شاعری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو نہیں جانتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے ہونٹوں سے بہتی ہوئی یہ ہنسی
دو جہانوں پہ نافذ نہ ہونے کا باعث
ترے ہاتھ ہیں
جن کو تُو نے ہمیشہ لبوں پر رکھا
مسکراتے ہوئے
تو نہیں جانتی
نیند کی گولیاں کیوں بنائی گئیں
لوگ کیوں رات کو اُٹھ کے روتے ہیں
سوتے نہیں
تُو نے اب تک کوئی شب اگر جاگتے بھی گزاری
تو وہ بار بی نائیٹ تھی
تجھ کو کیسے بتاؤں
کہ تری صدا کے تعاقب میں
میں کیسے دریاؤں صحراؤں اور جنگلوں سے گزرتا ہوا
ایک ایسی جگہ جا گرا تھا
جہاں پیڑکا سوکھنا عام سی بات تھی
جہاں ان چراغوں کو جلنے کی اجرت نہیں مل رہی تھی
جہاں لڑکیوں کے بدن صرف خوشبو بنانے کے کام آتے تھے
مجھ کو معلوم تھا
تیرا ایسے جہاں ایسی دنیا سے کوئی تعلق نہیں
تو نہیں جانتی
کتنی آنکھیں تجھے دیکھتے دیکھتے بجھ گئیں
کتنے کُرتے ترے ہاتھ سے استری ہو کے
جلنے کی خواہش میں کھونٹی سے لٹکے رہے
کتنے لب تیرے ماتھے کو ترسے
کتنی شاہرایں اس شوق میں پھٹ گئی ہیں
کہ تُو ان کے سینے پہ پاؤں دھرے
میں تجھے دھونڈتے ڈھونڈھتے تھک گیا ہوں
اب مجھے تیری موجودگی چاہیے
اپنے ساٹن میں سہمے ہوئے سُرخ پیروں کو اب میرے ہاتھوں پہ رکھ
میں نے چکھنا ہے ان کا نمک
.
تہذیب حافی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں