عرفان 3
آپؒ نے عمر کے آخری پانچ سال پنجاب میں گزارے ۔اگست ۱۹۵۵ ء میں پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرح آپؒ کے آبائی شہر کلاچی میں بھی سیلاب آیا اور آپؒ کے مکان کومع مال و اسباب بہا کر آپ کو درویشِ بے مایہ اور فقیرِ بے سرو سامان بنا گیا۔ آپؒ نے اپنے نقصان پر بجائے اظہارِ رنج و غم کے خوشی کا مظاہرہ کر کے فرمایا کہ ہم فقیر لوگ ہمیشہ خانہ ویران اور باطن معمور رہتے ہیں اور یہی ہمارا اصلی شیوہ اور مقام ہے۔ اس کے بعد آپؒ فیصل آباد چلے گئے اور آخر وقت تک وہیں قیام پذیر رہے۔ فیصل آباد میں اگر چہ آپؒ کو کافی آرام میسر تھا لیکن یہاں کی آب و ہوا آپؒ کو راس نہ آئی اور آپؒ کو مختلف جسمانی عوارض لاحق ہو گئے۔ عمر بھی کافی ہو چکی تھی، قویٰ مضمحل ہو گئے تھے اور عناصر میں اعتدال والی بات بھی مفقودتھی۔ چنانچہ جو مرض جان لیو اثابت ہوا وہ جگر کی رسولیاں اور ورم تھا۔
وفات سے تین دن پیشتررات کے وقت آپؒ کافی دیر تک مجھ سے گفتگو کر تے رہے۔ اثنائے گفتگو مجھ سے فرمایا: ’’عبدالحمید! بہت پہلے کی بات ہے تم ابھی کمسن ہی تھے۔ ہم دربار حضرت سلطان العارفینؒ پر مقیم تھے ایک رات میں نے واقعہ میں دیکھا کہ میں تمہیں اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیتا ہوں اور اپنا سارا نور تمہارے وجود کے اندر بھر دیتا ہوں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ایک اور واقعے میں مَیں نے دیکھا کہ میں تمہارا سرکاٹ کر اپنا سر تمہاری گردن پر جوڑ دیتا ہوں۔‘‘ پھر فرمایا:’’تمہاری والدہ نے تمہاری ولادت سے چند دن پیشتر اپنی گود میں سنہری قرآن مجید دیکھا تھا مجھے تم پر مکمل اعتماد ہے ۔‘‘
۱۶ اکتوبر ۰ ۱۹۶ ء کو جب کمزوری کافی بڑھ گئی تو فرمایا میں وصیت کرنا چاہتا ہوں اور میں تمہیں اپنا روحانی جانشین مقرر کرناچاہتا ہوں۔ چنانچہ عرائض نویس کو بلایا گیا۔ آپؒ نے اپنی وصیت اپنے سامنے لکھوائی، اس پر دستخط فرمائے جب وصیت نامہ مکمل ہو گیا تو میرے حوالے کر دیا۔ وصیت نامے کی رُو سے آپؒ نے راقم الحروف کو اپنا روحانی جانشین اور اپنے سلسلے کا روحانی سربراہ مقرر فرمایا ۔ بعد میں ارشاد فرمایامجھے اب مزید زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں رہی، میں نے جو کام کرنا تھا وہ میں نے پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔ اب میں بڑی بے صبری کے ساتھ موت کی راہ دیکھ رہا ہوں۔ پھر یہ شعر پڑھا
بہ مرگِ خویش ہماں طور آرزو مندم
چنانکہ بود بہ آبِ حیات اسکندر
۱۶ اکتوبر کے بعد ۱۷ اکتوبر کا دن بھی حسبِ معمول گزر گیا۔ رات ہوئی کائنات اندھیرے میں ڈوب گئی اور اسی کے ساتھ ہمارے دلوں پر بھی مایوسیوں اور ناامیدی کے گھمبیر اندھیرے چھا گئے۔ اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی اورآپؒ کی زندگی کاکوئی امکان بھی روشن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ رات ہمارے لیے قیامت کی رات تھی۔ اسی رات وہ آفتابِ عرفان غروب ہونے والا تھا جس کی ضیاء پاشیوں نے ہزاروں تاریک دلوں کومنور کر دیا تھا۔ اسی رات وہ چراغِ ہدایت گُل ہونے والا تھا جس نے کفر و اِلحاد اور دہریت کی شبِ تار میں بھٹکی ہوئی انسانیت کے لیے صراطِ مستقیم کی نشاندہی کی تھی۔ رات کے ایک بجے آپؒ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی اور داعئ اجل کو لبیک کہا ۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo
عمر ہا درکعبہ وبت خانہ مے نالد حیات
تاز بزمِ عشق یک دانائے راز آیدبروں
احقرالعباد
فقیر عبدالحمید سروری قادری ۱۹۸۲ ء
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں