عرفان 2

فقیر نور محمد سروری قادریؒ

عرفان حصہ اوۤل

حضرت قبلہ کا نامِ نامی اور اسمِ گرامی فقیر نور محمد صاحبؒ سروری قادری تھا۔ آپؒ کی ولادت با سعادت صوبہ سرحد کے ایک غیر معروف اور دور افتادہ مقام کلاچی، ضلع ڈیرہ اسماعیل خاں میں ۱۸۸۳ ؁ ء میں ہوئی۔ آج سے چھ سو سال قبل کے تاریخی پس منظر میں ہمیں آپؒ کا سلسلۂ نسب ایک نجیب الطرفین سیّد حضرت میر سیّد محمد گیسو دراز رحمتہ اللہ علیہ سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب حضرت گیسو دراز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے عنفوانِ شباب میں کوہِ سلیما ن کی پُر کشش وادیوں کو اپنا عارضی مسکن بنا لیا۔ یہاں رہ کر آپؒ عقد و مناکحت کے رشتوں میں منسلک ہوئے اور پھرجب یہاں سے روحانی مصلحتوں کے پیشِ نظر عازمِ ہندوستان ہوئے تو ہندوستان کے مرکز دہلی سے ہو کر حیدر آباد دکن میں گلبرگہ کے مقام پر اپنی مستقل اور ابدی آرام گاہ بنا لی۔ مگر کوہِ سلیمان کی گُل پوش اور حسین و جمیل وادیوں میں اپنے خون، نسل اور نسب کا ایک وسیع سلسلہ چھوڑ گئے۔ اسی شریف خون، نجیب نسل اور پاکیزہ نسب سے حضرت قبلہ فقیر صاحبؒ کا تعلق ہے۔ باطنی اور روحانی طور پر اس سلسلۂ طریقت کے لحاظ سے آپؒ سلطان العارفین حضرت سلطان باہو قدس اللہ سرہٗ العزیز کے ساتھ لازوال اور ابدی نسبت رکھتے ہیں اور ان دونوں نسبی اور روحانی مقدس رشتوں نے آپؒ کو فقر کا وہ ارفع اور اعلیٰ روحانی مقام بخشا ہے جس کی صدیوں سے کوئی نظیر نہیں ملتی۔
آپؒ حضرت سلطان العارفینؒ کے بے مثل، بے بدل اور لازوال فقر کے کامل مظہر، مکمل نمونہ اور کما حقہ ٗآئینہ دار تھے ۔ آپؒ کی زندگی کا سب سے بڑا کمال اور عظیم کارنامہ یہ ہے کہ حضرت سلطان العارفین ؒ کا جو فقر کتابوں کی اوٹ میں جا کر ایک اجنبی زبان(فارسی) کے پردوں میں دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا اور جو تصوف کی مشکل اصطلاحات کے پس منظر میں چُھپ کر قصۂ پارینہ اور داستانِ ماضی کی صورت اختیار کر گیا تھا اُسے آپؒ نے مذکورہ دبیز پردوں اور حجابات سے نکالااور آسان، سہل اور عام فہم بنا کر از سرِ نو دنیا کے سامنے پوری آ ب و تاب کے ساتھ پیش کر دیا او ر اس کی ایسی پرکشش تشریح اور دلکش تو ضیح کی کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔ آپؒ نے حضرت سلطان العارفین ؒ کی تصانیف کے قلزمِ بیکراں میں مسلسل تیس سال تک شناوری اورغواصی کرنے کے بعد دو ایسے نایاب اور منور گوہر ڈھونڈ نکالے جن کی چمک دمک اور ضیا پاشیوں سے پوری روحانی کائنات روشن ہے۔ ان دو نایاب گوہروں میں سے ایک گوہر تصور اسم اللہ ذات کا پاک شغل ہے اور دوسرا دعوت القبور کا بیش بہاء طریقِ کار ہے۔ حضرت سلطان العارفین ؒ کے لازوال فقر کا مقدس قصر انہی دو بنیادوں پر ایستادہ اور استوار ہے۔ دنیا گواہ ہے کہ اس بات کی نشاندہی سب سے پہلے حضرت فقیر صاحبؒ نے کی۔ آپؒ ہی اس فقر کے نشاۃِ ثانیہ کرنے والے تھے اور آپؒ ہی اس فقر کے احیا اور اجرا کنندہ تھے۔
یہ ایک عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ حضرت گیسو دراز ؒ کے نسبی سلسلے میں تقریباً چھ سو سال تک کوئی ایسی ہستی ظہور پذیر نہ ہو سکی جو فقر و تصوف کی ان بلندیوں اور رفعتوں تک پہنچ سکتی جن تک حضرت فقیر صاحب ؒ پہنچے تھے اور حضرت سلطان العارفینؒ کے روحانی طریقت کے سلسلے میں تقریباً چار سوسال کے عرصہ میں کوئی ایسی شخصیت منصہ شہود پر نہ آ سکی جو ان کے فقر کا مکمل آئینہ دار ہوتی۔ حضرت فقیر صاحبؒ پرایک طرف سے نسبی شرافتیں آکر مرکوز ہوگئیں اور دوسری طرف سے سلسلۂ طریقت کی روحانی سعادتیں آپ کی ذاتِ ستودہ صفات میں مجتمع ہو گئیں اور ان دو طرفہ نسبی شرافتوں اور روحانی سعادتوں کے مبارک اجتماع نے آپؒ کے اندر وہ روحانی کمال پیدا کردیا جو اس نسبی اور روحانی سلسلے کے کسی فرد میں آج تک پیدا نہیں ہوا تھا۔ گویا نسبی سلسلے کی شرافتیں اور روحانی سلسلے کی سعادتیں ایک مقدس امانت کے طور پر آپؒ کے وجودِ مسعود کا انتظار کر رہی تھیں اور جب آپؒ کا ظہور ہوا تو ان شرافتوں اور سعادتوں نے آپؒ کی ذاتِ والا صفات میں مل کر قران السعدین کی صورت میں جلوہ گر ہو کر آپؒ کو اپنے وقت کی عظیم ترین روحانی شخصیت بنا دیا۔ 
آپؒ کے والدبزرگوار کا اسمِ گرامی حضرت حاجی گل محمد صاحبؒ تھا جو نہایت متقی اور پرہیز گار بزرگ تھے۔ حضرت فقیر صاحبؒ کے متعلق انہیں ابتدا ہی سے یقین تھا کہ یہ صاحبِ کمال نکلیں گے چنانچہ انہیں اس سلسلے میں پہلے سے بشارت اور آگاہی بھی ہو چکی تھی۔
حضرت فقیر صاحبؒ نے ابتدائی تعلیم کلاچی میں پائی۔ عربی فارسی گھر پر پڑھتے رہے۔ میٹر ک کے بعد آپؒ نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیالیکن وہاں آپؒ پر کچھ ایسی شدید روحانی کیفیات اور واردات طاری ہو گئیں کہ سب کچھ چھوٹ کررہ گیا۔ سکول سے کالج تک پہنچنے اور پھر کالج چھوڑ کر تارک الدنیا ہونے اور درویشی اختیار کرنے تک آپ کو جن ذہنی اور داخلی کیفیات اورخارجی مساعد اور نامساعد حالات اور کش مکش سے گزرنا پڑا وہ انتہائی دلچسپ، روح پرور اور ہدایت آموز ہیں۔ ان کی تفصیل بہت طویل ہے اور ’’حیاتِ سروری‘‘ میں درج ہے۔ مختصراً یہ کہ آپؒ نے روحانی جذب و شوق کے تحت دنیا وی ظاہری تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیا و مافیہا تک کو ترک کردیا اور فقط اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو کر رہ گئے۔ آپؒ کی زندگی میں ایک انقلاب آگیا اورآپؒ نے مکمل درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔ ذکرِ الٰہی آپؒ کا دن رات کامحبوب مشغلہ بن گیا۔ آپؒ نے آستانِ یار پر جا کر دم لیا۔ حضرت سلطان العارفین ؒ کے مزارِ مقدس پر ایک کچے حجرے کو آپؒ نے اپنی کائنات بنا لیا۔ وہاں پہلے پہل آپ کی طبیعت کسی سے نہیں لگتی تھی۔ دل میں ایک عجیب اجنبیت سمائی ہوئی تھی۔ درویشوں کے ہمراہ صرف آدھے پیٹ رُوکھی سُوکھی کھانے، فرشِ خاک پر سونے، ایک گودڑی اوڑھنے اور تہبند باندھنے کے سوا اور کچھ میسر نہ تھا اور اسی میں دل مطمئن اور روح مسرور تھی۔ انہی ایّام میں سلطان العارفین ؒ کی ایک قلمی کتاب آپؒ کی نظروں سے گزری۔ اس کا آپؒ نے بہت غور سے مطالعہ کیا۔ آپؒ نے یوں محسوس کیا گویا معرفت اورفقر کا ایک بیش بہا خزانہ ہاتھ آ گیا ہے اس کے مطالعے میں اس قدر لطف آیا کہ برسوں حضرت سلطان باہوؒ کی کتابوں کے مطالعے میں گزار دئیے۔ ان کتابوں کو آپؒ نے پیرِ صحبت بنایا اور انہی سے سب کچھ حاصل کیا۔ ان کتابوں کی کتابت اور مطالعے کے دوران بعد میں یہ حالت ہو گئی کہ دن کے وقت آپؒ کو سلوک کے جس مقام، حال، منزل اورجس باطنی و روحانی معاملے اورواقعے کو لکھنے اور پڑھنے کا اتفاق ہوتا رات کو حضرت سلطان العارفینؒ کی باطنی توجہ اور نوری نگاہ سے وہ منزل اور مقام طے ہو جاتا اور ہر تحریر شدہ معاملہ اور واقعہ مکمل طور پر آپ پر وارد اور منکشف ہو جاتا۔ آپؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حضرت سلطان العارفین ؒ نے یہ سب کتابیں صرف میری ہی خاطر قلم بند فرما کر چھوڑی تھیں۔ کیونکہ آج تک ان کتابوں کو میری طرح نہ کوئی سمجھ سکا ہے اور نہ سمجھا سکا ہے اورنہ ہی ان سے کوئی اس قدر استفادہ کر سکا ہے جس قدر میں نے کیا ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

گندی شاعری

شہوانی و گندی شاعری

مراقبہ ، کنڈالینی ٹ ، قسط دوئم