وہ ایک دائرےکی طرح انسانی جسم کے گرد نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر نےاپنے اسکرین پر انسانی ہمزاد کو بھی دیکھا ۔ اسے وہ ایتھرک ڈبل کہتے ہیں۔ ہمزاد ایک شفاف سایہ ہے جو انسان کے ٹھوس جسم سے 1 انچ باہر کی طرف ہوتا ہے۔اس ہمزادی جسم یا ہالے کے اندر ایک اور جسم ہوتا ہے جو پہلے جسم کے مقابلے میں لطیف تر ہے، اسے "جسم مثالی "کہتے ہیں۔پھر اس جسم مثالی کے اندر "روحانی وجود "ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی تحقیقات کا نچو ڑ یہ ہےکہ انسان کے ایتری جسم (ایتھرک ڈبل)کا رنگ بھورا خاکستری ہوتا ہے اور کبھی کبھی اس کا پھیلاؤ 8انچ تک ہو جاتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں