بونسائی

بونسائی کیسے بنایا جائے؟
15/05/2016 حسنین جمال n/b Views
کل چودہ مئی تھا، دنیا میں بونسائی کا عالمی دن منایا گیا، اسی خوشی میں ایک چھوٹا موٹا سا دیسی بونسائی مل کر بناتے ہیں۔ ایک آری رکھیے، ایک باریک شاخیں کاٹنے والا کٹر، چند تاریں وہ بھی جو مل جائیں، کاپر کی تھوڑی نرم ہوتی ہے، سلور والی مل جائے تو مزے ہی مزے۔ بونسائی کے مخصوص برتنوں کے پیچھے بھاگنے کی بجاۓ فی الحال اپنا پودا گول باسکٹ نما گملے میں لگا لیجیے، کام اچھا نکال جائے گا۔ بونسائی کے برتن بھی آپ کو دو تین سو سے لے کر ہزاروں تک کے نرخ پر اچھی نرسریوں سے مل سکتے ہیں۔ مشورہ یہی ہے کہ ابھی ہاتھ سیدھا کیجیے، عام چھوٹے گملوں سے بھی کام چل جائے گا۔ پودا اچھا بن جائے تو بعد میں ان برتنوں میں ڈال دیجیے۔
بونسائی بنانے کے لیے بہترین موسم فروری کے آخر سے لے کر اپریل کے درمیان تک کا ہے یا پھر جو برسات کا موسم ہوتا ہے وہ بھی سازگار رہتا ہے۔ آئیڈیل پودا وہ ہو گا جو شہر سے باہر کسی اجاڑ نرسری میں کہیں دور دراز گوشے میں، ایک چھوٹے سے گملے میں بے تحاشا بڑھتا ہوا آپ کے انتظار میں عمر گزار رہا ہو گا۔ یا پھر کسی بڑے سے گملے میں زمین سے نکالا گیا کوئی عاجز درخت نما پودا لگا ہو گا جسے مالکان نے نرسری شفٹ کرتے ہوئے پچھلی جگہ سے نکالا ہو گا۔ پودا وہ ڈھونڈنا ہے جس کی بیس (Base) اچھی موٹی ہو یا اردو میں کہیے تو اس کا تنا اچھا چوڑا ہونا چاہئیے۔ عموماً آپ کو بوگن ویلیا، پلکھن، تھائی فائکس، ہبسکس، پتھر چٹ (جی ہاں پتھر جٹ یا انگریزی میں جیڈ پلانٹ کہہ لیجیے، شرط یہ ہے کہ پلا ہوا موٹا تازہ پودا ہو!) یا اور کوئی دیسی پودا مل ہی جاتا ہے، ڈھونڈنا شرط ہے، اجاڑ نرسریوں میں ڈھونڈنا! تو انہیں پتھروں پہ چل کے اگر آپ آ سکے تو پہلی منزل سر ہے۔
پودا ڈھونڈنے کے لیے موسم کی کوئی پروا نہیں۔ آپ شدید گرمی یا شدید سردی میں بھی اپنا مطلوبہ پودا \”شکار\” کرنے نکل سکتے ہیں۔ وقت آپ کا ہے۔ ڈھونڈتے رہئیے، جب پودا مل جائے تو آرام سے لا کر چھاؤں میں رکھ دیجیے اور بہار یا برسات آنے کا انتظار کیجیے۔ اس دوران پودے کو گوبر کی کھاد دی جا سکتی ہے۔ ایک کام کر لیجیے کہ گملا جہاں بھی رکھیے اس کے نیچے کوئی ٹائل یا مٹی کا ٹرے رکھ دیجیے تاکہ پودا اپنی جڑیں زمین میں ڈھونڈنا شروع نہ کرے، ایسا ہو گیا تو بونسائی کا خواب فوت ہو سکتا ہے۔
جب سردیاں رخصت ہو چکی ہوں اور کہر وغیرہ کے دن چلے جائیں اور پودوں میں نئی کونپلوں کے آثار شروع ہوں تو جان لیجیے کہ بونسائی بنانے کا وقت آ گیا ہے۔ اسی طرح جولائی اگست میں جب حبس سے آپ کا سانس بند ہوتا ہو اور برسات کی جھڑی لگ جائے تو بھی سمجھیے ارمانوں بھرا موسم آپ کی دہلیز پر ہے۔ اٹھا لیجیے آری اور کٹر اور نکل پڑئیے محاذ پر۔ پودے کو گملے سے نکالنے کی کوشش مت کیجیے، سیدھی طرح گملا توڑ کر پودا صحیح سلامت نکال لیجیے۔ اس میں ایک لمبی سی جڑ آپ کو نظر آئے گی اور ایک جالا سا ہو گا جڑوں کا جو چھوٹی چھوٹی سے بے تحاشا ہوتی ہیں۔ اب یہ جو لمبی جڑ ہے، اسے Tap Root کہتے ہیں۔ یہ پودے کو سہارا دیتی ہے۔ اسے کھڑا رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑا درخت ٹیپ روٹس کے سہارے کھڑا ہوتا ہے اور آندھی طوفانوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ تو آپ یہ ٹیپ
روٹ کاٹ دیجیے اور چھوٹی جڑوں کا جالا جو ہے، اسے بچا لیجیے۔ ٹیپ روٹ کاٹنے کا مقصد پودے کو اپاہج کرنا نہیں ہے بلکہ چونکہ اسے تمام عمر اب بونسائی بن کر چھوٹے گملے میں رہنا ہے، تو یہ قربانی اس پر فرض ہوئی جاتی ہے۔ بعض پودوں میں ٹیپ روٹ اتنی لمبی نہیں ہو گی جیسے بوگن ویلیا، اور بعض میں ہو گی ہی نہیں جیسے پتھر چٹ کا پودا، تو ان سے حسب ضرورت سلوک کیجیے، مقصود صرف اتنا ہے کہ پودا نسبتاً کم جگہ گھیرے اور آرام سے چھوٹے برتن میں رہے۔
اب ٹیپ روٹ کاٹنے کے بعد آپ کسی برش کی مدد باقی جڑوں پر سے مٹی جھاڑ لیجیے اور بہ غور دیکھ لیجیے کہ کوئی جڑ اتنی باہر نہ رہ جائے کہ پودا چھوٹے گملے میں نہ جا سکے۔ یہ سب کرنے کے بعد آپ پودا نسبتاً چھوٹے گملے میں لگا دیجیے۔ مثلاً پہلے اٹھارہ انچ کے گملے میں پودا تھا تو اب آٹھ انچ میں کر دیجیے یا بارہ میں کر دیجیے۔ جو مٹی آپ اس میں بھریں گے اس میں تھوڑے جلے ہوئے کوئلے اور ٹوٹے ہوئے گملوں کی چھوٹی ٹھیکریاں شامل کر لیجیے۔ اس سے آپ کے پودے کو پانی کی کمی نہیں ہو گی کیوں کہ کوئلہ اور ٹھیکریاں پانی چوس لیتے ہیں اور بعد میں جڑوں کو حسب ضرورت دے سکتے ہیں۔ اسی طرح پانی ٹھہرے گا بھی نہیں کیوں کہ یہی کوئلہ اور گملے کے پسے ہوئے چھوٹے ٹکڑے اس پانی کو آرام سے چوس کر فالتو کا سارا پانی باہر نکل جانے دیں گے۔
دو تین ہفتے اسی حالت میں اپنے پودے کو چھاؤں میں پڑا رہنے دیجیے۔ اگر چل پڑتا ہے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ پرانے سائز کے گملے میں لے جائیے۔ ہاں چل پڑا تو اب اس کی شاخیں کاٹنا ہوں گی۔ یہاں آپ کے پاس اختیار موجود ہے۔ نیٹ پر مختلف بونسائیز کی تصاویر دیکھیے۔ جو شکل پسند آتی ہے، پودا اس حساب سے کاٹیے۔ بوگن ویلیا کی شاخیں مرضی کے مطابق چلانا مشکل ہوتا ہے، تاریں لگا کر بھی مطلوبہ شکل میں لانا نئے آدمی کے لیے مشکل ہے تو اس کی چھتری بنا لیجیے یا اسے قدرتی رخ پر کاٹ لیجیے۔ فائکس کی تمام اقسام کاٹنے کے بعد تاریں لگا کر قابو کی جا سکتی ہیں۔ تاریں بھی ضروری نہیں کہ جاپانیوں کی طرح پوری لپیٹی جائیں، اگر آنکڑا
(ہٌک) بنا کر شاخ کو اس میں پھنسا دیں اور تار نیچے گملے سے باندھ دیں تو بھی کام چلایا جا سکتا ہے، معاملہ آپ کی سہولت پر ہے۔ پتھر چٹ اس معاملے میں بھی شریف پودا ہے۔ اگر آپ کو پندرہ بیس برس پرانا پتھر چٹ مل جاتا ہے تو وہ خداوند برتر کا تحفہ سمجھیے۔ وہ بنا بنایا بونسائی ہوتا ہے بس تراش خراش کی ضرورت ہو گی۔ وہ بہت کم مٹی اور بہت کم پانی کے ساتھ ہر موسم میں چل سکتا ہے، سخت جان بلکہ باقاعدہ ڈھیٹ پودا ہے، اس کے پتے بھی چھوٹے ہوتے ہیں تو کل ملا کر بونسائی کے لیے آئیڈیل ہے۔
واپس شاخوں پر آئیں۔ آپ نے چھانٹی کر دی، کاٹ دیں، ہلکی پھلکی شکل میں آ گیا پودا، اب اسے اگلے چھ ماہ آرام کرنے دیجیے۔ جب آئندہ بہار یا برسات کا موسم ہو، اس میں پودا اس گملے سے نکال کر اپنے مطلوبہ بونسائی پاٹ میں ڈال دیجیے، جڑوں کی ہلکی ہلکی کٹائی کرنا مت بھولیے گا، وہی کٹائی ہر سال چلتی رہے اور شاخوں کو جتنا ممکن ہو سکے شکل دینے کی کوشش کرتے رہیں تو آپ کا اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا ایک دیسی قسم کا بونسائی تیار ہے۔
فقیر بونسائی کا ماہر ہرگز نہیں ہے، اس میدان میں بہت بڑے بڑے علماء ہمارے لاہور اور کراچی میں موجود ہیں۔ کراچی میں باقاعدہ بونسائی سوسائٹی بھی ہے، ان سے رابطہ کیجیے گا تو استادوں کی زیر نگرانی سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے اور مختلف بونسائی نمائشیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
Comments - User is solely responsible for his/her words
حسنین جمال کی دیگر تحریریں
چرس کی تیاری، فضائل اور ڈاکٹری رائے
امام بارگاہ غفران مآب لکھنو کی مجلس کا احوال: ہندو افسر کی زبانی
← میں چور نہیں ہوں (ویسے بعد میں مان جاؤں گا) :ایک لیڈرکتا، محبت اور سود حلال کرنے کا صحیح \”طریکا\” →

حسنین جمال
حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔
husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain
Share This Post:
0
اداریہ
پاک فوج کا معاشی سیمینار: میمو گیٹ اسکینڈل اور ڈان لیکس کے آئینے میں
More
’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟
کالم
سیکس کی خواہش کرنا عورت کے لیے ہی ممنوع کیوں ہے؟
کشمیر کی آزادی، مولانا کا دھرنا اور موجودہ حکومت
آرمی چیف اور کاروباری افراد میں ملاقات کی اندرونی کہانی: رؤف کلاسرا کی زبانی
پراگ کی گلیوں میں ہوا نہیں چلتی، تاریخ سرسراتی ہے
پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کون ہیں؟ بیٹے کے انکشافات
مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا ہدف اور حکمت عملی بتاتے ہیں
سعودی عرب اور ایران میں جنگ کے امکانات
نواز شریف کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟
بیمار اور لاچار خواتین کی کہانی اور ہماری حکومت کے اقدامات
مظاہروں میں چینی دانش کا مظاہرہ
مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ: شاہ محمود کا مشورہ اور حکومت کی بدحواسی
سری لنکن کرکٹ ٹیم کا دورہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ
عراق میں نکاحِ متعہ: ’کتنی بار شادی ہوئی اب صحیح تعداد بھی یاد نہیں‘
نیب، معزز سیٹھ، بدمعاش اساتذہ اور بدقماش سیاستدان
کشمیر کے بجائے افغانستان کو ہمارا کلیدی مسئلہ بنانے کی کوشش
More
بلاگ
مولانا فضل الرحمٰن کی گیارہویں تیاری
کوئی ایسے فرشتے بھی ہیں جو ایسے مردوں پر لعنت بھیجیں؟
عمران خان کے خلاف کھڑا ہوتا ہوا متحدہ مذہبی محاذ
وزیر اعظم عمران خان، پاکستانی انتظامیہ کی کشمیر میں مزید پسپائی
بین الافغان مذاکرات کا بھاری پتھر
آدھے گھنٹے کا خدا – اردو کا شاہکار افسانہ
ریاستِ مدینہ میں نابینا افراد کے ساتھ سلوک
گلگت بلتستان پر کشمیریوں کا بنیادی دعویٰ کیا ہے؟
چائے چین سے چوری کر کے ہندوستان کیسے لائی گئی
محسن داوڑ کی سپینے سپینے (کھری کھری) باتیں
خیبر پختونخواہ کے لڑکیوں کے سکولوں میں برقعے کیوں تقسیم کیے گئے؟
! زلزلہ : اسلام اور سائنس کے آئینے میں
جانور راج: روفے جٹ کی دغا بازی
چونیاں کے بچوں کا قاتل کیسے پکڑا گیا؟
More
کتابیں
متنوع رنگوں کا سیلانی۔ باونی کا بانی
فرینز کافکا کا ناول ’میٹا مارفوسس‘ اور فلسفہ بیگانگی
More
آڈیو ویڈیو کالم
بلاول بھٹو نے حیدر آباد پریس کلب میں کیا کہا؟
جج مسعود ارشد کو دوران سماعت تبدیل کرنے کے بعد احتساب عدالت کے باہر رانا ثناللہ کا ردعمل
پاکستان نے بھارت اور افغانستان میں تجارت کیلئے زمینی راستہ کھول دیا: ڈاکٹر شاہد مسعود کا انکشاف
شوہر کے سامنے منہ بند رکھو، روٹی نہیں بنا سکتیں تو شادی نہ کرو: مسز خان کا ویڈیو وائرل
منتخب تحریریں
نواز شریف کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟
بے ضمیر ڈاکٹر عرف مریض کو دماغی آکسیجن لگانے کی دکانداری؟
کافروں اور غداروں کی رائے صحیح کیوں نکلتی ہے؟
مطالعہ پاکستان میں ہم نے کیا پڑھا؟
ملیحہ لودھی کو ہٹانے کا پس منظر اور منیر اکرم کی ’’گج وَج‘‘
وزیراعظم ایک جیسے کیوں ہوتے ہیں؟
ملیحہ لودھی برطرف، حفیظ اللہ نیازی پابند: ملک بادشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا…
تقریر ہو تو مہاتیر جیسی ورنہ نہ ہو
سندھ کی بیٹی، بہتا ہوا پیشاب اور فسٹیولا کی بیماری
محبت میں بس تھوڑی احتیاط کسی کو کانوں کان پتہ نہ چلے
مرحوم ضیاء الحق نے جنرل اسمبلی میں مذہب کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا
جنرل ضیا کی جعلی تلاوت اور بے نظیر بھٹو کی سادگی
More
فیچرز
شادی شدہ جوڑوں میں طلاق کی تین بڑی وجوہات کیا ہیں؟
کیوبا کے عوام کی رگوں میں دوڑتا رمبا رقص
مقبول ترین
عراق میں نکاحِ متعہ: ’کتنی بار شادی ہوئی اب صحیح تعداد بھی یاد نہیں‘
نواز شریف کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کون ہیں؟ بیٹے کے انکشافات
پاک فوج کا معاشی سیمینار: میمو گیٹ اسکینڈل اور ڈان لیکس کے آئینے میں
آرمی چیف سے 6 گھنٹے ملاقات کے بعد ہم اتنے خوش کہ ایک گھنٹہ گپیں بھی ماریں: عقیل کریم ڈھیڈی
چونیاں: بچوں سے جنسی رغبت رکھنے اور انھیں اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والوں کو کیسے پہچانا جائے؟
آرمی چیف اور کاروباری افراد میں ملاقات کی اندرونی کہانی: رؤف کلاسرا کی زبانی
Ad
’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟
ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کاپی رائٹ 'ہم سب' ڈاٹ کام. بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے



















تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں